ایک نیا طبقہ، نان فائلر یا اچھوت!

سوویت روس کے بکھر جانے کے بعد سے اب دنیا میں طبقاتی جدوجہد کا نشان نہیں رہا، اور اب ایک ہی نظام مختلف شکلوں میں موجود ہے پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہی یہ سلسلہ نہ رہا اور اب تک ہم اشرافیہ کے رحم و کرم پر چلے آ رہے ہیں۔وہ رہنما جو عدم مساوات کو سوشلزم نظام کے ذریعے ختم کرنے کا سبق دیتے وہ بھی اللہ کو پیارے ہوئے اور اب ہمارے پاس عابد حسن منٹو کی صورت میں بائیں بازو کے نظریات کے حامل دانشور ہیں، یا پھر اِکا دُکا ادیب اپنی دانش سے راہ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں اب ایک ہی نظریہ ہے اور اس کے سامنے کوئی دیا نہیں جل رہا، اگرچہ بعض ڈھیٹ ہڈی والے اب بھی بضد ہیں، ایسے دوستوں سے مکمل احترام کے ساتھ عرض ہے کہ ہمارے ملک میں جو طبقاتی نظام اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہے اس میں سچ کے بجائے ذاتی مفادات کا ٹکراؤ ہے ورنہ حزبِ اقتدار ہو یا حزبِ اقتدار ہر دو کا تعلق اشرافیہ سے ہے اِس لئے محروم طبقات کو کسی کے آنے اور جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ تو ہر دور میں استحصال کا شکار رہے اور رہیں گے،اور اب تو ملک میں ایک نیا طبقہ پیدا کر دیا گیا ہے جسے محروم بھی نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ اس نئے طبقے کو اچھوت جیسا درجہ دیا جا سکتا یا جاگیردار کا کمّی کہا جا سکتا ہے جو اس کے برابر بیٹھ بھی نہیں سکتا اور سامنے زمین پر بیٹھنے پر مجبور ہے۔بھٹو وراثت والے آصف علی زرداری کے ہوتے ہوئے بھی اس نئے پسماندہ طبقے کی طرف کسی کی توجہ نہیں۔

بھارت ذات پات کی تفریق کا ملک ہے اور ہندوتوا والے کسی دوسری ذات یا طبقے کو جینے کا حق نہیں دیتے،حتیٰ کہ برہمن تو دوسری ذات کے ہندو کو بھی اپنی رسوئی تک رسائی نہیں دیتے، کچھ ایسے حالات اب میرے پیارے ملک میں پیدا کر دیئے گئے، اشرافیہ سے قربانی کا تقاضہ کرنے والے حکمرانوں نے عیدالاضحی کے مبارک تہوار کے حوالے سے قربانی کے لئے پھر محروم طبقے کو ہی چن لیا ہے اور اب نچلی سطح یا ان کی حد سے کم آمدنی والوں کو معاشرے میں اچھوت ہی کی حیثیت دے دی ہے کہ انکم ٹیکس کی حد سے نیچے کی آمدنی والوں کو تمام مراعات سے محروم کر دیا گیا اور اس کا نام نان فائلر رکھ دیا گیا۔اول تو اب تک یہی نہیں سمجھایا جا سکا کہ یہ فائلر اور نان فائلر کی تخصیص کیا ہے۔اللہ کے بندو اگر تنخواہ دار طبقے کو ہی دیکھو تو سرکاری اور نجی اداروں میں ہزاروں افراد کی ماہانہ اور پھر بارہ ماہ ملا کر آمدنی اِس حد سے کم ہے جو آپ نے انکم ٹیکس کی ادائیگی کے لئے لازم قرار دی اور میں عرض کروں، اس کیٹگری میں میرے سمیت اِس ملک کے اشاعتی اور میڈیا کے اداروں میں ہزاروں کارکن آمدنی یا ماہانہ مشاہرے کے حوالے سے محروم ہیں۔اب آپ کے طے کردہ حوالے سے تو یہ بھی اچھوت ہی ہیں کہ عام تشریح کے مطابق وہ فائلر ہو ہی نہیں سکتے کہ ٹیکس لاگو ہو گا تو گوشوارے بھریں گے۔اس حوالے سے دیہاڑی دار اور ریڑھی والوں کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔

