ایپسٹین فائلز:ٹرمپ نے 1990ء میں ایپسٹین کے نجی جہاز پر آٹھ مرتبہ سفر کیا

واشنگٹن(ایجنسیاں)امریکی محکمۂ انصاف (Justice Department) کی جانب سے تازہ طور پر جاری کردہ ایپسٹین فائلز میں انکشاف ہوا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 1990ء کی دہائی میں سزا یافتہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے نجی طیارے پر حد سے زیادہ بار سفر کیا۔ نئے دستاویزات میں شامل ایک وفاقی پراسیکیوٹر کی ای‑میل کے مطابق پروازوں کے ریکارڈز میں ٹرمپ کا نام کم از کم آٹھ پروازوں میں بطور مسافر درج ہے۔

ان 8 پروازوں میں سے کم از کم 4 پروازوں میں ایپسٹین کی قریبی ساتھی گھسلین میکسویل بھی موجود تھیں، جو بعد میں نوعمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی ہراسانی اور اسمگلنگ کے الزامات میں سزائے قید پائی تھیں۔

ایک پرواز کے ریکارڈ کے مطابق صرف ٹرمپ، ایپسٹین اور ایک نامعلوم 20 سالہ خاتون جہاز پر سوار تھے، جبکہ دیگر پروازوں میں کچھ خواتین بھی تھیں جنہیں میکسویل کیس میں ممکنہ گواہ سمجھا جاتا ہے۔

امریکی محکمۂ انصاف نے ان دستاویزات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان میں شامل بعض دعوے ”سنسنی خیز اور غیر درست“ ہیں، اور یہ 2020ء کے امریکی صدارتی انتخابات سے قبل ایف بی آئی کو دیے گئے بعض الزامات کا حصہ تھے جن کی سچائی ثابت نہیں ہوئی۔

ٹرمپ نے 2024ء میں اپنے سوشل میڈیا پر دعوٰی کیا تھا کہ وہ کبھی بھی ایپسٹین کے جہاز یا اس کے جزیرے پر نہیں گئے، لیکن نئے ریکارڈز ان دعوؤں کے برخلاف معلومات فراہم کرتے ہیں۔ تازہ ریلیز میں تقریباً 30 ہزار صفحات شامل ہیں، جن میں کئی ویڈیو کلپس بھی موجود ہیں، لیکن محکمۂ انصاف کا کہنا ہے کہ بہت سے دعوے غیر مصدقہ یا ناقابلِ توثیق ہیں۔