ای او بی آئی مالدار، پنشنر محروم و مجبور!

میڈیا رپورٹس کے مطابق ای او بی آئی کی طرف سے وزیراعظم کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق ادارے (انسٹی ٹیوشن) کے پاس ایک سو 95ارب موجود ہیں، جبکہ سرمایہ کاری کے ذریعے تقریباً ساڑھے چھ سو ارب روپے کے اثاثے بھی ہیں، اس رپورٹ کے مطابق ادارے کی ریکوری بھی پہلے کی نسبت بہت تیز ہے۔ وزیراعظم محمد شہبازشریف نے رپورٹ پر پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ادارے کا دائرہ کار تجارتی حلقے تک بھی بڑھایا جائے۔

یہ رپورٹ بڑی چونکا دینے والی ہے، ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوٹ کے پاس یہ خزانہ اور اثاثے آجر اور اجیر کی آمدنی سے وصول کرنے والی رقوم کی بدولت ہے جس سے اجیر کو فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ اولڈ ایج بینی فٹ پنشنرز ایسوسی ایشن نے اس رپورٹ کو بہتر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارہ جو کارکنوں کی بہبود کے لئے بنایا گیا ان کے معاوضے پر سانپ کی طرح بیٹھا ہے اور بڑھاپے کا سہارا بننے والے مفاد کو پس پشت ڈال کر 2016ء میں ہونے والے فیصلے پر بھی عملدرآمد نہیں کرتا جس کے مطابق ریٹائرڈ ملازم کے لئے بڑھاپے (ای او بی آئی) کی پنشن سرکار کی طرف سے مقرر کردہ مزدور کی ماہانہ تنخواہ کے مطابق کرنے کا فیصلہ ہوا جسے اب تک نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مزدور کی کم از کم اجرت 37ہزار روپے ماہوار ہے اور بڑھاپے کی پنشن بمشکل ساڑھے گیارہ ہزار روپے ماہوار موجودہ مالی سال سے کی گئی ہے اس سے قبل یہ صرف دس ہزار روپے ماہانہ تھی۔ ای او بی آئی انتظامیہ نے بہ امر مجبوری یہ اعدادو شمار دیئے ہیں ورنہ سوال پوچھے جانے پر بھی آمدنی اخراجات،بچت اور اثاثوں کے بارے میں مسلسل خاموشی تھی، اس کے علاوہ یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ ادارے میں چیئرمین اوربورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین سمیت کتنے افسر اور ملازم ہیں اور ان کی ماہانہ تنخواہیں اور مراعات کیا کیا ہیں، حالانکہ قانون کے مطابق ای او بی آئی انتظامیہ پابند ہے کہ یہ تمام تفصیلات عوام کی آگاہی کے لئے مشتہر کرے۔

اولڈ ایج بینی فٹ ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعے ریٹائر ہو جانے کے بعد ملازم کے تحفظ کا اہتمام کیا گیا۔ یہ تصور ذوالفقار علی بھٹو نے بطور وزیراعظم دینا بھی ویلفیئر ریاستوں سے لیا، ایک باقاعدہ قانون کے ذریعے طے کیا گیاکہ نیم سرکاری اداروں، صنعتوں اور بڑے تجارتی گروپوں کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے جس ادارے کے پاس25 یا اس سے زیادہ ملازم ہوں ان کی رجسٹریشن لازم قرار دی گئی، اس قانون کے تحت ہر آجر اور اس ادارے کے ملازم کی ماہانہ تنخواہ میں سے مخصوص رقم کاٹنا اور اسے جمع کرانا لازم ہے، ملازم کی تنخواہ کے ساتھ مالک کا حصہ بھی شامل کرکے یہ رقم محفوظ کی جاتی اور اس میں وفاقی حکومت بھی تعاون کی پابند ہے اس سارے انتظام و انصرام کے لئے ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹ انسٹی ٹیوشن کے نام سے ادارہ تشکیل دیا گیا، جس کی ذمہ داری اور فرائض یہ ہیں کہ وہ متعلقہ اداروں سے ماہوار کٹوتی جمع کرے، ادارے کو سرمایہ کاری کی بھی اجازت دی گئی ہوئی ہے۔

اس ادارے سے ملازم کو جو فائدہ ہونا اور ہوتا ہے وہ اس کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد ہے۔ ملازم ریٹائر ہو جانے کے بعد اپنے ادارے کی تصدیق اور ادارے کے توسط سے رجسٹریشن کے حوالے سے خود کو ای او بی آئی کے پاس بطور پنشنر رجسٹر کرواتا ہے۔ اس کے بعد ادارہ اسے ماہانہ پنشن ادا کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ یہ سب انتظام ملازم کے بڑھاپے کے لئے کیا گیا کہ دوران ملازمت تو اس کے ماہانہ مشاہرے سے رقم کٹتی ہے اور پنشن ریٹائرمنٹ کے بعد لاگو ہوتی، جب ادارے سے ملازمت باقی نہیں رہتی، یہ امر واضح ہو کہ پنشن ایک ہزار روپے ماہوار کے حساب سے شروع کی گئی جو 1974ء سے اس سال تک صرف ساڑھے گیارہ ہزار روپے ماہوار تک پہنچی ہے جبکہ مالک اور ملازم سے کٹوتیوں کا ذمہ دار ادارہ امانت دار ہے اسے یہ رقوم بطور امانت رکھنا اور بعد از ریٹائرمنٹ پنشنر کو اس کا حق دینا ہے، اس پر آج تک کماحقہ ہو عمل نہیں ہوا، حالانکہ 2016ء میں مزدور کی سرکاری کم از کم تنخواہ کے مطابق نوٹیفکیشن ہو جانے کے بعد بھی اس پر عمل درآمد نہیں ہوا، آج مزدور کی کم از کم ماہانہ تنخواہ (سرکاری)37ہزار روپے ماہانہ ہے لیکن ای او بی آئی پنشنر کو اس کے مطابق پنشن نہیں دی جاتی۔ بوڑھے (پنشنر) شہری اس مہنگائی کے دور میں صرف ساڑھے گیارہ ہزار روپے ماہوار پر اکتفا کرنے پر مجبور ہیں، حالانکہ نہ صرف ضروریات زندگی بلکہ ادویات بھی بہت مہنگی ہو چکی ہیں اور محنت سے زندگی گزار کے اپنی آمدنی میں سے ای او بی آئی ادارے کو 159ارب نقد اور ساڑھے چھ سو ارب کے اثاثے بنانے کا اہل بنایا۔ دوسری طرف اس منتظم (امانت دار) ادارے کے تحت چیئرمین اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے بعد افسروں کی فوج ظفر موج ہے جو لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہوں کے علاوہ مراعات بھی وصول کررہے ہیں۔ پنشنر بے چارے مطالبات کرکے تھک رہے ہیں کہ ان کو 2016ء کے فیصلے کے مطابق پنشن مزدور کی کم از کم ماہانہ تنخواہ کے مطابق دی جائے اس پر کوئی کان نہیں دھرتا، وزیراعظم نے بھی تھپکی دے کر توسیع کی ہدایت تو کر دی ہے لیکن اس پر غورنہیں کیا کہ اس ادارے کا قیام باقاعدہ قانون کے ذریعے عمل میں لایا گیا لیکن اس پر آج تک عمل نہیں ہوا الٹا اس ادارے میں کروڑوں سے اربوں تک کے غبن ہوئے اور ایک سابق چیئرمین تو پانچ ارب روپے کی خورد برد کے ملزم ہیں اور سپریم کورٹ سے ضمانت کے بعد سے گم ہیں اسی طرح اس ادارے کی سرمایہ کاری سے سیاسی حضرات نے فائدہ اٹھایا اور سابقہ ادوار میں اپنی کم قیمت زمینیں انسٹی ٹیوشن کو مہنگی فروخت کرکے نئی اراضی خرید کر رہائشی سکیمیں بھی بنائیں، ایک مرحوم وفاقی وزیر کے اکاؤنٹ میں پانچ کروڑ روپے پائے گئے جو ان محترم وزیر نے انکشاف کے بعدواپس کر دیئے تھے۔

پنشنرز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ ادارے کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور رقوم کے خورد برد کے ذمہ دار اہل کاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے اور 2016ء کے فیصلے پر عملدرآمد کراکر پنشن 37ہزار روپے ماہوار مقر کی جائے۔