ایک ایٹمی طاقت بڑے پیمانے پرجوہری ہتھیاروں میں اضافہ کر رہی ہے: امریکی عہدیدار

واشنگٹن(نمائندہ خصوصی)امریکا کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے روس اور امریکا کے درمیان آخری جوہری اسلحہ کنٹرول معاہدے نیو اسٹارٹ (New START) پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ بنیادی طور پر ناقص تھا کیونکہ اس میں چین کو شامل نہیں کیا گیا۔ امریکی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے آرمز کنٹرول اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی تھامس جی ڈی نینو نے کہا کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ اب اپنی اہمیت کھو چکا ہے اور ایک ایٹمی طاقت غیر معمولی پیمانے پر اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کر رہی ہے۔

تھامس ڈی نینو کے مطابق صرف ایک جوہری طاقت کے ساتھ دو طرفہ معاہدہ اب مناسب نہیں رہا، چین کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے پر نہ کوئی حد ہے، نہ شفافیت، نہ اعلانات اور نہ ہی کنٹرول کا کوئی نظام موجود ہے، جبکہ امریکی حکومت کو علم ہے کہ چین نے جوہری دھماکا خیز تجربات بھی کیے ہیں۔

روسی سفیر برائے تخفیفِ اسلحہ نے کہا ہے کہ روس جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول یا ان میں کمی سے متعلق مذاکرات میں شامل ہونے کیلئے تیار ہوگا، تاہم اس عمل میں برطانیہ اور فرانس کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ 5 فروری کو اس وقت ختم ہو گیا جب امریکی صدر ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے معاہدے میں وارہیڈز کی حد ایک سال کیلئےبڑھانے کی تجویز پر عمل نہیں کیا۔ روس اور امریکا دنیا کے مجموعی جوہری وارہیڈز کا 80 فیصد سے زائد کنٹرول کرتے ہیں، تاہم گزشتہ برسوں میں جوہری اسلحہ کنٹرول سے متعلق متعدد معاہدے ختم ہو چکے ہیں۔

2010 میں دستخط کیے گئے نیو اسٹارٹ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کو اپنے تعینات اسٹریٹجک جوہری وارہیڈز کی تعداد 1550 تک محدود کرنا تھی، جو 2002 میں مقررہ حد کے مقابلے میں تقریباً 30 فیصد کمی تھی، جبکہ اس معاہدے کے تحت ایک دوسرے کے جوہری ذخائر کے معائنے کی اجازت بھی شامل تھی، تاہم یہ معائنے کووڈ-19 وبا کے دوران معطل کر دیے گئے تھے اور تاحال بحال نہیں ہو سکے۔