مالی سال 26-2025ء کے لئے وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا ہے، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے 17 ہزار 573 ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا،بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا، مہنگائی کی شرح کو سامنے رکھیں تویہ اضافہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں،بجٹ کسی بھی ملک کے معاشی اشاریوں اور معیشت کی ترقی کا پتہ دیتے ہیں،بد قسمتی سے ہمارے ہاں بجٹ کی ایک دستاویز جانے کتنے سال پہلے ترتیب دی گئی تھی،ہر نئے بجٹ میں اسی دستاویز کے اعداد و شمار میں معمولی تبدیلی کر کے بجٹ پیش کر دیا جاتا ہے،جدید دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کی رفتار اور شرح کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے ہر اس ملک نے تیزرفتاری سے ترقی کے زینے طے کئے، جس نے تعلیم تحقیق اور ہنر مندی کی تربیت پر توجہ مبذول کی بھاری فنڈز مختص کئے،مگر یہ بد نصیبی نہیں تو کیا ہے کہ ہمارے اربابِ اختیار کے لئے تعلیم،تحقیق،تربیت کبھی ترجیح نہیں رہی،حالیہ بجٹ کا جائزہ لیں تو تعلیم کے لئے گزشتہ سال مختص 38ارب پر بھی کٹ لگا دیا گیا اور قریب 18ارب مختص کئے گئے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے مخصوص بجٹ میں اضافہ کر کے 816ارب روپے مختص کئے گئے،کیا ترقی کی خواہش مند قوموں کی یہ روش ہوتی ہے؟ستم یہ کہ اعلیٰ تعلیم کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا اور اس مد میں کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔
معاشی ترقی کے لئے ضروری مختصر المیعاد اور طویل منصوبہ بندی ضروری ہے،عرصہ دراز سے کبھی فاضل بجٹ پیش نہیں کیا گیا،ہمیشہ خسارے کا بجٹ پیش کیا جاتا ہے اور دلچسپ بات یہ کہ اس خسارے کوکم یا ختم کرنے کے لئے کوئی منصوبہ نہیں دیا جاتا،یوں آج کا بجٹ خسارہ اگلے سال بڑھ جاتا ہے،ترقی پذیر یا مقروض ممالک کے لئے معیشت کی بہتری کا بہترین فارمولا آمدن میں اضافہ اور اخراجات میں کمی ہے،ہم نے، مگر ہر دور میں ایلیٹ کلاس کے لئے بے تحاشا مراعات کا اعلان کر کے اخراجات کو بڑھایا،بجٹ پیش کرنے سے پہلے حکومت نے ارکان اسمبلی،کابینہ، سپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کی تنخواہوں میں کئی گنا اضافہ کر کے ”اخراجات کو کنٹرول“ کیا،بی آئی ایس پی کے فنڈز میں اضافہ کر کے حکومت کی مضبوط شراکت دار پیپلز پارٹی کو سیاسی رشوت دی،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اگرچہ ایک اچھا پروگرام ہے، مگر اس پر جیسے عملدرآمد ہو رہا ہے اِس سے حقدار محروم ہیں اور غیر مستحق لوگ ہر ماہ باقاعدگی سے غریب نادار شہریوں کے پیٹ پر لات مار رہے ہیں،بی آئی ایس پی کے تمام ملازمین ”الاماشااللہ“ اِس پروگرام سے اپنے اور فیملی کے نام پر رقوم حاصل کر رہے ہیں،جن حقداروں کو ملتے ہیں ان پر با اختیار حضرات کی طرف سے باقاعدہ ”ٹیکس“عائد ہے اور رقم لینے والے سے رشوت کے طورپر وصولی کی جاتی ہے، ایک مرتبہ کوئی ذمہ دار اس پروگرام کی سکروٹنی کرائے تو معلوم ہو گا آدھے سے زیادہ فنڈز غیر مستحق، مگر با اختیار لوگوں کی جیب میں جا رہے ہیں،یہ پروگرام قوم کی اکثریت کو بھکاری بنانے کا ”کامیاب پروگرام“ ہے، یہی رقم اگر اعلیٰ تعلیم کے حصول پر خرچ کی جاتی تو جانے کتنے ڈاکٹر قدیر پیدا ہو سکتے تھے، مگر قوم کو تعلیم یافتہ بنانا حکمران طبقہ کی ترجیح ہی نہیں،ان کو ایسی قوم چاہئے، جو ہر وقت ان کی دہلیز پر سر جھکائے جھولی پھیلائے بیٹھی رہے۔
