بابر اعظم اور ہم؟

آسٹریلین کرکٹ ٹیم اور پاکستان کی ٹیم کے درمیان تین ٹی20 میچوں کی سیریز کا پہلا میچ شاہینوں نے جیت لیا،اِس کا کریڈٹ بجا طور پر باؤلنگ کو جاتا ہے کہ تمام کھلاڑیوں کو نوجوان باؤلروں نے آؤٹ کیا۔پاکستان کے سپیشلسٹ سپن باؤلر ابرار احمد کے ساتھ صائم ایوب،محمد نواز اور شاداب خان نے آل راؤنڈر ہونے کا حق ادا کیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے کپتان اور کوچ کی فرمائش پر گراؤنڈ مین کو سپن وکٹ بنانے کی اجازت دے دی تھی کہ اس سے پہلے بھی ہوم گراؤنڈ پر ایسا ہی کیا گیا، حالانکہ کھیل کی سپرٹ تو یہ ہے کہ سپورٹنگ وکٹ بنائی جائے اور یہ سب ماضی میں ہوتا رہا ہے،لیکن بھارت نے کھیل کو خراب کرنے کی ابتداء ہی اس پہلو سے شروع کی، پچاس والی دہائی پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ بھارت نے سلو اور سپن وکٹوں کا سلسلہ شروع کیا،اس کے بعد ہی نہ جانے کب یہ رواج ہو گیا کہ ہر ملک نے اپنے اپنے حوالے سے وکٹوں کی تیاری شروع کر دی اور عاقب جاوید کی مہربانی سے یہاں بھی یہ سلسلہ شروع ہو گیا۔بہرحال آج میرا موضوع یہ نہیں ہے،مجھے تو بابر اعظم کے بارے میں بات کرنا ہے اور ذرا مختلف انداز سے کچھ کہنا ہے۔

بابر اعظم بلاشبہ دنیا کا بہترین کھلاڑی ہے اور اس نے کئی ریکارڈ روند ڈالے ہیں ابھی اس کی کرکٹ اتنی ہے کہ وہ اور بھی ریکارڈ بنا سکتا ہے اور یقینا بنائے گا،لیکن اس کے لئے اُسے اس نفسیاتی اثر سے نکلنا ہو گا جو دبئی میں ایک سابق چیئرمین نے اُس کے ساتھ کیا اور نہ صرف اس کے خلاف گروپ بندی بلکہ زیر لب فکسنگ کے الزام بھی لگا دیئے۔ میں بابر اعظم کی صفائی کا گواہ نہیں ہوں،لیکن کرکٹ کا شائق ہونے کی وجہ سے اتنا ضرور جانتا ہوں کہ کسی بڑے کھلاڑی کی تضحیک اُس کے لئے کمزوری کا باعث بن جاتی ہے۔ بابر اعظم کو ایسے الزامات لگائے بغیر قیادت سے ہٹا دیا جاتا تو شاید اُس کی یہ کیفیت نہ ہوتی جو اب ہے۔

