بانی کو ذاتی معالج تک رسائی دیں گے تو قیامت آجائے گی؟

بانی تحریک انصاف اس وقت گزشتہ ساڑھے تین سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دلیری سے جیل کاٹ رہے ہیں، نہ اس دوران اُنہوں نے کوئی ڈیل کی، نہ باہر جانے کا منصوبہ بنایا اور نہ ہی عدالتوں سے کسی قسم کا ریلیف بطور بھیک مانگا۔ جبکہ وہ صرف اس دوران اپنا قانونی حق مانگتا رہا کہ اُس کا علاج اُس کے ذاتی معالجین سے کروایا جائے،،، وہ تین ماہ تک پاکستان کے بڑے لیڈر جیل میں کہتے رہے کہ دائیں آنکھ کی بینائی میں فرق پڑ رہا ہے اور اُن کے اس کہنے پر کوئی خاص توجہ نہ دی گئی۔ آنکھوں کے قطرے ضرور دیے گئے جو کہ ہر فارمیسی پر دستیاب ہوتے ہیں لیکن کسی سپیشلسٹ کو نہ بلایا گیا۔ عمران خان کی خبر اوپر تو جاتی ہی ہوگی لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں یہاں اوپر بیٹھے ہوئے ایسی باتوں پر کم ہی دھیان دیتے ہیں۔ ہاں کوئی نوازشریف ہو تومرتب کی ہوئی رپورٹوں کو سامنے رکھ کر اُن کو علاج کی غرض سے لندن بھیجا جاسکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہی ہے کہ جس قیدی کا ذکر ہو رہا ہے اُس کا نام نوازشریف نہیں عمران خان ہے۔ اور اُن کے حوالے سے یہی سب سے بڑی قباحت ہے۔

اور پھر کہا یہ جا رہا ہے کہ بانی کے صحت کے معاملے کو لے کر اپوزیشن سیاست کر رہی ہے، لیکن میرے خیال میں سیاست اپوزیشن نہیںبلکہ سرکار کر رہی ہے،،، کیوں کہ وہ خود اس مسئلے کو ہائی لائیٹ کرکے پورے پاکستان کو اس پر مصروف رکھ رہی ہے،، تاکہ کہیں کوئی حکومتی کارکردگی بارے پوچھ نہ لے، یا معیشت بارے کوئی پوچھ نہ لے،،، یا بے روزگاری بارے کو پوچھ نہ لے،،، جیسے میں نے پچھلے کالم میں بتایا تھا کہ کس طرح سولر سسٹم کو ہمارے درمیان لا کر عوام کے پیسوں کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا،،، اور ساتھ ہی حکومت نے پینترا بدل کر عوام کے پیسوں پر ڈاکہ ڈالا،،، اور سولر انرجی کو اس قدر ڈی اسٹیبل کر دیا کہ جن عوام نے اپنی ساری جمع پونجی لگا رکھی تھی وہ دنوں میں زمین پر آگرے۔ پھر دوسرا مسئلہ قانون سازی کا ہے،،، جس پر کوئی نہیں بول رہا،،، اور یہ اپنی مرضی کی تبدیلیاں کر رہے ہیں،،، تیسرا اپنی عیاشیاں جن میں لگژری جہاز وغیرہ خریدنا سر فہرست ہے،،، عوام ان پر بات نہ کریں ۔ چوتھا مسئلہ آنے والا بجٹ ہے،،، رمضان کی مہنگائی ہے،،، عوام کی کم ہوتی آمدنی ہے،،، اور ان کی بڑھتی ہوئی غربت ہے،،، اسی لیے تو یہ خان کی بیماری کے ایشو کو زندہ رکھنا چاہ رہے ہیں،،، تبھی کوئی اسمبلی کوئی کام نہیں کر رہی، کوئی ادارہ کوئی کام نہیں کر رہا، ہر ادارہ ، ہر بندہ،،، حتیٰ کہ میڈیا بھی اسی کام میں مصروف ہے،،، سب نے شغل لگایا ہوا ہے، ،، لیکن اگر میں غلط ہوں تو آپ بیماری کو ایشو بنانے کے بجائے، آپ اُسے اُس کے بنیادی حقوق دے دیں، بات ختم ! اگر وہ بیمار ہے، تو ذاتی معالجین سے اُسے ملنے دیں، اُس کی پسند کے ہسپتال سے اُس کا علاج ہونے دیں،،، کیا یہ سہولتیں دوسرے سیاسی قیدیوں نوازشریف ، شہباز شریف، صدر زرداری وغیرہ کو حاصل نہیں رہیں؟ لیکن اگر اس کے برعکس آپ یہ سہولتیں نہیں دے رہے اور آپ بیماری پر بھی سیاست کر رہے ہیں ،،، اور ساتھ کہہ رہے ہیں کہ آپ انصاف پسند ہیں،،، اور حق سچ بات کرتے ہیں تو پھر آپ کی انصاف پسندی اور حق پرستی سب کچھ مشکوک ہے،،، یعنی آپ پاکستان کے جتنے بھی خیر خواہ ہو جائیں، یا آپ پاکستان کے لیے جتنے بھی پازیٹو ہو جائیں،،، اگر آپ ایک قیدی کے ساتھ نا انصافی کر رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ آپ انصاف پسند ہو سکتے ہیں۔

بہرحال ایک بات سلاطین کے حق میں کہنا پڑے گی کہ عمران خان بیٹھا تو جیل میں ہے، خاندان اور وکلا کی ملاقاتوں پر بھی پابندی عائد ہے، لیکن ایوانانِ اقتدار میں چین نام کی چیز نہ آرہی۔ ان دو سے زائد سالوں میں قیدی تو نہ گھبرایا لیکن اس سارے عرصے صیاد گھبرائے گھبرائے لگ رہے ہیں۔ اسی اثناءمیں الیکشن اُڑا لیے گئے، فارم 47کے کرشمات اجاگر ہوئے‘ لیکن چین پھر بھی نہ آیا۔اوراب اُسے جان بوجھ کر بیمار کیا جا رہا ہے ، تاکہ جان چھوٹ جائے،،، لہٰذااگر میں غلط ہوں تو حکومت اس مسئلے پر سیاست نہ کرے اور نہ ہی اسے پیچیدہ بنائے، کیوں کہ خان کی صحت کو لے کر پوری دنیا میں ہماری بدنامی ہو رہی ہے،،، امریکی سینیٹرز تو اس پر پشیمان تھے ہی،، اب دنیا بھر کے سابق کرکٹرز بھی اس پر خوب بات کر رہے ہیں اور حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ اُنہیں علاج کی سہولیات دی جائیں۔ پھر اُس کے بچے اور اُسکی سابقہ بیوی جو دنیا میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں،،، وہ بھی پشیمان ہیں،،، کہ خان کو جیل میں مروایا بھی جا سکتا ہے۔ کیوں کہ ویسے بھی جیل میں ایک لیڈر کے ساتھ برا سلوک کرنے کا ہمارا ریکارڈ بہت برا ہے، نہیں یقین تو ذوالفقار علی بھٹو کے حالاتِ زندگی اور اُن کے انجام کا جائزہ لے لیں،،،

دنیا اس وقت سوال پوچھ رہی ہے، کہ حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ بھی کم از کم انسانی ہمدردی اور قانونی تقاضوں کے مطابق سلوک کرے۔ مگر بدقسمتی سے موجودہ ماحول میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدل دیا گیا ہے۔ اگر کسی قیدی کی صحت خراب ہو تو قانون واضح طور پر طبی سہولیات کی فراہمی کا پابند بناتا ہے۔ یہ سہولت کسی رعایت کے طور پر نہیں بلکہ بنیادی حق کے طور پر دی جاتی ہے۔عمران خان کی بیماری سے متعلق اطلاعات جب سامنے آئیں تو حکومت کی جانب سے فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد میڈیکل رپورٹ جاری کی جانی چاہیے تھی۔ اس کے برعکس ابہام، تردید اور تاخیر نے شکوک و شبہات کو جنم دیا۔ ایک جمہوری حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ معلومات کو روکنے سے افواہیں جنم لیتی ہیں، اور افواہیں سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔

حکومت کو سوچنا چاہیے کہ اگر وہ بیمار ہے تو بیماری کی حالت میں وہ کیا ہی کر لے گا؟ آپ اس حوالے سے اُسے پابند کر سکتے ہیں کہ وہ کوئی سیاسی اقدام نہ کرے، یا اُن کے ملاقاتیوں کو پابند کر سکتے ہیں، کہ وہ سیاسی بیان بازی سے گریز کریں،،، بالکل اسی طرح جیسے آپ نے بشریٰ بی بی کے بچوں کو پابند کیا ہوا ہے ،،،، وہ تبھی باہر آکر کوئی سیاسی بات نہیں کرتے۔ لہٰذامیرے خیال میں بڑے گھر والے اس پر بھی ایک پریس کانفرنس کھڑکا دیں، کہ یہ دیکھیںیہ رپورٹس ہیں، خان کی، اور یہ ڈاکٹرز ہیں جو چیک کر رہے ہیں،،، لہٰذاآپ پریشان نہ ہوں وہ بالکل ٹھیک ہے،،، لیکن نہیں! یہ ایسا کبھی نہیں کریں گے،،، بس جھوٹ بولیں گے،،، اور بیماری کے نام پر سیاست کریں گے۔ اور قوم سے چھپ چھپا کر اُسے پمز لے کر جائیں گے،،، وہاں اپنی مرضی کی رپورٹس بنوائیں گے،،، اور اپنی مرضی کے ڈاکٹروں سے چیک اپ کروائےں گے۔ لیکن یہ چیزیں پھر چھپتی بھی نہیں ہیں،،، حتیٰ کہ اس حوالے سے خبر دینے والے صحافیوں پر پھر ان کا غصہ نکلتا ہے، ،،

بہرحال آنکھ کی بینائی کے متاثر ہونے سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ انصاف کے کاروانوں پر بھی بالآخر کچھ اثر پڑا ہے۔ نہیں تو ہم جیسے ناسمجھوں کو یہ گمان ہو رہا تھا کہ چھبیسویں اور ستائیسویں ترمیمات میں کچھ ایسے نیند پرور نسخوں کا اثر پنہاں ہے کہ انصاف کے کاروانوں کو خبرہی نہیں مل رہی کہ دھرتی پر کیا ہو رہاہے۔ مختلف نکات پر جتنی درخواستیں پی ٹی آئی نے مسندِ انصاف کو ارسال کی ہیں اتنی عرشوں پر بھیجی جاتیں تو وہاں اچھا خاصا اثر ہو جاتا۔ یہ تو آنکھ والا معاملہ چھڑا کہ عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کو فرینڈ آف دی کورٹ بنا کر جیل میں ملاقات کرنے کا راستہ مہیا ہوا۔ اور جو رپورٹ پھر سلمان صفدر نے اعلیٰ مسندِ انصاف کے سامنے پیش کی تب اس آنکھ والے مسئلے کی تفصیلات دنیا کے سامنے آئیں۔ ورنہ ملاقاتوں پر قدغن رہتی اور بانی پی ٹی آئی کی آنکھوں کے لیے قطرے ہی مہیا ہوتے۔ رپورٹ مرتب ہوئی اور سپریم کورٹ نے پڑھی تب ٹھہرے ہوئے پانیوں میں بھونچال آیا اور فکر کی ایک لہر پورے دیس میں دوڑی۔ دوست ہو یا دشمن ایسے حالات بنائے جائیں ہمدردی کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔

ایک اور اہم پہلو شفافیت کا ہے۔ اگر حکومت کو یقین ہے کہ عمران خان کو مکمل طبی سہولیات دی جا رہی ہیں تو پھر ایک غیرجانبدار میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر باقاعدہ رپورٹ عوام کے سامنے لانا کون سا مشکل کام ہے؟ ایسا اقدام نہ صرف افواہوں کا خاتمہ کرے گا بلکہ حکومت کی ساکھ بھی بہتر کرے گا۔ بدقسمتی سے موجودہ طرزِ عمل سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ کہیں نہ کہیں کچھ چھپایا جا رہا ہے۔جمہوریت کا حسن برداشت اور رواداری میں ہے۔ سیاسی مخالفین کو دبانے سے وقتی فائدہ تو ہو سکتا ہے مگر طویل المدت طور پر اس کے نتائج خطرناک ہوتے ہیں۔ ایک مقبول رہنما کی بیماری کو نظرانداز کرنا یا اس پر سیاست کرنا معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے بالاتر ہو کر انسانی بنیادوں پر فیصلے کرے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ریاستی اداروں کا وقار اسی وقت برقرار رہتا ہے جب وہ قانون کے مطابق اور غیرجانبدارانہ کردار ادا کریں۔ اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ قانون کا اطلاق شخصیات کے لحاظ سے بدلتا ہے تو پھر ریاست پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ عمران خان کے حامی پہلے ہی یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے قائد کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے؛ ایسے میں حکومتی شفافیت ہی وہ راستہ ہے جو اس تاثر کو کم کر سکتی ہے۔

بہرکیف آپ الیکشن جیت چکے ہیں، حکومت بڑی اطمنان سے چل رہی ہے،اب سیاسی اسیران کو رہا کریں،،، اسے بحرانوں سے باہر نکالیں تاکہ عوام تو سکھ کا سانس لیں۔ لیکن اس کے برعکس آپ کوئی کام نہیں کر رہے، ،، کیوں کہ آپ نے صرف خان کو دبانا ہے،،، تبھی آپ بین الاقوامی سطح پر بھی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں،،، کیونکہ آپ نے عمران خان کو دبانا ہے، ،، تبھی ٹرمپ کے آپ آگے پیچھے جا رہے ہیں،،، تبھی آپ امریکا کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں،،، لہٰذااگر یہی صورتحال رہی تو پھر کیسے ممکن ہے کہ یہ ملک ترقی کرے۔