بجٹ میں اخراجات کم کرنے کا کوئی منصوبہ شامل ہے نہ آمدن میں اضافہ کا،اخراجات میں کمی تو ممکن نہیں اس لئے کہ سیاسی اشرافیہ ”جمہور“سے ووٹ لے کر صرف اس لئے اقتدار میں آتی ہے کہ”جمہور“کو ”بچہ جمورا“بنا دیں،خود بادشاہ بن جائیں اور جن کے ووٹ سے اقتدار میں آئے ہیں ان کو رعایا بنا دیں،معیشت کو توانا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بچہ جمورا کو روزگار دیا جائے،ہماری قریب 60فیصد آبادی آج بھی دیہات میں مقیم ہے اور ان کا پیشہ زراعت ہے،لائیو سٹاک ہے،اگر60فیصد آبادی کو معاشی طور پر ان کے پاؤں پر کھڑا کر دیا جائے تو شہریوں کے ساتھ ملک بھی معاشی طور پر ترقی کرے گا،پھر ٹیکس نیٹ میں بھی اضافہ ہو گا اور تنخوا دار طبقہ کو ٹیکس کے مختلف سلیبز متعارف کرا کے ذبح بھی نہیں کرنا پڑے گا،ملک غذائی اجناس میں خود کفیل ہو گا تو درآمدات میں بھی کمی آئے گی اور زرِمبادلہ بچے گا،فاضل پیداوار کی صورت میں برآمدات میں بھی اضافہ ہو گا جس سے زر مبادلہ ملک میں آئے گا،مگر بجٹ میں زراعت کی بہتری کے لئے بھی کوئی ٹھوس اقدام دکھائی نہیں دیتا،بلکہ لگتا ہے کہ کاشتکار کو حکومت نے بے یارو مدد گار چھوڑ دیا ہے،اگر بھیڑ بکریوں، گائے بھینس،دیسی مرغی کی افزائش کا کوئی منصوبہ دیا جاتا تو ملک دودھ،انڈے،گوشت میں خود کفیل ہو جاتا،شہریوں کو روزگار ملتا،جرائم میں کمی آتی،ٹیکس نیٹ بڑھتا، برآمدات میں بھی اضافہ ہوتا کہ دنیا میں گوشت کی طلب بہت زیادہ ہے۔
زراعت اگر ملکی معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی ہے توصنعت کسی بھی ملک کی معیشت کے لئے آکسیجن کا درجہ رکھتی ہے،بد قسمتی سے مختلف حکومتوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ملکی صنعت کا پہیہ جام ہو چکا ہے،بڑے صنعتی ادارے یونٹ بند کر رہے ہیں،ٹیکسٹائل صنعت کا تو بیڑہ ہی غرق ہو گیا، کراچی سے گارمنٹس انڈسٹری بنگلہ دیش منتقل ہو گئی،دنیا بھر میں کسان کو سستی بجلی فراہم کی جاتی ہے تاکہ پیداواری لاگت کم آئے اور عوام کو سستی اشیائے خورو نوش دستیاب ہوں، مگر یہاں کسان بھی سلیبز کی زد میں ہیں، صنعتوں کو بھی سستی بجلی فراہم کرنے کا مقصد ہے صنعتی ترقی،پیداواری لاگت میں کمی سے شہریوں کو سستی اشیا میسر آئیں گی تو عالمی مارکیٹ میں بھی جگہ بنے گی،ہماری برآمدات میں کمی کی واحد وجہ ٹیکس کا بے ہنگم نظام اور بجلی، گیس مہنگی ہونا ہے،جس کی وجہ سے اشیا مہنگی ہیں اور عالمی مارکیٹ میں ہم مقابلہ بازی میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں، بجٹ میں توانائی کے منصوبوں کے لئے بھی کچھ نہیں،بجلی کی پیداوار بڑھانے کے کسی منصوبہ کو حتمی شکل نہیں دی گئی،زور چلے گا بجلی کی قیت میں اضافہ کر کے پہلے بھی صورتحال یہ ہے کہ 200یونٹ کے استعمال پر بل چارہزار سے کم آتا ہے، مگر201یونٹ پر یہی بل 9ہزار ہو جاتا ہے،خواہ ایک ماہ201یونٹ استعمال ہوا،مگر اگلے چھ ماہ بل اِسی نرخ سے آئے گا۔
کہاوت مشہور ہے”نحیف بدن لاغر دماغ،صحت مند جسم توانا دماغ“دنیا بھر میں تعلیم کے بعد حکومتوں کی توجہ شہریوں کی صحت پر ہوتی ہے،علاج معالجہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی ہر حکومت کی ترجیح ہوتی ہے، مگر بجٹ میں شہریوں کی صحت کے حوالے سے کوئی منصوبہ نہیں، روائتی الفاظ کا استعمال کر کے بجٹ تقریر کو دلچسپ بنایا گیا، فضائی آلودگی کے خاتمہ بارے بھی کوئی پالیسی نہیں دی گئی، ملک اگرچہ بہت سے بحرانوں کی زد میں ہے، مگر حکمرانوں کو ”سب اچھا“دکھائی دے رہا ہے،بجٹ کی خوشنما تقریر اپنی جگہ، مگر کسی بھی شہری کو سنا دیں وہ ہنس دے گا یا رو پڑے گا اور کہے گا بھائی یہ گورکھ دھندا کیا ہے؟

