ایڈمنٹن میں ایمرجنسی میں انتظار کے دوران 44 سالہ شخص کی ہلاکت

ایڈمنٹن، البرٹا(سی بی سی نیوز)کینیڈا کے صوبے البرٹا میں ایڈمنٹن کے گری ننس کمیونٹی اسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں ڈاکٹر کو دکھانے کیلئے طویل انتظار کے دوران 44 سالہ شخص کے انتقال کے بعد صوبائی حکومت نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔

البرٹا کے وزیر برائے اسپتال و جراحی صحت خدمات میٹ جونز نے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ انہوں نے ایکیوٹ کیئر البرٹا اور کووننٹ ہیلتھ کو ہدایت دی ہے کہ وہ مشترکہ طور پر پرشانتھ سری کمار کی ہلاکت کے اسباب اور حالات کا جائزہ لیں۔ واقعہ گزشتہ پیر کو گری ننس کمیونٹی اسپتال میں پیش آیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق پرشانتھ سری کمار کو سینے میں درد کی شکایت تھی اور وہ مبینہ طور پر تقریباً 8 گھنٹے تک ایمرجنسی میں ڈاکٹر کے انتظار میں رہے، جس کے بعد انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ جانبر نہ ہو سکے۔

خاندانی دوست وریندر بھلر کے مطابق سری کمار اپنے دفتر میں موجود تھے جب انہیں سینے میں درد شروع ہوا، جس پر ایک کلائنٹ انہیں اسپتال لے گیا۔ ابتدائی طبی معائنے میں کوئی غیر معمولی بات سامنے نہیں آئی، تاہم ان کا بلڈ پریشر مسلسل بڑھتا رہا اور ٹرائیج کے کچھ دیر بعد انہیں مبینہ طور پر کارڈیک اریسٹ ہوا۔

وریندر بھلر کا کہنا تھا کہ یہ ہلاکت قابلِ گریز تھی اور اگر بروقت طبی مداخلت ہو جاتی تو ان کی جان بچائی جا سکتی تھی۔ ان کے مطابق مرحوم ایک فعال زندگی گزارنے والے، کرکٹ کھیلنے کے شوقین اور اپنے خاندان سے محبت کرنے والے انسان تھے۔

ایکیوٹ کیئر البرٹا نے تصدیق کی ہے کہ وہ تحقیقات میں مکمل تعاون کرے گا اور سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے گا، جبکہ چیف میڈیکل ایگزامنر کے دفتر نے بھی الگ سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مرحوم کے اہلِ خانہ میں اہلیہ اور تین بچے شامل ہیں جن کی عمریں 3، 10 اور 14 سال ہیں۔ خاندان کے واحد کفیل سری کمار تھے جبکہ ان کی اہلیہ ایک خصوصی بچے کی دیکھ بھال کیلئے گھر پر رہتی تھیں۔ اہلِ خانہ کی معاونت کیلئے ایک خاندانی دوست نے فنڈ ریزر بھی قائم کر دیا ہے۔