اونٹاریو(نمائندہ خصوصی)برامپٹن اور نارتھ کیلڈن سےممبر پارلیمنٹ اور سیکرٹری آف اسٹیٹ برائےجرائم کاخاتمہ روبی سہوتانے ایک ریڈیو پروگرام کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا کے بانڈی بیچ پر ہونے والے خوفناک حملے پر ان کے دل متاثرہ خاندانوں اور دنیا بھر کی یہودی کمیونٹی کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حالیہ برسوں میں اینٹی سیمیٹزم میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، جس میں نفرت انگیز رویے، تشدد اور جائیداد کی توہین شامل ہیں۔
سہوتا نے کہا کہ ہمارے وفاقی اداروں کے مطابق اس وقت کوئی فوری خطرہ موجود نہیں، لیکن نفرت انگیز رویے میں اضافہ ہوا ہے اور اس کے خلاف اقدامات ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ C9 بل برائے نفرت سے نمٹنے کے اقدامات کا حصہ ہے، جس کے تحت مذہبی تنظیموں کو سیکیورٹی اور کیمروں کیلئےفنڈنگ فراہم کی گئی ہے تاکہ خاص تقریبات کے دوران حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بل کمیٹی میں زیر غور ہے، تاہم اسے حال ہی میں کنزرویٹوز کی جانب سے فلِبَسٹر کیا گیا ہے۔ بل کا مقصد نہ صرف یہودی کمیونٹی بلکہ تمام اقلیتی اور مذہبی گروہوں کو عبادت گاہوں، اسکولوں اور کمیونٹی سینٹرز میں تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس بل کے تحت نازیوں کے نفرت انگیز علامات جیسے سواستیکا کے استعمال پر پابندی ہوگی اور جرمانہ یا مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے۔
سہوتانے مزید کہا کہ انتہا پسندی کے خلاف اقدامات میں ذہنی صحت کی بہتری، روک تھام، اور کمیونٹی کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعلقات کو مضبوط کرنا شامل ہے تاکہ ممکنہ خطرات کی بروقت نشاندہی اور روک تھام کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی سطح پر بھی نفرت انگیز رویے کو اجاگر کرنا اور عوام میں شعور بیدار کرنا ضروری ہے۔ آن لائن نفرت کے خلاف اقدامات، سماجی سطح پر شراکت اور ہر سطح پر حکومت کی شمولیت اہم ہے تاکہ اینٹی سیمیٹزم اور دیگر نفرت انگیز سرگرمیوں میں کمی لائی جا سکے۔
سہوتا نے آخر میں کہا کہ حالیہ برسوں میں ہم نے اس قسم کے رویے پر قابو پانے کی کوشش کی ہے لیکن یہ دوبارہ بڑھ رہا ہے اسلئے معاشرتی، سیاسی اور قانونی اقدامات کے ذریعے اس کا سدباب ضروری ہے۔

