وزیراعظم محمد شہبازشریف کی صدارت میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس میں دیگر امور کے علاوہ معمر افراد کی پنشن میں بھی اضافے کی منظوری دی گئی۔ ای او بی آئی کے پنشنرز اب دس ہزار روپے ماہانہ کی بجائے ساڑھے گیارہ ہزار روپے ماہوار پر اکتفا کریں گے کہ اضافہ پندرہ فیصد ہے البتہ یہ یکم جنوری 2025ء سے دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ جولائی کے مہینے کی جو پنشن اگست میں ادا ہو گی وہ اضافے اور بقایا جات کی صورت میں ملے گی۔ ای او بی آئی کے قریباً چھ، ساڑھے چھ لاکھ پنشنرزحضرات گو اس اضافے سے مطمئن تو نہیں، تاہم ان سب نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا کہ ان کی توجہ سے کچھ تو اضافہ ہوگیا اگرچہ موجودہ حالات میں ڈیڑھ ہزار روپے ماہوار کے اضافے سے کیا ہوگا کہ اب تک مہنگائی خصوصاً ادویات کئی گنا مہنگی ہو چکی ہیں۔
وفاقی کابینہ کے حوالے سے جو خبر دی گئی اور شائع ہوئی، اس کے مطابق یہ اضافہ وفاقی وزارت اوورسیز اور ہیومن ریسورسز کی سفارش پر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعظم نے ہدایت کی کہ کابینہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو ای او بی آئی میں اصلاحات تجویز کرے اور اس بارے میں اپنی سفارشات پیش کرے کہ عام مزدور،گھریلو ملازمین، زرعی مزدوروں اور دیگر محنت کشوں کو کس طرح اس دائرہ کار میں لا کر مستفید کیا جا سکتا ہے۔
میں نے اس فیصلے اور اس کے حوالے سے خبر کو کئی بار پڑھا کہ اس پنشن سے میرا دیرینہ واسطہ اور میں نے اس حوالے سے کئی بار آواز اٹھائی۔ وزیراعظم کے جذبہ ہمدردی کی داد دے کر عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ یا تو آج تک جو معلومات مجھے ملیں اور جو قواعد و ضوابط اور نوٹیفکیشن نظر سے گزرے وہ درست نہیں ہیں اور یا پھر وفاقی کابینہ اور وزیراعظم کے سامنے بھی پورے حقائق نہیں رکھے گئے اور یوں بہت کچھ چھپایا گیا، اگر پورے واقعات اور حالات سے وزیراعظم کو آگاہی دی جاتی تو مجھے یقین ہے کہ وہ اصلاحات کے لئے کابینہ کمیٹی کی تشکیل کے بجائے اس ادارے کے حوالے سے تحقیقات اور تفتیش کا حکم دیتے کہ اس میں مبینہ طور پر اربوں روپے کی خوردبرد، غبن اور فضول اخراجات ہیں جو غریب اجیروں اور ان کے آجروں کی محنت کی کمائی سے جمع ہونے والے خزانے میں کی جا چکی ہیں اور بلاوجہ کے اخراجات اور عیاشیوں کا بوجھ اس ادارے پر اب بھی جاری ہے، اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ادارے جسے معمر ملازمین کے مفاد کا ادارہ کہا جاتا ہے۔ بڑے پیمانے سے تحقیق کی جائے اور سب سے پہلے اس کے حسابات کا فرانزک آڈٹ کرایاجائے تاکہ معلوم ہو کہ اب تک اس ادارے نے آجر اور اجیر کی جمع پونجی کے ساتھ کیا سلو ک کیا اور اب تک کیا ہو رہا ہے۔
میرے باسٹھ سالہ صحافتی تجربے اور قریباً 58 سالہ رپورٹنگ دور کے دوران بڑے بڑے سکینڈل اور گھپلے سامنے آئے۔ افسوس کی بات ہے کہ نیب جیسے ادارے بھی بعض خرابیوں کا مکمل سراغ نہیں لگا سکے اور اس ادارے کے بارے میں بھی یہی حال ہے، اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ایک طرف تو وفاقی حکومت اس کی مقروض ہے اور دوسری طرف اربوں روپے کے غبن میں ملوث ضمانت کراکے آزاد ہیں، نیب اس کے بعد خود خاموش ہے حالانکہ میری اطلاع کے مطابق تفتیش مکمل نہیں ہوئی تھی کہ ایک سابق چیئرمین کی کم و بیش 5ارب روپے کے حوالے سے گرفتاری اور اس کے بعد عدالت عظمیٰ سے