ایچ آر ہیڈ کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے پر تنقید، امریکی ٹیک کمپنی کے سی ای او مستعفی

نیویارک(نامہ نگار) – امریکی ٹیک کمپنی ایسٹرونومر (Astronomer) کے سی ای او اینڈی بائرن (Andy Byron) نے ایک خاتون ایچ آر ہیڈ کے ساتھ عوامی مقام پر نظر آنے والی وائرل ویڈیو پر سوشل میڈیا اور عوامی دباؤ کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ ویڈیو میں نظر آنے والے دونوں افراد کمپنی کے ملازمین ہیں۔

یہ واقعہ بدھ کے روز فاکسبورو، میساچوسٹس میں کولڈ پلے کنسرٹ کے دوران پیش آیا، جب جَمبوٹرون کیمرہ نے ایک مرد اور عورت کو گلے ملتے دکھایا۔ جیسے ہی وہ اسکرین پر نمودار ہوئے، دونوں گھبراہٹ کا شکار دکھائی دیے—مرد کیمرے سے نکلنے کی کوشش کرتا رہا جبکہ خاتون نے چہرہ چھپا لیا۔

گلوکار کرس مارٹن نے ہنستے ہوئے تبصرہ کیا”اوہ اوہ، کیا؟ یا تو ان کا معاشقہ چل رہا ہے یا وہ بہت شرمیلے ہیں۔”

چند ہی گھنٹوں میں، انٹرنیٹ صارفین نے مرد کو اینڈی بائرن اور خاتون کو کمپنی کی چیف پیپل آفیسر، کرسٹن کیبوٹ کے طور پر شناخت کر لیا۔ سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا گیا کہ دونوں کے درمیان دفتر میں ناجائز تعلق ہے۔

ویڈیو نے ٹک ٹاک، X (سابقہ ٹوئٹر) اور دیگر پلیٹ فارمز پر لاکھوں ویوز حاصل کیے اور طنزیہ میمز کی بھرمار ہو گئی، جن میں سب سے زیادہ زور اس بات پر دیا گیا کہ ایک ایچ آر ہیڈ جو دوسروں کو دفتر میں ذاتی تعلقات سے روکتی ہیں، خود اس عمل میں ملوث پائی گئیں۔

ایسٹرونومر نے لنکڈ اِن پر جاری بیان میں کہا”ہماری قیادت سے اعلیٰ اخلاقی معیار اور احتساب کی توقع کی جاتی ہے، اور حالیہ واقعے میں یہ معیار پورا نہیں کیا گیا۔”بیان میں بتایا گیا کہ اینڈی بائرن نے استعفیٰ دے دیا ہے، اور پیٹ ڈی جوی (شریک بانی اور چیف پراڈکٹ آفیسر) کو عبوری سی ای او مقرر کر دیا گیا ہے۔

اس سارے ہنگامے کے دوران بائرن کے نام سے منسوب ایک معذرتی بیان بھی گردش کرتا رہا، جو بعد میں جعلی ثابت ہوا۔ یہ بیان غالباً کسی پیروڈی اکاؤنٹ نے تخلیق کیا تھا۔سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے معاملے پر تنقید کی، بعض کا کہنا تھا کہ”سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ وہ خاتون ایچ آر ہیڈ ہے، یعنی وہی جو دفتر میں تعلقات سے روکتی ہے!”

حتیٰ کہ فلاڈیلفیا فِلِیز بیس بال ٹیم کے شوبز کرداروں نے اس منظر کو اپنے میچ میں ہنسی مذاق میں دوبارہ پیش کیا۔

یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عوامی شخصیات اور کارپوریٹ لیڈرز کی نجی زندگی بھی اب مکمل طور پر نجی نہیں رہی۔ دفتر میں طاقت کے توازن اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، خاص طور پر جب بات ایچ آر قیادت کی ہو۔

مزید یہ کہ، سوشل میڈیا کا دباؤ کسی بھی ادارے کو انتہائی فوری اور سخت فیصلے کرنے پر مجبور کر سکتا ہے، چاہے وہ استعفیٰ ہی کیوں نہ ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں