کاتالونیا(نامہ نگار)سوشلسٹ یوتھ آرگنائزیشن (OJS) نے ہفتہ کے روز بادالونا میں دائیں بازو کی انتہا پسندی اور رجعت پسند نظریات کیخلاف ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا۔ یہ مظاہرہ شام 6:30 بجے پومپیو فابرا چوک میں شروع ہوا، جس میں کاتالونیا کے نوجوانوں، طلبہ اور مزدور طبقے کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تنظیم کے مطابق اس احتجاج کا دوہرا مقصد تھادائیں بازو کی بڑھتی ہوئی انتہا پسندی: مظاہرے کا اولین مقصد اس تشویشناک رجحان کی مخالفت کرنا تھا جس کے تحت نہ صرف بادالونا بلکہ اسپین اور عالمی سطح پر انتہا پسند دائیں بازو کی سیاست کو فروغ مل رہا ہے۔
سوشلسٹ یوتھ آرگنائزیشن کے مطابق دائیں بازو کا عروج سرمایہ دارانہ نظام کی مسلسل ناکامیوں کا نتیجہ ہے، اور اس کا مقابلہ صرف ایک واضح انقلابی، سوشلسٹ جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ تنظیم نے کہا کہ رجعتی قوتیں درحقیقت سرمایہ دار طبقے کا آلہ کار ہیں جو مزدور طبقے کو گمراہ کرتی ہیں۔
مظاہرے کیلئے بادالونا کا انتخاب بھی علامتی تھا۔ شہر میں دائیں بازو کے رہنما اور پیپلز پارٹی (PP) کے سیاستدان خاویر گارسیا البیول کو ایک عرصے سے اکثریتی حمایت حاصل ہے۔ 2023 کے مقامی انتخابات میں وہ 27 میں سے 18 نشستیں حاصل کر کے دوبارہ میئر منتخب ہوئے۔ مظاہرین نے اسے ریاستی سطح پر رجعت پسند پالیسیوں کے پھیلاؤ کی علامت قرار دیا۔
OJS کی قومی ترجمان جودتھ گونزالیز نے کہا کہ”یہ مظاہرہ ایک عوامی دعوت ہے اُن تمام نوجوانوں کیلئےجو فاشزم اور رجعت کو ایک خطرہ سمجھتے ہیں۔ ہم محض مخالفت نہیں بلکہ انقلابی متبادل بھی پیش کر رہے ہیں۔”
احتجاج میں بارسلونا، لیریدا، گیرونا، منریسا، تاراگونا، ریپول، اور دیگر علاقوں سے آئے ہوئے 30 سے زائد سوشلسٹ و مزدور گروپوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے”فاشزم مردہ باد”،”انقلاب ہی حل ہے”،اور “محنت کش متحد ہوں”جیسے نعرے بلند کیے.
سوشلسٹ یوتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرہ ان کی عوامی بنیاد کو وسعت دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مستقبل میں بھی ایسے مظاہرے دیگر شہروں میں کیے جائیں گے تاکہ دائیں بازو کی سیاسی یلغار کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