اگر دیکھا جائے تو اس پر ہی اکتفا نہ کیا گیا بلکہ ملک کے اندر اسے شدید تنقید کے باعث دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جس سے اس کی کارکردگی مزید متاثر ہوئی۔ بابر اعظم کو ٹی20 ورلڈکپ کے لئے ٹیم میں شامل کرنا اور آسٹریلیا کے خلاف کھلانا حوصلہ افزائی ہے،اس کے لئے محسن نقوی کو کریڈٹ دینا چاہئے کہ بگ بیش میں اس کی کارکردگی اس کے ریکارڈ کے مطابق نہیں تھی اور ناک آؤٹ مرحلے میں اسے ڈراپ کئے جانے کا خدشہ تھا، لیکن اسے واپس بُلا کر اِس خفت سے بچا لیا گیا۔اب ٹی20کے کپتان کہتے ہیں کہ بگ بیش میں بابر اعظم کی کارکردگی سے فرق نہیں پڑتا ایسا ہو ہی جاتا ہے، زیر لب مقصد یہی جتانا تھا کہ اُن پر مہربانی کی گئی ہے لیکن کسی نے غور نہیں کیا کہ بگ بیش میں اس کی ٹیم کے کپتان اور ساتھی اوپنر نے اُس کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ کوئی بھی کرکٹ کے شائق جس نے بگ بیش والے میچ دیکھے۔ واضح طور پر محسوس کر سکتا تھا کہ سمتھ نے جان بوجھ کر بابر کو سکور کرنے سے روکا اور یہ کہہ کر قدغن لگائی کہ تم ایک اینڈ روکو اور میں سٹرائیک کروں گا اب انصاف سے بتائیں بابر کیا کرتا جو پہلے ہی سلو اننگ سے شروع ہو کر بعد میں تیز سکور کرنا کا عادی ہے، میرے خیال میں سمتھ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا، وہ بابر کو اس کے سٹائل کے مطابق کھیلنے دیتے تو شاید ایسا نہ ہوتا۔بہرحال بابر نے پھر بھی ففٹی تو کی اور اُس وقت کی جب ٹیم پر دباؤ تھا لیکن بابر سٹیو سمتھ کے دباؤ سے آزاد تھا یوں غیر محسوس طریقے سے بابر اعظم مسلسل دباؤ کا شکار چلا آ رہا ہے اور میرے خیال میں اس کی نفسیاتی حالت یہی ہے۔

میں نے اور ایک اور ماہر سابق کھلاڑی نے کچھ عرصہ پہلے یہ مشورہ دیا تھا کہ بابر دو تین ماہ کا ریسٹ لے لے، میں نے یہ بھی تجویز کیا کہ وہ کسی ماہر نفسیات کے ساتھ دو تین نشستیں کر لے جبکہ ہمدرد سابق کھلاڑی کا مشورہ تھا کہ وہ شادی کرا کے ہنی مون منا کر اور اِن چھٹیوں کے بعد پھر میدان میں اُترے۔بہرحال یہ نہ ہو سکا اور بابر ابھی تک دباؤ میں ہے اس کا واپس کھیل میں آنا ضروری ہے کہ اِس وقت بھی وہی واحد کھلاڑی ہے جو کئی اور ریکارڈ بنا سکتا اور بہت سوں کے ریکارڈ توڑ سکتا ہے اِس لئے اب اسے ذہن سے قیادت والا بھوت ہمیشہ کے لئے نکال کر سیدھے کھلاڑی کی طرح اپنی پرفارمنس سے متاثر کرنا چاہئے۔ پاکستانی کھلاڑیوں، تجزیہ کاروں اور تنقید نگاروں سے عرض ہے کہ وہ حوصلہ افزائی کریں کہ ایسی باتوں سے ہم کئی اچھے کھلاڑی ضائع کر چکے ہوئے ہیں۔

ایک اچھی بات یہ ہے کہ انڈر19ورلڈکپ اور اِس سے قبل ہمارے اُبھرتے ہوئے نوجوان کھلاڑیوں کی کارکردگی بہت بہتر ہے اور یقین ہوتا جا رہا ہے کہ یہ ٹیم ورلڈکپ جیت لے گی،اس کے لئے کھلاڑیوں اور ٹیم کی بہت حوصلہ افزائی کی گئی ہے اِس ٹیم میں باؤلروں اور بیٹروں سمیت چار چھ اچھے کھلاڑی ہیں جو مستقبل کے سٹار ہوں گے۔ٹیم کی واپسی پر ان کی تربیت لازم ہے اور ایسا مسلسل ہونا چاہئے کہ اکیڈمی آخر کس لئے ہے،ابھرتے نوجوانوں کی تربیت کا عمل لازم ہے اور یہ سلسلہ تسلسل سے جاری رکھنا ہو گا۔ بابر اعظم کے لئے دُعائیں اور پھر اپیل ہے کہ اُسے طنز و تشنیع کی بجائے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