ای او بی آئی کی لوٹ مار اور وفاقی محتسب کا نوٹس!

ایک دور تھا کہ انسداد رشوت ستانی والے رشوت خور کو پکڑنے کے لئے جو نشان زدہ نوٹ شکایت کرنے والے کو دیتے ان کی مالیت دس بیس سے سو روپے تک ہی ہوتی تھی پھر ترقی کا دور شروع ہوا تو یہ تعداد و مقدار بھی بڑھنے لگی اور اب بات لاکھوں، کروڑوں حتیٰ کہ اربوں سے نکل کر کھربوں تک پہنچ گئی ہے۔ ملک میں کسی نہ کسی روز کوئی سکینڈل سامنے آئے تو حیرت ہوتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے دن گزار کر آخری منزل کے انتظار میں ہیں۔ عمر کے اس حصے سے تعلق ہے کہ یہ دس بیس والا سلسلہ دیکھا ہوا ہے۔ اب تو چھوٹے بچے دس بیس روپے لینے سے انکار کرتے اور ون ہنڈرڈ یا فائیو ہنڈرڈ کی بات کرتے ہیں۔ اب یہی دیکھیں کہ کھربوں روپے کا گندم سکینڈل سامنے آیا۔ دوچار روز زیر بحث رہا اور پھر لوگ بھول بھال گئے کہ اب چینی سکینڈل کا شہرہ ہے۔ ہر دو میں مماثلت درآمد، برآمد ہے۔ گندم ضرورت سے زیادہ موجود ہونے کے باوجود درآمد کی گئی اور چینی فاضل قرار دے کر برآمدکر دی گئی اور با پھر درآمد کی جا رہی ہے جو برآمد کی گئی چینی سے کئی گنا مہنگی ملے گی۔ ہر دو امو رمیں بڑی یکسانیت پائی جاتی ہے اور بوجھ عوام پر منتقل ہوتا ہے۔ تجوریاں اشرافیہ کی بھرتی ہیں، چینی تو یوں بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے کہ ذیابیطس کے مرض میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن کیا کریں کہ ہر خوشی کے موقع پر مٹھائی کا رواج ہے اور شوگر کے مریض بھی کھا کر ایک گولی زیادہ کھانے یا ایک پنٹ انسولین بڑھا لینے کی بات کرتے ہیں، بہرحال حقیقت تو یہ ہے کہ چینی صحت کی دشمن ہونے کے باوجود ضرورت ہے جبھی تو عوام 190اور 200روپے فی کلو بھی خرید رہے ہیں۔

یہ اربوں، کھربوں کی بات اس لئے کی کہ کھربوں روپے ہی کا ایک بہت بڑا سکینڈل سرکاری / عدالتی طور پر سامنے آنے والا ہے،خبر کے مطابق ای او بی آئی کے پنشنرز فریاد لے کر وفاقی محتسب سے رجوع کر چکے، محتسب کی طرف سے ای او بی آئی کے مرکزی دفتر کراچی کا رخ کیا گیا اور کچھ ریکارڈ قبضے میں لیا گیا، اب امید بنی ہے کہ اس گمنام سے ادارے کا سکینڈل باہر آیا تو سب لوگ حیرت سے دنگ رہ جائیں گے جب پتہ چلے گا کہ آجر اور اجیر کی طرف سے کٹوتی کے کھربوں روپے یا تو خورد برد کرلئے گئے یا پھر سیاسی بھرتیوں (غیر ضروری) کے باعث تنخواہوں اور مراعات کے ذریعے لوٹ لئے گئے اور وہ مزدور جو اپنی 30۔40سالہ ملازمت کے دوران حصہ رسدی ادا کرتے رہے اور ان کی فیکٹریوں کے مالک اپنا شیئر شامل کرتے چلے آ رہے ہیں وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بڑھاپے کی پنشن والی مد میں صرف دس ہزار روپے ماہانہ کے مستحق ٹھہرتے ہیں، یقین ہے کہ وفاقی محتسب کسی دباؤ کا شکار ہوئے بغیر تفصیل سے تحقیق کریں گے تو ان کو علم ہو جائے گا کہ محنت کشوں اور مالکان کی جمع پونجی کو کس بے دردی سے لوٹا گیا اور لوٹا جا رہا ہے، حتیٰ کہ خود حکومت پاکستان اس ادارے کی مقروض اور نادہند بھی ہے، اس سے یہ رقوم معہ سود وصول ہونا چاہیئے اور وہ سابق چیئرمین جو نیب کی تفتیش کے نتیجے میں پانچ پانچ چھ چھ ارب روپے لوٹ کر ضمانتیں کراکے غائب ہو گئے ان کو بھی سزا جزا کے عمل سے گزارا جائے گا۔

