ایران پر جاری حملوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک اہم آزمائش سے گزر رہی ہے۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات صرف ہمسائیگی تک محدود نہیں۔ یہ سرحد، مذہب، ثقافت اور تجارت کے رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہر بڑے علاقائی بحران میں پاکستان کی پالیسی ردِعمل پر مبنی دکھائی دیتی ہے، پیش بندی پر نہیں۔ جب بھی ایران اور کسی دوسرے ملک کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے، اسلام آباد کا بیان عمومی نوعیت کا ہوتا ہے:’’ہم خطے میں امن چاہتے ہیں‘‘ سوال یہ ہے کہ کیا صرف امن کی خواہش کا اظہار کافی ہے؟
قارئین! اس وقت ہماری خارجہ پالیسی ہے کیا؟ ہم کس کو سپورٹ کر رہے ہیں، اور کس کے خلاف چل رہے ہیں،،، اگر ہم بقول شخصے ’’آزاد‘‘ ہیں اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یاد رکھیں کہ دنیا میں کوئی بھی خارجہ پالیسی آزاد نہیں ہوتی، ، میں تو کہتا ہوں کہ عمران خان بھی یہ بات غلط کرتے رہے کہ ہم کسی کے غلام ہیں؟ کوئی کسی کا غلام تو نہیں ہوتا، مگر اسٹیٹس کے آپس میں گروپس ضرور ہوتے ہیں،،،اورسب کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں،،، آپ کو کسی نہ کسی گروپ کو جوائن کرنا پڑتا ہے، دنیا کو یہ دکھانا پڑتا ہے کہ آپ کا جھکائو کس بلاک کے ساتھ ہے، ہر وقت آپ مصلحت پسندی کا شوق نہیں پال سکتے۔۔۔ آپ کو کسی ایک گروپ کو جوائن کر کے، پھر اُس کا اعتماد حاصل کرنا پڑتا ہے کہ وہ مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں، یا آپ مشکل وقت میں اُن کے ساتھ کھڑے ہوں۔
اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے میرے حلقے میں ملک احمد خان کا سپورٹر ہوں اور ملک احمد خان کو بھی علم ہے کہ میں نے کہیں نہیں جانا۔ پھر اسی طرح صحافیوں کی تنظیموں میں دیکھ لیں، کہ تمام احباب اور حلقے یہ بات جانتے ہیں کہ میں جرنلسٹ گروپ کو سپورٹ کرتا ہوں، اس لیے میرے پاس کو ئی دوسرا گروپ آتا بھی نہیں ہے کہ ان کا جھکائو فلاں گروپ سے ہے،،، اور اگر کوئی آبھی جائے تو میں معذرت کر لیتا ہوں کہ میں آپ کو سپورٹ نہیں کر سکتا۔۔۔ اور منافقت مجھ سے ہوتی نہیں ہے۔ لیکن یہ کیا؟ کہ ایک ہی وقت میں آپ چین کا سی پیک ساتھ لے کر چل رہے ہیں،،، ڈونلڈ ٹرمپ کی گڈ بک میں بھی ہمہ وقت شامل رہنا چاہ رہے ہیں،،، پھر روس کا دورہ بھی آپ کے شیڈول میں ہے،،، اور ترکی کو بھی اپنا بھائی سمجھتے ہیں،، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ سٹریٹجک پارٹنر شپ بھی ہے، ، جبکہ عین اسی وقت ایران پر حملوں کی مذمت بھی کر رہے ہیں،،، اور پھر عین اُسی وقت ایران کی طرف سے کیے گئے خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت بھی کر رہے ہیں،،، پھر یہی نہیں بلکہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ایران جنگ میں اسرائیل و امریکا کو رام کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ ہاں اگر امریکا یا کوئی طاقتور ملک آپ سے کہہ دے کہ آپ آئیں اور ثالثی کا کردار ادا کریں،،، تو پھر بات اور ہوتی ہے،،، مگر اُس سے پہلے آپ کی ساری کاوشیں کوئی معنی نہیں رکھتیں۔
خیر بات ہو رہی تھی دوسرے ملکوں کی خارجہ پالیسی کی تو اس وقت سب کو پتہ ہے کہ کون کون سا مسلمان ملک امریکا کے ساتھ کھڑا ہے،برطانیہ، فرانس جرمنی، بلکہ پورا یورپ امریکا کے ساتھ کھڑا ہے، پھر سب کو علم ہے کہ روس ، چین اور ترکی ایک گروپ میں ہیں،،،پھر سب کو یہ بھی علم ہے کہ شمالی کوریا چین کے ساتھ اور امریکا مخالف ہے۔۔۔ جبکہ اس کے برعکس نہ تو ہماری آج تک کسی کو سمجھ آئی ہے کہ ہم کس کے ساتھ کھڑے ہیں اور نہ ہی ایران کی سمجھ آئی ہے کہ اُس نے کس گروپ کو جوائن کر رکھا تھا،،، اور اگر چین روس والے گروپ کو جوائن کیا ہوا تھا تو وہ اس وقت کہاں ہیں؟ اور پھر ہماری خارجہ پالیسی کا حال دیکھیں، ہم سب کے ساتھ کھڑے بھی ہیں اور نہیں بھی کھڑے،،،یعنی اگر ہم نے چین کے ساتھ کھڑے ہونا ہے تو پھر چین کو بھی یہ محسوس کروائیں کہ ہم بھی صرف اُس کے ساتھ کھڑے ہیں،،، مثلاََ سی پیک کو شروع ہوئے 10سال ہونے کو ہیں،،، مگر مجال ہے کہ ابھی تک وہ تکمیل کے مراحل میں داخل ہوا ہو، کبھی ہم اُسے بند کردیتے ہیں، کبھی سست کر دیتے ہیں تو کبھی چین کو یقین دہانیاں کرواتے نہیں تھکتے کہ آپ ہمارے بھائی ہیں،،، ہماری مجبوریاں سمجھیں وغیرہ وغیرہ اب اگر ایران میں رجیم چینج ہو گیا تو ویسے ہی سی پیک کی ویلیو کم ہو جائے گی،،، اس لیے ہم نے اسکی بھی پیشگی تیاری نہیں کی رکھی۔
پھر ہم نے گوادر پورٹ منصوبہ شروع تو کر لیا، مگر اپنے دوست ملک یو اے ای کو اس حوالے سے اعتماد میں لینا ہی گوارہ نہیں کیا، تبھی وہ اندر کھاتے ہم سے ناراض رہتا ہے،،، اور یہ بات بالکل سیدھی سی ہے کہ جیسے ہی گوادر پورٹ مکمل آپریشنل ہوگیا تو یواے ای پورٹ کی ویلیو کم ہو جائے گی،،، اس لیے کیسے ممکن ہے کہ یوا ے ای آپ کے ساتھ مخلص رہے، حالانکہ وہ ایک ’’برادر اسلامی ملک ‘‘ ہے۔ اس لیے تو میں یہ بات کہتا ہوں کہ بھائی ! سب ایک دوسرے کے ساتھ مفادات کی وجہ سے جڑے ہوئے ہیں، اگر مفادات نہیں ہیں تو سب ایک دوسرے سے جدا ہیں،،، آپ آج گوادر پورٹ بند کر دیں،،، بلوچستان میں آدھی سے زائد دہشت گردی ختم ہو جائے گی، یہی برادر ملک دل سے آپ کو پسند کرے گا،،، اور آپ کی ہر بات پر لبیک کہے گا،،، پھر ہمیں ہمسایہ ممالک کے ساتھ خارجہ پالیسی کی آج تک سمجھ نہیں آئی کبھی ہم امریکا کو ناراض کرنے کے لیے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کا معاہدہ کر لیتے ہیںاور پھر ہم اُس معاہدے سے بھاگ جاتے ہیں،، کہ امریکا نہیں مان رہا! بھئی امریکا نہیں مان رہا تھا تو معاہدہ شروع ہی کیوں کروایا گیا؟ لہٰذاجو ڈنگ ٹپائو خارجہ پالیسی اختیار کرے گا ، دنیا میں وہ یقینا تنہا رہ جائے گا۔
جیسے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے پچھلے دور میں کہا تھا کہ امریکہ نے گزشتہ 15 برسوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر سے زیادہ امداد دی، لیکن اس کے بدلے میں ہمیں’’جھوٹ اور دھوکا‘‘ملا۔ ہماری غلط خارجہ پالیسی ہی کی بدولت 9/11کے بعد ہمارے ایک لاکھ لوگ شہید ہو چکے ہیں، ابھی بھی روز ہمارے فوجی شہید ہورہے ہیں،،، لہٰذاہمیں چاہیے کہ ہم اپنی خارجہ پالیسی کومستقل بنیادوں پر استوار کریں، ہماری اسمبلیاں محض مراعات لینے کے لیے ہیں،، ہماری سینیٹ وغیرہ کو بھی دیکھ لیں،،، کہ وہاں صرف تنخواہوں اور مراعات کی باتیں ہوتی ہیں،،، مجال ہے، کوئی قانون سازی عمل میں لائی جاتی ہو،،، صرف اوپر سے ایک فون آئے تو قانون سازی عمل لائی جاتی ہے،،، مجال ہے کہ پھر اُس پر کوئی اعتراض کرے۔ اس لیے خارجہ پالیسی کو از سر نو ترتیب دیں تاکہ ہم بچ جائیں !

