تہران (اے ایف پی/نمائندہ خصوصی)ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ باضابطہ تعاون معطل کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے ردعمل میں کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق، ایرانی پارلیمان نے 25 جون کو بھاری اکثریت سے ایک قانونی بل کی منظوری دی، جس کے تحت IAEA کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کو معطل کیا گیا۔ آج سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ یہ بل تمام مراحل طے کرنے کے بعد قانون کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے بھی اس قانون کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ اس قانون کے مطابق، یہ اقدام “ایران کے جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے تحت حقوق کی مکمل حمایت” اور “یورینیئم کی افزودگی کے حق” کو یقینی بنانے کیلئےاُٹھایا گیا ہے۔
ایران کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے 13 جون کو شروع ہونے والے حملے 12 روز تک جاری رہے، جس کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات اور فوجی کمانڈرز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے بعد تہران اور IAEA کے درمیان تناؤ شدید ہو گیا تھا۔
پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے بعد یہ بل گارڈین کونسل اور صدر کی منظوری سے نافذالعمل ہو گیا۔ تاہم، قانون کے متن میں IAEA کے معائنہ کاروں کے حوالے سے کوئی مخصوص پابندی یا طریقہ کار نہیں بتایا گیا۔
ایرانی حکام نے IAEA پر الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی اور امریکی حملوں پر ایجنسی نے خاموشی اختیار کی، جو اس کے کردار پر سوالیہ نشان ہے۔
ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کی جانب سے ایران میں متاثرہ تنصیبات کا معائنہ کرنے کی درخواست کو تہران نے “بد نیتی” قرار دے کر مسترد کر دیا۔ ایرانی عدالتی عہدیدار علی مظفری نے گروسی پر “فریب کاری اور جھوٹے بیانیے” پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے انہیں اسرائیلی حملوں کی مبینہ تیاری کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
انتہائی قدامت پسند اخبار کیہان نے گروسی کو اسرائیلی جاسوس قرار دے کر پھانسی کی تجویز بھی دی جس پر فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ایسی “دھمکیوں کی مذمت” کی ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ قانون ایرانی عوام کی تشویش اور غصے کی عکاسی کرتا ہے۔
واضح رہے کہ 22 جون کو امریکا نے فردو، اصفہان اور نطنز میں ایرانی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے تھے، جس سے ایران کے مطابق 900 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جس میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی حملوں میں جوہری تنصیبات کو “سنگین نقصان” پہنچنے کا اعتراف کیا، لیکن یہ بھی کہا کہ “کسی بمباری سے سائنسی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں کی جا سکتی”۔

