ایران نے ایٹمی پروگرام پر معاہدہ نہ کیا تو اس پر بمباری ہوگی:ٹرمپ

واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر واشنگٹن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کیا تو اس پر بمباری اور ثانوی محصولات عائد کیے جائیں گے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان بات چیت ہورہی ہے لیکن انہوں نے تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ کوئی معاہدہ نہیں کرتے ہیں تو بمباری ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیکن اس بات کا امکان ہے کہ اگر وہ کوئی معاہدہ نہیں کرتے، تو میں ان پر ثانوی محصولات عائد کروں گا جیسا کہ میں نے چار سال قبل کیے تھے۔

اپنے پہلے دور صدار ت میں ٹرمپ 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان کیے گئے معاہدے سے پیچھے ہٹ گئے تھے جس کے تحت پابندیوں میں نرمی کے بدلے تہران کی متنازعہ جوہری سرگرمیوں کو محدود کردیا گیا تھا۔

معاہدے سے پیچھے ہٹ جانے کے بعد ٹرمپ نے وسیع پیمانے پر امریکی پابندیاں دوبارہ نافذ کیں۔ تب سے ایران نے یورینیم کی افزودگی کے اپنے وسعت پذیر پروگرام میں طے شدہ حدود کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔تہران نے معاہدہ کرنے یا فوجی نتائج کا سامنا کرنے کیلئےٹرمپ کی وارننگ کو اب تک مسترد کیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ آئی آر این اے ’ نے جمعرات کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے سے بتایا کہ ایران نے ٹرمپ کے خط کا جواب عمان کے ذریعے بھیجا ہے، جس میں انہوں نے تہران پر زور دیا تھا کہ وہ ایک نیا جوہری معاہدہ کرے۔

مغربی طاقتیں ایران پر یورینیم کو اعلیٰ سطح تک افزودہ کر کے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت تیار کرنےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے اپنے جوہری پروگرام پر واشنگٹن کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کیا تو اس پر بمباری اور ثانوی محصولات عائد کیے جائیں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق این بی سی نیوز کے ساتھ ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان بات چیت ہورہی ہے لیکن انہوں نے تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ کوئی معاہدہ نہیں کرتے ہیں تو بمباری ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ لیکن اس بات کا امکان ہے کہ اگر وہ کوئی معاہدہ نہیں کرتے، تو میں ان پر ثانوی محصولات عائد کروں گا جیسا کہ میں نے چار سال قبل کیے تھے۔

اپنے پہلے دور صدار ت میں ٹرمپ 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان کیے گئے معاہدے سے پیچھے ہٹ گئے تھے جس کے تحت پابندیوں میں نرمی کے بدلے تہران کی متنازعہ جوہری سرگرمیوں کو محدود کردیا گیا تھا۔

معاہدے سے پیچھے ہٹ جانے کے بعد ٹرمپ نے وسیع پیمانے پر امریکی پابندیاں دوبارہ نافذ کیں۔ تب سے ایران نے یورینیم کی افزودگی کے اپنے وسعت پذیر پروگرام میں طے شدہ حدود کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔تہران نے معاہدہ کرنے یا فوجی نتائج کا سامنا کرنے کیلئے ٹرمپ کی وارننگ کو اب تک مسترد کیا ہے۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ آئی آر این اے ’ نے جمعرات کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے حوالے سے بتایا کہ ایران نے ٹرمپ کے خط کا جواب عمان کے ذریعے بھیجا ہے، جس میں انہوں نے تہران پر زور دیا تھا کہ وہ ایک نیا جوہری معاہدہ کرے۔

مغربی طاقتیں ایران پر یورینیم کو اعلیٰ سطح تک افزودہ کر کے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت تیار کرنے کیلئےایک خفیہ ایجنڈا رکھنے کا الزام لگاتی ہیں، جو ان کے بقول ایک سول جوہری توانائی پروگرام کیلئےجائز ہے۔

تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر سول توانائی کے مقاصد کیلئےہے۔ایک خفیہ ایجنڈا رکھنے کا الزام لگاتی ہیں، جو ان کے بقول ایک سول جوہری توانائی پروگرام کیلئے جائز ہے۔تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر سول توانائی کے مقاصد چہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں