ای او بی آئی کے پنشنرز مشکل میں، اس کی حقیقت کیا ہے؟

ای او بی آئی پنشنرز نے رواں ماہ میں پنشن میں ہونے والے پندرہ فیصداضافے کے ساتھ ادائیگی نہ کرنے پر تشویش کا اظہا رکیا ہے، ان افراد کے مطابق انسٹی ٹیوٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز نے جون میں ہونے والے اجلاس میں پندرہ فیصد اضافے کی منظوری دی تھی، تاہم اس حوالے سے نوٹیفکیشن کے باوجود عمل درآمد روک لیا گیا اور حکومت کی طرف سے منظوری کا انتظار کیا گیا،حالانکہ اس کی ضرورت نہیں تھی کہ ایک خود مختار ادارہ ہے۔ بہرحال متعلقہ وزارت اوورسیز پاکستانی اور انسانی حقوق کی طرف سے اس منظوری کی تصدیق کے لئے یہ مسئلہ وفاقی کابینہ کو ارسال کر دیا، وفاقی کابینہ نے بھی منظوری دے دی لیکن اس پر یکم جولائی 2025ء سے اضافہ نہ کیا گیا البتہ اولڈ ایچ بینفیٹ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے 30جولائی اور یکم اگست کو دو مختلف نوٹیفکیشن جاری ہوئے۔ پہلے مراسلے میں یہ اطلاع دی گئی کہ وفاقی حکومت نے پندرہ فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے جس کا اطلاق یکم جنوری 2025ء سے ہوگا، اس کے بعد یکم اگست کو ایک اور نوٹیفکیشن جاری کیا گیا یہ ایک وضاحتی اور ہدائتی نوٹیفکیشن ہے جس کے مطابق متعلقہ دفاتر کو اطلاع دی گئی کہ پنشن کا اطلاق یکم جنوری 2025ء سے ہونا ہے اور یہ اطلاق ان سب پنشنروں پر ہوگا جو 31دسمبر 2024ء تک پنشن لے رہے تھے، اس وضاحت سے مراد یہ ہے کہ دسمبر 2024ء والے حضرات سابقہ پنشن لے رہے تھے ۔ اس یکم جنوری 2025ء سے ان سب پر اطلاق ہوگا اور یہ فائدہ یکم جنوری کے بعد والے پنشنرز پر نہیں ہوگا، اس کی وضاحت یہ ہے کہ جو پنشنر یکم جنوری سے پہلے دس ہزار روپے ماہوار لے رہے تھے وہ سب یکم جنوری 2025ء کے بعد اضافے کے حق دار ہوں گے تاہم یکم جنوری 2025ء کے بعد پنشن جن افراد کے لئے ہوگی ان کو اضافہ نہیں دیا جائے گا، مطلب یہ کہ یہ حضرات یکم جنوری 2025ء کے بعد حقدار ہوں گے تو ان کو بھی گیارہ ہزار پانچ سو روپے ہی ملیں گے۔ اس طرح بنیادی طور پر یہ نوٹیفکیشن وضاحت کے طور پر جاری ہوا اور یوں تکنیکی طور پر اضافے کو مزید ایک ماہ روک لیا گیا، اس سے یہ تاثر ملا کہ ستمبر میں اگست کی ادا کی جانے والی پنشن اور اس کے ساتھ یکم جنوری سے 31اگست تک کے بقایا جات بھی ادا ہوں گے۔

میں نے یہ نتیجہ نوٹیفکیشنز پڑھ کر اخذ کیا ہے اور یہ توقع کی ہے کہ انسٹی ٹیوٹ کی انتظامیہ ایسا کرے گی۔ اس کی طرف سے یہ وضاحت کی جانا چاہیے تھی اور میری تجویز ہے کہ اب بھی وضاحتی اعلان کرکے پنشنرز کو بتا دیا جائے تاکہ ان کی تشویش دور ہو، اگر اس کے باوجود بوڑھوں اور ان کے آجر حضرات کی طرف سے دی گئی رقوم کو بیت المال جان کر اپنے پاس رکھنا مقصود ہے اور اپنی مراعات اسی فنڈ سے جاری رکھی جانا ہیں تو پھر یہ خاموشی ہی بہتر ہے۔

