تہران(ایجنسیاں)ایران نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے آپریشن “وعدۂ صادق سوم” کے تحت حملوں کی پندرہویں لہر کا آغاز کردیا ہے۔ یہ بات ایرانی ذرائع ابلاغ نے جمعرات کو تہران ٹائمز کے حوالے سے رپورٹ کی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (IRGC) نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ کارروائی کے دوران تل ابیب اور حیفہ میں قابض اسرائیلی فوجی مراکز اور عسکری صنعت سے وابستہ تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیاہے.
سرکاری ذرائع کے مطابق، اس مرحلے میں 100 سے زائد جدید جنگی اور خودکش ڈرون استعمال کیے گئے جن کا ہدف اسرائیل کے اینٹی میزائل دفاعی نظام تھے، تاکہ دشمن کے دفاعی ڈھانچے کوغیر مؤثر بنایا جا سکے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ حملے ایک وسیع تر دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں، جن کا مقصد اسرائیلی عسکری اور صنعتی اہداف پر شدید اور مربوط حملوں کے ذریعے زیادہ سے زیادہ تزویراتی دباؤ ڈالنا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے ایرانی شہروں کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔ صیہونی حملوں کے جواب میں ایرانی عوام کے جذبات شدید ہیں اور ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور رضاکارانہ فوجی بھرتی کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔
ایران کی وزارتِ صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں اب تک کم از کم 224 ایرانی شہری شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ ایران نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کیلئےفوری مداخلت کرے اور مشرق وسطیٰ میں قیامِ امن کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ دفاعِ وطن میں کسی قسم کی رعایت یا نرمی نہیں برتی جائے گی، اور جب تک جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، ایران اپنے دفاعی اقدامات جاری رکھے گا۔

