ایرانی قونصل جنرل سےایک ملاقات

قوموں کی زندگی میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں جب تعلقات محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک اخلاقی امتحان بن جاتے ہیں،یہ وہ وقت ہوتا ہے جب خاموشی بھی ایک مؤقف ہوتا ہے اور ایک جملہ بھی تاریخ کا رخ متعین کر سکتا ہے، آج ہمارا خطہ ایک ایسے ہی نازک دور سے گزر رہا ہے، جہاں پاکستان اور ایران کے درمیان ابھرنے والی یکجہتی نہ صرف قابلِ تحسین بلکہ ایک اصولی، اخلاقی اور تاریخی موقف کی عکاس بھی ہے،اس سلسلے میں پاکستانی حکومت ، قوم اور میڈیا کا کردار کوئی ڈھکا چھپا نہیں رہا ،پاکستانی قوم اور میڈیا کے جذبات ،احساسات اور خیالات اس حوالے سے کیا ہیں اور برادر ملک ایران اسے کس نظر سے دیکھ رہا ہے، یہ سب بتانے اور جاننے کیلئے ضروری تھا کہ لاہور میں ایرانی قونصلیٹ کے قونصل جنرل محترم مہران مواحد سے ملاقات کی جائے،اس سلسلے میں پاکستان ڈیجیٹل میڈیا فیڈریشن کا ایک وفد ہنگامی بنیادوں پر تشکیل پایا جس نے منگل کی دوپہر ایرانی قونصل جنرل سے ملاقات کی،وفد میں ملک سلمان ،میاں حبیب اللہ،زاہد عباس نقوی،ثانیہ اسحاق،سمنہ کمال،بتول راجپوت،ڈاکٹر وردہ سکندر،امل چوہان،سعدیہ جٹ اور راقم شامل تھے۔

ہماری اس ملاقات کو محض ایک رسمی سرگرمی سمجھنا حقیقت سے چشم پوشی ہوگی، یہ ملاقات دراصل پاکستانی قوم کے اجتماعی ضمیر کی آواز تھی، جس نے مشکل وقت میں اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا، وفد کی جانب سے اظہارِ تعزیت اور یکجہتی اس بات کا ثبوت تھا کہ پاکستان کے عوام دکھ کی گھڑی میں تماشائی نہیں بنتے بلکہ ساتھ نبھاتے ہیں، ایسے اقدامات وقتی نہیں ہوتے بلکہ طویل المدتی تعلقات کی بنیاد بنتے ہیں، ایران کی جانب سے اس جذبے کا اعتراف بھی اسی قدر اہم ہے، قونصل جنرل مہران مواحدنے اسے سراہا اور وفد کا شکریہ ادا کرنے کے علاوہ موجودہ جنگی صورتحال سے بھی تٖصیلی طور پر آگاہ کیا ،جس کا لب لباب تھا کہ ایران نے امن قائم رکھنے کی پوری کوشش کی ،وہ امریکہ کو کوئی بہانہ نہیں دینا چاہتے تھے اس لئے مزاکرات میں شرکت کی ،انہوں نے بتایا کہ عمان ان مزاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا اور اس کا بھی کیال تھا کہ یہ مزاکرات اچھے اختتام کی جانب بڑھ رہے ہیں،مگر ہم پر جارحیت مسلط کر دی گئی اور اب ہم مقابلہ کر رہے ہیں،قونصل جنرل کی باتوں سے قبل وفد میں شریک میڈیا کے تمام ارکان نے بھی پاک ایران تعلقات اور موجودہ عالمی منظر نامے کے حوالے سے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔

قونصل جنرل کی باتیں اپنی جگہ بڑی اہمیت کی حامل ہیں،اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ دنوں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا، وزیر خارجہ اور قونصل جنرل ،دونوں کے الفاظ میں جو خلوص اور اپنائیت تھی وہ اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ مشکل وقت میں دی گئی حمایت محض سفارتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنتی بلکہ قوموں کے دلوں میں جگہ بنا لیتی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ امریکی اور صہیونی جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کی یکجہتی ایران کیلئے حوصلے کا باعث بنی ہے اور یہ کہ دوست ممالک اور عوام کی حمایت سے موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ یہاں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان کی اس حمایت نے نہ صرف ایران کو اخلاقی تقویت دی بلکہ عالمی سطح پر ایک واضح پیغام بھی دیا کہ اصولوں پر مبنی خارجہ پالیسی اب بھی زندہ ہے، ایک ایسے وقت میں جب اکثر ممالک مفادات کی سیاست میں الجھ کر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں، پاکستان کا یہ رویہ اسے ایک باوقار اور خوددار ریاست کے طور پر نمایاں کر رہا ہے۔ دوسری طرف ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کا اپنی شہادت سے قبل عالم اسلام کے نام پیغام ایک تلخ مگر ضروری سچائی کی نشاندہی کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے خلاف اس کشمکش میں ایران کو تنہا چھوڑ نا اور مسلم دنیا کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے، ان کا یہ کہنا کہ امریکہ کبھی وفادار نہیں رہا اور اسرائیل ایک مستقل دشمن ہے، محض ایک بیان نہیں بلکہ ایک تاریخی تجربے اور مسلسل مشاہدے کا نچوڑ ہے، یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا امتِ مسلمہ اس بار بھی اسی طرح منتشر رہے گی یا تاریخ سے کوئی سبق سیکھے گی؟ لاریجانی شہید یہی کہنا چاہتے تھے کہ اگر مسلم دنیا متحد ہو جائے تو نہ صرف اپنی سلامتی بلکہ خودمختاری، معاشی ترقی اور سیاسی وقار کو بھی یقینی بنا سکتی ہے۔

پاکستان نے اس صورتحال میں اب تک ایک متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے جو محض جذباتی بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی سفارتکاری پر یقین رکھتا ہے، امن، مکالمہ اور استحکام یہی وہ اصول ہیں جن پر پاکستان کا مؤقف قائم ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو خطے کو کسی بڑے بحران سے بچا سکتا ہے، اسی تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مسلسل مشاورت ایک مثبت پیش رفت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کے اہم ممالک حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہیں اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں، سفارتکاری کا یہی تسلسل دراصل بڑے تصادم کو روکنے کا واحد مؤثر ذریعہ ہوتا ہے، دوسری طرف پاکستان اور ایران کے تعلقات کا ماضی اور حال کے حوالے سے ذکر بھی نہایت اہم ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان قریبی رابطہ اور باہمی اعتماد خطے میں ایک توازن پیدا کرتا ہے، دفتر خارجہ کی جانب سے غیر ضروری قیاس آرائیوں کی تردید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں شفافیت اور سنجیدگی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔

ایران کے ساتھ مضبوط شراکت داری نہ صرف معاشی میدان میں بلکہ تزویراتی سطح پر بھی پاکستان کی پوزیشن کو مستحکم کرتی ہے،اس تمام پیش رفت کے درمیان ایک حقیقت سب سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے اور وہ ہے اتحاد کی ناگزیر ضرورت، آج امتِ مسلمہ جس انتشار، تقسیم اور باہمی عدم اعتماد کا شکار ہے، وہ اسے کمزور کر رہا ہے۔ ایسے میں ایران کی جانب سے اٹھنے والی آواز اور پاکستان کی جانب سے دی جانے والی حمایت ایک امید کی کرن ہے، جو یہ بتاتی ہے کہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا، یہ وقت صرف بیانات دینے کا نہیں بلکہ عملی فیصلے کرنے کا ہے، ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم تاریخ میں کس کردار کے ساتھ یاد رکھے جائیں گے خاموش تماشائی کے طور پر یا حق کے ساتھ کھڑے ہونے والی قوم کے طور پر، کیونکہ تاریخ ہمیشہ ان قوموں کو یاد رکھتی ہے جو مشکل وقت میں درست فیصلہ کرتی ہیں۔

پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنے دوستوں کو تنہا نہیں چھوڑتا، یہ محض ایک سفارتی رویہ نہیں بلکہ ایک قومی روایت ہے، جو ہماری تہذیب، تاریخ اور اجتماعی شعور کا حصہ ہے،یہی وہ خصوصیت ہے جو پاکستان کو دیگر ممالک سے ممتاز کرتی ہے، اگر امتِ مسلمہ نے بھی اس لمحے کو سمجھ لیا، اگر اس نے اتحاد کا راستہ اختیار کر لیا، تو نہ صرف موجودہ چیلنجز کا مقابلہ ممکن ہوگا بلکہ ایک مضبوط، خودمختار اور باوقار مستقبل بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