ضمانت پر رہائی کے بعد اس کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس ادارے ہی کے حوالے سے ایک موجودہ وفاقی وزیر اور سابق وفاقی وزیر اور محترم سیاسی رہنما کانام بھی آیا، سابق وفاقی بہت ہی معتبر اور نیک نام تھے، جب سکینڈل کی بازگشت کے دوران یہ خبر شائع ہوئی کہ پانچ کروڑ روپے مرحوم کے اکاؤنٹ میں بھی منتقل ہوئے ہیں تو انہوں نے فوری طور پر یہ رقم واپس کرکے کہا کہ ان کو علم نہیں کہ یہ پانچ کروڑ روپے ان کے اکاؤنٹ میں کیسے آئے،تاہم موجودہ وفاقی وزیر ڈٹ گئے تھے کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا چنانچہ ان کے خلاف کچھ بھی ثابت نہ ہوا۔
محترم! وزیراعظم صاحب! ملک میں معاملات تو اور بھی بہت بکھرے پڑے ہیں جن کے لئے آپ کی توجہ کی ضرورت ہے لیکن یہ معاملہ تازہ بتازہ ہے اس لئے آپ کی توجہ کے لئے ایک بار پھر تفصیل عرض ہے۔ اس ادارہ کے لئے ذوالفقار علی بھٹو نے دنیا کی کسی فلاحی ریاست کا نظریہ مستعار لیا اور طے کیا کہ جو مزدور،محنت کش، سفید پوش اپنی اپنی مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہوتے ہیں تو ان کا والی وارث (خصوصاً نجی اداروں میں) کوئی نہیں ہوتا اور وہ نان نفقہ سے محروم ہو جاتے ہیں، چنانچہ ان کے دور میں ایک قانون کے تحت طے ہوا کہ نجی اور نیم سرکاری اداروں کو باقاعدہ رجسٹر کیا جائے، چنانچہ 25سے زیادہ ملازمت والے ادارے اور ان کے ملازمین کی رجسٹریشن لازم قرار دی گئی۔ قانون کے مطابق آجر، اجیر اور اس کی معاونت میں حکومت کے حصے تناسب کے تحت طے کر دیئے گئے اور یہ سلسلہ شروع ہوا کہ آجر اور اجیرکے علاوہ حکومت مقرہ تناسب سے ہر ماہ رقم جمع کرائیں گے، اس کے انتظام کے لئے ایمپلائز اولڈ ایج انسٹی ٹیوشن کے نام سے ایک ٹرسٹی ادارہ بنایا گیا، یہ رقوم ہر ماہ اس کے پاس جمع ہوتی رہیں۔ قانون کے مطابق جب کوئی مزدور / کارکن مدت ملازمت کے بعد ریٹائر ہوتا تو اسے بڑھاپے کی پنشن کا حق دار قرار دیا جاتا ادائیگی یہ ادارہ (ای او بی آئی)انسٹی ٹیوشن کرتا یوں یہ سلسلہ شروع ہوا اور ریٹائر ہونے والے رجسٹرڈ مزدور / کارکن کو پنشن ملنا شروع ہوئی جو ایک ہزار روپے ماہوار تھی۔1974ء کے بعد سے اب تک اربوں روپے جمع ہوئے اور اربوں ہی خوردبرد ہونے کے باعث اور باوجود کہ کارکن احتجاج ہی کرتے رہے اور ان کی پنشن بمشکل دس ہزار روپے ماہوار تک پہنچی جو اب ساڑھے گیارہ ہزار ہوگی۔ اس عرصہ میں اس ادارے میں سیاسی بھرتیوں کی بھرمار کر دی گئی۔ بورڈ آف ٹرسٹی کے چیئرمین اور اراکین کے مشاہرے مقرر کئے گئے جو لاکھوں میں ہیں اور مراعات الگ ہیں، پھر انسٹی ٹیوشن کی آمدنی بڑھانے کے نام پر ڈائریکٹر جنرل، ڈائریکٹرز اور منیجرز کی بھرمار کی گئی اور نچلے درجہ کے کئی سو ملازم بھرتی کرلئے گئے جن کا نام آسانی نہیں روڑے اٹکانا ہے۔
محترم وزیراعظم یہ حکائت ہے اور یہ سب آجر اور اجیر کی جمع پونجی ہے جس سے حاضر ملازم کو کچھ نہیں ملتا، البتہ حکومت اپنا حصہ نہیں دیتی اور خوردبرد وصول کرکے رائٹ سائزنگ نہیں ہوتی۔ آپ کا جذبہ قابل قدر ذرا اس طرف بھی توجہ فرمائیں اور مکمل تفتیش کرالیں، انسٹی ٹیوشن کے واجبات اور خوردبرد رقم کی وصولی کرائیں تو آپ کا بوڑھوں پر احسان ہوگا جو مرتے بھی جا رہے ہیں، اس کے علاوہ میرے علم میں اس خبر سے یہ اضافہ ہوا کہ یہ انسٹی ٹیوشن اوورسیز اور ہیومن ریسورسز کی وزارت کے ماتحت ہے یہ اور بھی حیران کن ہے کہ اب تک یہ خود مختار اور انتظامی طور پر وزارت خزانہ سے منسلک تھا۔

