پاکستان کی قومی سیاست میں ایم کیو ایم ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ 15اپریل 1985ء کو کراچی میں ہونے والے ایک ٹریفک حادثے نے اس جماعت کی بنیاد رکھی،اس حادثے میں ناظم آباد گرلز کالج کی طالبہ بشریٰ زیدی راہی عدم ہوئیں جبکہ ان کی بہن اور ایک کلاس فیلو شدید زخمی ہوئیں،اس حادثے سے پہلے ایم کیو ایم ایک طلبہ تنظیم کی حیثیت رکھتی تھی، اس حادثے کے بعد گرلز کالج کی طالبات اور قریبی بوائز کالج کے طلبہ نے احتجاج کیا، توڑ پھوڑ ہوئی، بسیں جلائی گئیں، پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس برسائی۔ اگلے دن بشریٰ زیدی کے جنازے کے بعد معاملات کشت و خون کی طرف چلے گئے۔
کراچی میں ٹرانسپورٹ چونکہ پٹھانوں کے کنٹرول میں تھی، لہٰذا یہ لڑائی جھگڑا دو لسانی گروپوں اردو اور پشتو سپیکنگ کے درمیان تیزی سے بڑھا اور گھر اور دکانیں جلائی گئیں۔ کہا جاتا ہے 200 سے زیادہ لوگ مارے گئے،فوج طلب کی گئی،اس وقت تو فوج نے حالات پر قابو پا لیا لیکن مستقل خرابی کی بنیاد رکھ دی گئی تھی۔ غیرجماعتی اسمبلی اور غیرجماعتی سیاست جنرل ضیاء الحق کے طیارے کے بہاولپور کے صحرا میں بکھرنے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی اور پھر 1988ء کے انتخابات میں مہاجر قومی موومنٹ میدان میں آگئی۔ تب سے آج تک مہاجروں کے نام پر سیاست جاری ہے جس کی بنیاد اردو بولنے والا ووٹ بینک ہے، یہ ووٹ بینک نہ صرف کراچی،بلکہ اندرون سندھ بھی کسی حد تک موجود ہے۔ ایم کیو ایم کا اثرورسوخ جنرل پرویز مشرف کے دور میں مزید بڑھا اور جنرل پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد تیزی سے ختم ہوا۔ (یاد رہے کہ جنرل پرویز مشرف خود بھی اردو سپیکنگ مہاجر تھے،ان کے والدین کا تعلق دہلی سے تھا) بہرحال 2013ء اور بعد میں بننے والی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں نے ایم کیو ایم سے ”ماضی جیسا شاہانہ سلوک“ نہیں کیا۔
ایم کیو ایم کے مطابق 2018ء میں ان کا ووٹ بینک چھینا گیا پھر 2024ء کے الیکشن میں ”فارم 47“ پر کامیابی کے باوجود ایم کیو ایم ایک ”چھوٹی جماعت“ بن کر سامنے آئی لیکن وفاق میں ”قیدی نمبر 804“ کی جماعت کو حکومت سے باہر رکھنے کے لئے ایم کیو ایم کی ضرورت پڑ گئی، لہٰذا ”استعمال کرنے والوں“ کے حکم پر ایم کیو ایم نے ایک بار پھر مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے ساتھ تحریری معاہدہ کر لیا، یقینا کچھ لوگ اسکے ضمانتی بھی ہوں گے (لیکن ایسے معاہدے کبھی سامنے نہیں آتے، رات کی تاریکی میں جہاں ہوتے ہیں وہیں دفن ہوجاتے ہیں)۔ اس معاہدے کی بدولت ایم کیو ایم کو سندھ میں اپنے گورنر کامران ٹیسوری کو برقرار رکھنے کا ”حق“ مل گیا (ایم کیو ایم نے اسے اپنا حق ہی سمجھا تھا جبکہ یہ رعایت تھی) اور آج مسلم لیگ (ن) کے ترجمانوں نے یہ واضح کردیا کہ گورنر سندھ کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کو ملنا تھا جو دو سال بعد اسے ملا ہے۔
مسلم لیگ (ن) کو یہ حق سونپے جانے کی وجہ کچھ کامران ٹیسوری اور ایم کیو ایم کی اپنی ”پھلجھڑیاں“ بھی تھیں جنہوں نے ان سے گورنر ہاؤس کراچی چھین لیا۔اب کامران ٹیسوری کا کہنا ہے کہ انہیں علم ہے کہ کس نے انہیں ہٹایا اور کیوں ہٹایا۔ کراچی کے مسائل پر آواز بلند کرنے کی سزا دی گئی ہے، گل پلازہ پر آواز بلند کرنے اور کراچی بچاؤ کانفرنس کے انعقاد کی سزا دی گئی ہے مگر میں ایسے کام کرتا رہونگا، انہوں نے ”دھمکی دی“ کہ ڈریں وہ لوگ جن کے سارے راز میں جانتا ہوں، مگر پاکستان کے معاشی استحکام کے لئے میری سیاسی زبان بند رہے گی، لگتا ہے کامران ٹیسوری پنجاب کے سابق گورنر غلام مصطفی کھر کو فالو کرتے ہیں کیونکہ یہ سٹائل اور یہ دھمکیاں غلام مصطفی کھر ہی دیتے رہے ہیں۔ کامران ٹیسوری کہتے ہیں کہ وہ گونگے بہرے یا ڈمی گورنر نہیں تھے۔ کراچی کے مسائل پر آواز بلند ہوتی رہے گی،اگر چھیڑو گے تو چھوڑیں گے نہیں۔
ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے ٹیسوری کی رخصتی پر کہا ہے کہ انہیں عوامی گورنر ہاؤس بنانے کی سزا دی گئی ہے مگر یہ گناہ کرتے رہیں گے، گل پلازہ متاثرین کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا ملی ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ میں 17 برس کی بدترین حکمرانی کا پردہ فاش ہونے والا تھا اس لئے کامران ٹیسوری کو ہٹایا گیا ہے، ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا روایت ہے سندھ کا گورنر ایم کیو ایم کا ہو گا۔ اب ایم کیو ایم فیصلہ کرے کہ حکومت کو خیرباد کہہ دینا چاہئے، عوام بھی اب احتجاج کے لئے تیار ہیں۔ کراچی کے سابق میئر وسیم اختر نے اپنی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایم کے ایم کو وزارتوں سے استعفے دے دینا چاہئیں، گورنر پر اعتراض تھا تو پہلے پارٹی کی قیادت کو بتاتے۔ 26 ویں اور 27 ویں ترمیم کے لئے جب ہماری ضرورت تھی تو ان کو ووٹ دئیے، اچھے برے وقت میں ان کے ساتھ رہے۔
نئے گورنر سندھ نہال ہاشمی کے سیاسی سرپرست مرحوم مشاہد اللہ خان کے بیٹے مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا ہے یہ بات طے تھی کہ سندھ کا گورنر ہمارا ہو گا،لیکن ایم کیو ایم کی خواہش پر ٹیسوری کو برقرار رکھا، ورنہ دو سال پہلے ہی یہ گورنر ہاؤس سے رخصت ہوجاتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ (ن) کو سندھ میں ”ایک سیاسی دفتر“ چاہئے تھا۔ افنان اللہ خان نے کہا کہ ایم کیو ایم اتحادی جماعت تھی ”وقت سے پہلے“ حکومت سے علیحدہ نہیں ہوگی، یعنی ”پرانی تنخواہ“ پر کام کرتی رہے گی۔
پیپلز پارٹی سندھ کے اہم وزیر شرجیل میمن نے نہال ہاشمی کی بطور گورنر تقرری پر کہا ہے کہ ہم کیا کرسکتے ہیں، ٹیسوری کو ہٹانے کا فیصلہ مسلم لیگ (ن) کا ہے، یہ عہدہ معاہدے کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو ہی ملنا تھا، اب توقع ہے کہ نہال ہاشمی اپنا ”آئینی کردار“ ادا کریں گے، انہوں نے واضح کیا کہ گورنر لگانا وفاق کا اختیار ہے پیپلز پارٹی کا اس سے کیا تعلق۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے نہال ہاشمی کو گورنر سندھ بننے کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اُمید کرتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریاں خوش اسلوبی سے نبھائیں گے۔
ایم کیو ایم کو اب سوچنے کی ضرورت ہے کہ وہ سکرپٹ جس پر وہ گزشتہ چند ماہ سے عمل پیرا تھے، کس نے انہیں دیا تھا۔ 18ویں ترمیم کا خاتمہ، سندھ کی تقسیم کا مطالبہ، پیپلز پارٹی کو دھمکیوں کا سکرپٹ ”کس نے انہیں“ سونپا تھا۔ اسکا ایم کیو ایم قیادت کو بڑی اچھی طرح علم ہے کیونکہ عمل تو انہوں نے ہی کیا ہے۔ ایم کیو ایم کو سمجھ لینا چاہئے کہ موجودہ حالات میں کسی کو ان کی ضرورت نہیں ہے۔ گزشتہ 38 سال سے انہیں ”استعمال کرنے والوں“ نے ہی انہیں اس مقام پر پہنچایا ہے۔ کامران ٹیسوری پاکستانی سیاستدانوں کی روایات پر عمل کرتے ہوئے استعفیٰ دیتے ہی پورے پروٹوکول کے ساتھ کراچی ایئرپورٹ سے عمرے کی ادائیگی کیلئےسعودی عرب چلے گئے۔ سنا ہے پاکستانی سیاست میں اپنا نیا کردار جاننے کے لئے ملک سے باہر گئے ہیں۔

