واشنگٹن( نیویارک ٹائمز) بدنامِ زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق جاری کردہ عدالتی و تفتیشی دستاویزات میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ان کی انتظامیہ کے متعدد عہدیداروں اور خاتونِ اوّل میلانیا ٹرمپ سمیت کئی اہم شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق منظرِ عام پر آنے والی فائلوں میں ٹرمپ سے وابستہ کم از کم 11 افراد کے نام مختلف حوالوں سے درج ہیں۔ واضح کیا گیا ہے کہ کسی فرد کا نام دستاویزات میں شامل ہونا بذاتِ خود کسی جرم کا ثبوت نہیں تاہم بعض روابط اور ملاقاتوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
کانگریس کے رکن جیمی راسکن کے مطابق غیر سنسر شدہ ریکارڈ میں ٹرمپ کے بڑی تعداد میں حوالہ جات موجود ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ہزاروں صفحات پر مشتمل دستاویزات میں ٹرمپ، ان کی اہلیہ اور فلوریڈا میں واقع ان کے کلب سے متعلق متعدد حوالہ جات شامل ہیں۔ بعض رپورٹس میں ایف بی آئی کی ایک ٹپ شیٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے تاہم ان الزامات کی عدالتی سطح پر توثیق نہیں ہوئی۔
دستاویزات میں امریکی وزیرِ تجارت ہاورڈ لٹنک، ڈاکٹر مہمت اوز، سفیر ٹام بیراک، وزیرِ صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیر، ماہرِ معاشیات کیون وارش، کاروباری شخصیت پاؤلو زامپولی، ٹیکنالوجی ارب پتی ایلون مسک اور سرمایہ کار پیٹر تھیل کے نام بھی مختلف مواقع پر سامنے آئے ہیں۔
ایپسٹین کی ساتھی مجرم گھسلین میکسویل کا بھی کئی حوالوں سے ذکر موجود ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق فائلز کی مرحلہ وار اشاعت کے باعث سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے جبکہ متعدد نامزد افراد نے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

