نیویارک(ایجنسیاں)دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی نے ایک بار پھر ٹیکنالوجیکل سنگولیریٹی سے متعلق خدشات اور بحث کو جنم دے دیا ہے، ٹیکنالوجی کے شعبے کی معروف شخصیت ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ انسانیت سنگولیریٹی کے ابتدائی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اے آئی انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔
اسپیس ایکس اور ایکس اے آئی کے سربراہ ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ ’’ہم سنگولیریٹی کے آغاز میں ہیں‘‘، ان کے مطابق اس وقت انسان سورج کی طاقت کا ایک اربواں حصہ بھی استعمال نہیں کر رہا جو مستقبل میں اے آئی کی بے پناہ ترقی کی جانب اشارہ ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ایلون مسک نے اس موضوع پر بات کی ہو، گزشتہ ماہ بھی انہوں نے ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ہم سنگولیریٹی میں داخل ہو چکے ہیں اور 2026ء سنگولیریٹی کا سال ہوگا، ان بیانات نے دنیا بھر میں ایک بڑی تکنیکی تبدیلی کے امکانات کو مزید تقویت دی ہے۔
ادھر ایک نئے وائرل اے آئی پلیٹ فارم مولٹ بک نے بھی سنگولیریٹی سے متعلق قیاس آرائیوں کو ہوا دی ہے، یہ ایک ریڈٹ طرز کی ایجنٹک اے آئی ویب سائٹ ہے جہاں صرف مصنوعی ذہانت ہی پوسٹس، تبصرے اور ووٹنگ کر سکتی ہے جبکہ انسان محض تماشائی ہوتے ہیں، اس پلیٹ فارم پر اے آئی کمیونٹیز، مذہب اور حتیٰ کہ انسانوں کے خاتمے جیسے موضوعات پر گفتگو کرتی نظر آتی ہے۔
واضح رہے کہ سنگولیریٹی کا تصور پہلی بار 1950ء کی دہائی میں ماہرِ ریاضی جان وان نیومن نے پیش کیا تھا، جبکہ 2005ء میں رے کرزویل کی کتاب دی سنگولیریٹی اِز نیئر کے بعد یہ نظریہ عالمی سطح پر مقبول ہوا، رے کرزویل نے 2024ء میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مستقبل میں انسان اور مشین کی ذہانت ایک دوسرے میں ضم ہو جائے گی اور 2045ء تک انسانی شعور میں لاکھوں گنا اضافہ ہو جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سنگولیریٹی وہ تاریخی مرحلہ ہوگا جب اے آئی نہ صرف انسانی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دیگی بلکہ خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کر لےگی، جس کے بعد ٹیکنالوجی، معیشت، طب، تعلیم اور روزمرہ زندگی میں غیر معمولی اور انقلابی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

