ایران:احتجاج 100 سے زائد شہروں میں پھیل گیا، 47 ہلاک، ، انٹرنیٹ بند، پروازیں منسوخ

تہران(ایجنسیاں)ایران میں مہنگائی اور خراب معاشی صورتحال کے خلاف عوامی احتجاج شدت اختیار کرگیا ہے اور یہ مظاہرے ملک کے تمام 31 صوبوں میں 100 سے زائد شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق اب تک کم از کم 47 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 2500 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دارالحکومت تہران، مشہد اور دیگر بڑے شہروں میں گزشتہ رات حکومت مخالف مظاہرین نے مارچ کیا اور متعدد مقامات پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

بڑھتے ہوئے احتجاج کو قابو میں رکھنے کیلئےحکام نے پورے ملک میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی ہے، ٹیلی فون کالز بھی معطل ہیں جبکہ ایران کا دنیا سے مواصلاتی رابطہ تقریباً منقطع ہو چکا ہے۔ نیٹ بلاکس کے مطابق ایران گزشتہ کئی گھنٹوں سے مکمل طور پر آف لائن ہے۔ اسی صورتحال کے باعث متعدد بین الاقوامی پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔ دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق دبئی اور ایران کے درمیان کم از کم 6 پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ ترک ایئر لائنز نے استنبول سے تہران، تبریز اور مشہد کیلئے متعدد پروازیں منسوخ کر دیں۔ فلائٹ ریڈار کے مطابق بعض پروازیں ایرانی فضائی حدود سے واپس بھی لوٹ گئیں۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام سے خطاب میں اتحاد اور یکجہتی برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ کچھ فسادی عناصر عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کسی غیر ملکی طاقت کیلئےکام کرنے والے کرائے کے فوجیوں کو برداشت نہیں کرے گا اور ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ وہ ایران کے معاملات میں مداخلت کے بجائے اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔

دوسری جانب ایران نے اقوام متحدہ سے ریاستی خودمختاری کے تحفظ اور غیر ملکی مداخلت روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ داخلی معاملات پر امریکی بیانات مداخلت اور دھوکا دہی کے مترادف ہیں اور یہ ایران کے خلاف دشمنی اور دباؤ کی پالیسی کا تسلسل ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی بیانات عوام سے ہمدردی نہیں بلکہ بدامنی اور تشدد کو ہوا دینے کی کوشش ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ آئین کے تحت پُرامن احتجاج کو تسلیم کیا جاتا ہے اور جائز عوامی مطالبات قانون کے دائرے میں حل کیے جائیں گے۔

وزارت خارجہ کے مطابق ایران میں جاری معاشی مشکلات کی بڑی وجہ غیرقانونی اور ظالمانہ امریکی پابندیاں ہیں اور امریکا ایران کے خلاف صرف معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی اور میڈیا جنگ بھی کر رہا ہے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ دنیا بھر میں امریکی فوجی حملوں یا جارحیت کا حکم دینے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں اور بحیثیت کمانڈر اِن چیف اپنے اختیارات کی حد کا تعین وہ خود کرتے ہیں۔