جہاں تک فائلر اور نان فائلر کا تعلق ہے تو یہ اصطلاح اسی دور میں بنی ہے حتیٰ کہ محترم وزیر خزانہ نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے تھے کہ یہ اصطلاح ان کی سمجھ سے ماوراء ہے اس کے باوجود انہوں نے ایف بی آر کے دانشوروں کے سامنے سرنڈر کر کے اب نان فائلر کا نیا محروم طبقہ پیدا کر دیا ہے۔ یہ طبقہ دینی فرائض ادا کرنے کے لئے کمیٹی ڈال کر قطرہ قطرہ جمع کر کے حج پر جانا چاہے تو نہیں جا سکے گا۔اگر ایسے خاندان کے سب فرد مل کر آج کے دور کی ضرورت چھوٹی سی کار خریدنا چاہیں تو نہیں خرید سکیں گے اور یوں نکُو بن کر رہ جائیں گے۔یہ حضرات بنک اکاؤنٹ نہیں کھلوا سکیں گے اور جن کے پہلے سے ہیں ان سے جگا ٹیکس وصول کیا جائے گا وہ بنک سے50ہزار روپے یک مشت نہیں نکلوا سکیں گے اور اگر ایسا کریں گے تو اب ان کو اعشاریہ50 کی بجائے ایک فی صد ٹیکس کے طور پر بھی دینا ہو گا، حساب لگا لیں اگر یہ حضرات ایک لاکھ جمع کرا دیں تو ان کو99ہزار واپس ملے گا،اس طرح یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ بھارتی دلت کی طرح ہو گئے کہ ہر قدم ہر جرمانہ ادا کریں گے۔ہمارے ایف بی آر والے بہت عقلمند ہیں، وہ ٹیکس کی رقم پوری کرنے کے لئے نئے نئے راستے نکال لیتے ہیں جیسے یہ راہ نکالی اور اب یہ بھی پابندی لگائی کہ بڑے سٹوروں سے اشیاء کریڈٹ کارڈ سے خریدیں اور اس خریداری کے حوالے سے کریڈٹ کارڈ کی خریداری رقم پر حکومت بھی ٹیکس لے گی، جبکہ اب آن لائن خریداری کے لئے بھی ایسی ہی شرط ہو گی، تو قارئین! آپ خود حساب لگا لیں کہ اشرافیہ کی اس حکومت نے عوام کا اتنا لحاظ تو رکھ ہی لیا ہے کہ ان کو معززین سمجھنے کے لئے فائلر بننا ہو گا اور فائلر کا مطلب کہ انکم ٹیکس دینا ہو گا اب یہی فارمولا ہے تو پھر آمدنی اور ٹیکس کے سلیبس کا کیا مطلب ہے۔

اللہ کے بندو! آپ ہمیں کس حد تک”فول“ بنائیں گے، ہم تو بجلی کے بلوں میں بھی انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں اور آپ نے ایسے کئی اور خانے بھی بنا رکھے ہیں جن کے تحت آپ پیشگی انکم ٹیکس وصول کر لیتے ہیں،دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ سلسلہ کسی ایک جگہ رُکتا نہیں ہے۔اشرافیہ تو اپنے ماہرین اکاؤنٹس سے ماہانہ اور سالانہ حساب کرا کے ایسی ادائیگی ری فنڈ کرا لیتے ہیں، لیکن بجلی کا بل دینے، ادویات خریدنے اور گراسری والا ایسی ادائیگی کیسے واپس لے گا، ارے بھائی آپ سرکاری خزانے کے لئے ٹیکس لگاتے اور اشرافیہ اس ٹیکس کو شرح صدر کے مطابق اپنی مصنوعات پر عائد کر دیتے ہیں اور ادائیگی خریدار کو کرنا پڑتی ہے اور یوں سب ٹیکس(جن کی تعداد گننا مشکل ہے) بالواسطہ ہیں اور یہ صارف کی جیب سے جاتے ہیں۔

میں اِس حوالے سے اندرون شہر والی بہت سی مثالیں دے سکتا ہوں،لیکن اخلاق مانع ہے ورنہ بہت کچھ عرض کیا جا سکتا ہے۔میرے حکمرانو! کیا یہ بہتر نہیں کہ آپ ہم سب پر رحم کریں اور اس عذاب سے نجات دلا دیں،اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہر شناختی کارڈ کے حامل فرد کو ٹیکس گذار بنا لیں اور یہ حکم صادر فرما دیں جو سو روپے کمائے وہ دس روپے آپ کو ادا کرے اور90گھر لے جائے چاہے چولہا جلے یا نہ جلے، بھائی آپ تو اِس قدر حکمت والے ہیں کہ لقمان بھی آپ کا پانی بھریں،آپ تو غریب، غرباء کی تفریح پر بھی ٹیکس لے لیتے ہیں اور اب تو مرنے پر بھی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے کہ میانی صاحب کے قبرستان میں تدفین بھی پرچی حاصل کرنے اور ٹیکس ادا کرنے کے بعد ہوتی ہے۔ ذرا اشرافیہ سے تو قربانی لے کر بتائیں جسے آپ مراعات سے نواز رہے ہیں اور اس بجٹ میں آپ نے بچتوں کے منافع پر بھی ٹیکس کی شرح بڑھا دی کہ بوڑھے اور ریٹائرڈ لوگ گریجوایٹی جمع کرا کے گذارے کے لئے بچت لیتے تھے۔آپ اس میں حصہ دار بن گئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں