باجوڑ (نامہ نگار) – خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں دہشت گردوں اور مقامی امن جرگے کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور میں دہشتگردوں نے مشروط طور پر شہری علاقوں کو خالی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم انہوں نے ضلع باجوڑ سے مکمل انخلا سے انکار کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ بات چیت ہفتے کے روز لوئی ماموند تحصیل میں 50 رکنی امن جرگے اور دہشتگردوں کے رہنماؤں کے درمیان ہوئی۔ ذرائع کے مطابق، جمعے کو ہونے والے اجلاس میں جرگے نے دہشتگردوں کے سامنے دو نکاتی مطالبہ رکھا تھا کہ وہ یا تو افغانستان واپس چلے جائیں یا پہاڑی علاقوں کا رخ کریں کیونکہ ان کی موجودگی مقامی آبادی کیلئےخطرہ بن چکی ہے۔
تاہم ہفتے کو ہونے والی طویل نشست، جو سہ پہر 3 بجے شروع ہو کر شام دیر گئے تک جاری رہی، کسی نمایاں پیش رفت کے بغیر ختم ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے شہری علاقوں میں پرامن رہنے کی یقین دہانی تو کرائی مگر انہوں نے علاقے کو مکمل طور پر چھوڑنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔
امن جرگہ کے سربراہ، صاحبزادہ ہارون رشید نے دیگر اراکین کے ہمراہ سیکیورٹی حکام سے ملاقات کر کے مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ کیا تاہم ہفتے رات 9:20 بجے تک انہوں نے میڈیا کو اجلاس کی تفصیلات فراہم نہیں کیں کیونکہ وہ ایک اور ملاقات میں مصروف تھے۔
دوسری جانب، ممکنہ انسداد دہشتگردی آپریشن کے پیش نظر، لوئی ماموند تحصیل کے 16 علاقوں سے ممکنہ نقل مکانی کے خدشے کے تحت متعدد فلاحی تنظیموں نے امدادی کیمپ قائم کر دیے ہیں۔ ان میں الخدمت فاؤنڈیشن، جمعیت علمائے اسلام (ف)، اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی شامل ہیں جنہوں نے خار اور لوئی ماموند کے نسبتاً محفوظ علاقوں میں کیمپ لگائے ہیں۔
مقامی مخیر حضرات کی جانب سے بھی متاثرین کیلئے کیمپوں میں خوراک اور ضروری اشیاء کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