میں پنشنر حضرات کی درخواست پر کئی بار لکھ چکا لیکن کسی کے کان پر جوں نہ رینگی اور اب بھی جب پنشنروں نے ایک جائز فورم سے رجوع کیا ہے تو میڈیا کی پوری توجہ اس طرف مبذول نہیں ہوئی حالانکہ متاثرین میں میڈیا کے رجسٹرڈ اداروں کے رجسٹرڈ ریٹائر ملازم بھی متاثرین میں شامل ہیں۔

حالیہ واردات جو ان بوڑھے پنشنرز کے ساتھ ہوئی وہ یہ ہے کہ عرصہ دراز سے مطالبہ کرتے ہوئے، ان معمر افراد جن کو سینئر سٹی زن کا خطاب بھی عطا فرمایا گیا ہے،کی پنشن میں اضافہ کیا جائے، ای او بی آئی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا اجلاس بلایا گیا،اس ریگولر اجلاس میں فیصلہ ہو گیا کہ پنشن میں 15فیصد اضافہ یکم مئی 2024ء سے کر دیا جائے اور یوں اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق صرف ڈیڑھ ہزار روپے اضافہ طے پایا، مجبوربوڑھے اس پر بھی اکتفا کر گئے اور منتظر ہوئے کہ اضافہ ملے لیکن نصیب کہاں؟ بتایا گیا کہ بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین نے نامعلوم اختیارات کے تحت اس نوٹیفکیشن اور فیصلے کو مسترد کر دیا اور ہدائت کی کہ اضافہ یکم مئی 2025ء سے ہو گا، پنشنرز کو یہ بھی نہیں دیا گیا اور اب تک کسی اضافے کے بغیر سابقہ پنشن دس ہزار روپے ماہوار ہی دی جا رہی ہے۔ اس ناانصافی پر لاکھوں کا اضافہ لینے والے بھی خاموش ہیں اور انسٹی ٹیوٹ کے لوٹ مار حکام مطمئن ہو کر اپنا اپنا حصہ وصول کئے چلے جا رہے ہیں۔

میں ایک بار پھر پس منظر کی بات کرکے وفاقی محتسب اور حکام کی توجہ دلانا اورعرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر معمر حضرات کی فریاد کا نوٹس لیا ہی گیا ہے تو پھر تحقیق مکمل کی جائے تاکہ محنت کشوں کے کھربوں لوٹنے کی واردات یا سکینڈل سامنے آ سکے۔ ہم اچھی سکیم اور تجاویز یا منصوبوں کو بھی تباہ کرنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں کہ اس بہترین نظام کو جو حقیقی ویلفیئر ہے ہم نے لوٹ مار کا ذریعہ بنا لیا اور اب یہ احساس ہونے لگا ہے کہ شاید یہ رفاہی ادارہ اور نظام بھی لوٹ مار اور بے تدبیری کی نذر ہو جائے کہ فریاد تو سپریم کورٹ میں بھی زیر التواء ہے، حالانکہ یہ نظام سرکاری، غیر سرکاری سطح پر فروغ دے کرآئی ایم ایف کی پنشن والی شرط بھی پوری کی جا سکتی ہے۔

قارئین!ایک بار پھر تفصیل کہ یہ نظام ذوالفقار علی بھٹو نے کسی رفاہی مملکت سے لیا، طے پایا کہ 25سے زائد ملازم رکھنے والے ادارے رجسٹر کئے جائیں اور ان اداروں کے ملازمین کو بھی رجسٹریشن کے بعد رکن بنایا جائے۔ قانون کے مطابق ہر ملازم اور آجر کا حصہ متعین کر دیا گیا اور تناسب سے سرکاری حصہ بھی طے ہوا، یہ رقوم ہر ماہ امانت کے طور پر ای او بی آئی کے پاس جمع ہونا قرار دیا گیا اور قانون بنا کر یہ فیصلہ کر دیا گیا کہ جب ملازم مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہوگا تو وہ بڑھاپے کی پنشن کا حق دار ہوگا جو ای او بی آئی ادا کرے گا کہ یہ امانت دار ہے۔ ایک ہزار روپے سے پنشن شروع ہوئی جو اب صرف دس ہزار ہے اور یہ سرکاری خزانے سے نہیں، خود آجر اور اجیر کی جمع شدہ رقم سے دی جانا ہے جو متعددفیصلوں اور نوٹیفکیشنز کے باوجود نہ بڑھائی گئی کہ یہ ادارہ لوٹ مار کا ذریعہ بنا لیا گیا، بورڈ آف ٹرسٹیزکے علاوہ چیئرمین، چیئرمین کا عملہ، درجنوں ڈائریکٹر اور منیجرز کے علاوہ ہزاروں ملازم بھرتی کرکے لاکھوں تک کی تنخواہیں اور مراعات وصول کی جا رہی ہیں خوردبرد الگ ہے۔ یقین ہے کہ وفاقی محتسب ان سب کوتاہیوں کا ازالہ کریں گے اور فرانزک آڈٹ بھی کرالیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں