ممبئی (شوبز ڈیسک)بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف مزاحیہ اداکار گوردھن اسرانی طویل علالت کے بعد 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔اداکار کے مینیجر کے مطابق انہیں سانس کی تکلیف کے باعث 16 اکتوبر کو ممبئی کے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں پھیپھڑوں میں پانی جمع ہونے کے باعث ان کی حالت بگڑ گئی اور وہ 20 اکتوبر کی سہ پہر خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
اسرانی نے اپنے پانچ دہائیوں سے زائد پر محیط فلمی کیریئر میں 300 سے زیادہ فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔انہوں نے مزاحیہ کرداروں کے ذریعے فلم بینوں کے دلوں میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ان کی شہرت کا نقطۂ عروج 1975 کی بلاک بسٹر فلم “شعلے” میں جیلر کے یادگار کردار سے آیا، جس کا جملہ”ہم انگریزوں کے زمانے کے جیلر ہیں”آج بھی ان کے مداحوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔
اسرانی نے اپنے کیریئر کے دوران راجیش کھنہ کے ساتھ 25 سے زائد فلموں میں کام کیا اور شائقین کو بے پناہ محظوظ کیا۔ان کی مشہور فلموں میں نمک حرام، گڈی، باورچی، گل مال، ہیرا پھیری، چپ چاپ کے، ہلچل، دیوانے ہوئے پاگل، اور ویلکم شامل ہیں۔
انہوں نے بطور ہدایت کار بھی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور 6 فلموں کی ہدایت کاری انجام دی۔گوردھن اسرانی نے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا، پونے سے اداکاری و فلم سازی کی باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی۔
ان کے مینیجر کے مطابق گوردھن اسرانی کی خواہش تھی کہ ان کی موت کی خبر کو نجی رکھا جائے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنی وفات سے چند گھنٹے قبل تک انسٹاگرام پر دیوالی کی مبارکباد شیئر کر رہے تھے۔ان کی آخری رسومات ممبئی میں ادا کی گئیں جن میں صرف قریبی رشتہ دار اور چند دوست شریک ہوئے۔
اسرانی کی وفات سے بھارتی سینما ایک منفرد مزاحیہ اداکار سے محروم ہو گیا۔ان کے مداحوں اور ساتھی فنکاروں نے سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات دیتے ہوئے کہا کہ “اسرانی صرف ایک اداکار نہیں بلکہ خوشی بانٹنے والی مسکراہٹ کا نام تھے، جنہیں فلمی تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔”