قارئین کرام اور پنشنرز آپ جانتے ہیں کہ میں نے ہمیشہ اور مسلسل ای او بی آئی پنشنرز کے لئے آواز بلند کی اور ایک بار پھر بتا دیتا ہوں کہ یہ پنشن قومی خزانے یا کسی ادارے کی طرف سے نہیں ملتی بلکہ یہ ان پنشنرز کے خون پسینے کی کمائی سے ماہانہ کٹوتی اور آجروں کی طرف سے حصہ ڈالنے کی ہے جو اولڈ ایج بینی فٹس ایکٹ 1976 کے تحت لازم ہے، یہ قانون سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں منظور کیا گیا، انہوں نے یہ آئیڈیا کسی رفاہی ریاست سے لیا، اس کے تحت طے کیا گیا کہ تمام نجی ادارے اور نیم سرکاری محکموں کے ملازمین کی رجسٹریشن ہوگی اور یہ بھی طے کیا گیا کہ جس کسی ادارے میں 25یا اس سے زیادہ ملازم ہوں گے ، وہ سب اس قانون کے تحت رجسٹر ہوں گے اور پھر یہ رجسٹرڈ ادارے اور ان کے ملازم مقررہ تناسب سے ہر ماہ کٹوتی کراکے جمع کرائیں گے۔ اس کے لئے حکومت کا بھی حصہ شامل کیا گیا۔ یہ سب رقم ان ملازمین کی امانت کے طور پر جمع ہوگی اور جب کوئی ملازم اپنی مدت ملازمت کے بعد ریٹائر ہوگا تو وہ بڑھاپے کی پنشن کا حق دار ہوگا، یہ فیصلہ جوانی اور ادھیڑ عمری صنعتی ادارے یا محکمے کی نذر کرنے والوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد گذراوقات کے لئے پنشن دیئے جانے کا تھا، اسی قانون کے تحت ایک ٹرسٹ کی تشکیل کی گئی جسے ایمپلائز اولڈایج بینی فٹ انسٹی ٹیوٹ کا نام دیا گیا، قانون کے تحت بورڈ آف ٹرسٹیزکے علاوہ انتظامی امور کے لئے چیئرمین اور عملہ بھی مقرر کیا گیا تاکہ رقوم کا بے جا استعمال نہ ہو اور ریٹائر ہونے والے اجیر پنشن کے ذریعے کچھ گذر اوقات کر سکیں۔ اس پنشن کا آغاز 1976 ہی ہوا تو ابتدائی طور پر ایک ہزار روپے ماہوار تھے۔ یہ 1976ء کی بات ہے جب روپے کی اپنی حیثیت تھی۔ اس کے بعد 47سالوں میں صرف نو ہزار روپے ماہوار کا اضافہ ہوا اور اب واویلا کے بعد صرف پندرہ فیصد اضافے کے بعد ساڑھے گیارہ ہزار روپے ماہوار ہوگی جو اب تک ادا نہیں ہوئی اور امید پر دنیا قائم ہے کہ متاثرین اب ستمبر کے آغاز کا انتظار ہے۔

قارئین! قانون بنا کر ٹرسٹ قائم کرنے کا مقصد کٹوتیوں کا تحفظ اور اس کی منصفانہ تقسیم تھا لیکن سیاسی حکومت کے ہاتھوں یہ ٹرسٹ بھی محفوظ نہ رہا، ہر آنے والی حکومت نے پنشنروں اور ان کی امانت کو نظر اندازکیا لیکن سیاسی بھرتیوں کا سلسلہ جاری رکھا، جو اب اتنے زیادہ ہو گئے ہیں کہ بوجھ بن چکے ہیں، بورڈ آف ٹرسٹیز کے علاوہ چیئرمین، ان کا عملہ، متعدد ڈائریکٹر جنرلز اور جنرل منیجرز کے علاوہ ریجنل ڈائریکٹر اور دفاتر کے ساتھ ان کا عملہ یہ سب اس امانتی ادارے سے مراعات لے رہے ہیں جو آجر اور اجیر کی ماہانہ آمدنی میں سے تناسب کی بنیاد پر جمع ہوتے ہیں، اس امانتی ادارے سے اربوں روپے کی خیانت بھی کی گئی اور یہ بھی پتہ چلا ہے کہ خود وفاقی حکومت بھی مقروض ہے شاید یہی وجہ ہے کہ بڑے پیٹ بھرنے کے لئے محنت کشوں کا بڑھاپابھی خراب کیا جا رہا اور ادارے کے قیام کا بھی فائدہ ان کو نہیں پہنچنے دیا جاتا، ماضی میں یہ فیصلہ بھی ہو چکا ہوا ہے کہ حکومت مزدور کی جو کم از کم تنخواہ مقرر کرے گی اتنی ہی بڑھاپے کی یہ پنشن ہوگی، لیکن کئی سال گذ رجانے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا گیا اور اب معمر افراد کا مطالبہ ہے کہ اس پر عمل کیا جائے، سپریم کورٹ اور نیب کی توجہ درکار ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں