اس میں کوئی شک اور ابہام نہیں کہ بھارت کی جارحیت کے جواب میں ہماری مسلح افواج نے ان کو ہر شعبہ میں مات دی اور ہم اس پر بھی فخر کرتے ہیں کہ میڈیا وار میں بھی سچ ہی کا بول بالا ہوا۔ ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کا یہ دعویٰ بھی سو فیصد درست ہے کہ پاکستان کی طرف سے سچ دکھایا اور سچ ہی بولا گیا۔ ابھی گزشتہ روز ہی انہوں نے ایک بار پھر بھارتی شرپسندی اور بلوچستان میں دہشت گردی کے ثبوت دیئے۔ آرمی پبلک سکول کے بعد خضدار میں سکول بس پر دہشت گردانہ حملہ مزید دکھ کا باعث بنا ہے اور ہماری پوری قوم سوگوار ہے۔ ڈی جی صاحب کا کہنا ہے کہ بھارت کی ایجنسی را کے ذریعے یہ سب کیا جا رہا ہے اور جب 7سے 9مئی کے دوران بھارت کی طرف سے ہماری شہری املاک اور مساجد پر میزائل حملے کئے گئے، تب بھی اس کی دہشت گرد پراکیسز زیر عمل تھیں اور پاک فوج کے مجاہدین اس محاذ پر بھی سرگرم عمل تھے، اس سلسلے میں مسلح افواج، حکومت، وزارت داخلہ اور خارجہ کا یہ دعویٰ بھی غلط نہیں کہ سچ ہی نے اب دنیا بھر کو باور کرا دیا ہے کہ بھارت جارح ہے۔
یہ گزارش اس لئے کی کہ اس بار بھی پوری قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوئی، حتیٰ کہ اپوزیشن بھی ملی وحدت بھی شامل ہو گئی۔ سوشل میڈیا کا بھی رخ تبدیل ہوا چند نام نہاد افراد کے سوا مجموعی قوت بھارت کے جھوٹے بیانیہ کے سامنے ڈٹ گئی۔ 10-9مئی کی فجر فتح مبین لے کر آئی اور بھارت کی جارحیت کا جواب دے دیا گیا اور ان کے نظام نے جوابی وار سے بھی پرہیز کیا اور پھر بیرونی (خصوصی طور پر امریکی) مداخلت کے بعد فائر بندی ہو گئی۔دونوں اطراف سے ڈی جی ایم اوز کی آن لائن میٹنگوں کا ذکر بھی ہوگا اور ہر دو نے بات چیت کے بعد کئی امور پر معاملہ طے کرنے کی طرف پیش قدمی کی۔ تب سے اب تک فائر بندی چلی آ رہی ہے، البتہ جنگ ابھی جاری ہے جو اب پھر سے تصویروں اور بیان بازی پر آ گئی ہے اس پر غور کے لئے اطراف کی حکومتوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہونا ہے جو ابتداء میں وزارت خارجہ اور داخلہ حکام پر شروع ہوں گے، ان میں مشکل تنازعات کے حوالے سے اصل مسائل پر گفتگو کے بارے میں کیا طے ہوتا ہے اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا اور نہ ہی ایسی کوئی پیشگی خبر دی جا سکتی ہے کہ اعلیٰ سطحی رابطہ کب ہوگا۔ دعا ہے کہ یہ سب جلد ہوتاکہ عوام امن کی فضا میں سکھ کا سانس لے سکیں۔
یہ سب میں نے حقائق کا ذکر کیا اور اب کچھ اپنے حالات کا بھی ذکر ہو جائے کہ ہنگامی صورت حال کے دوران سچ کا پلڑا بھاری رہا تو ہمارے مختلف محکموں نے اس سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور عوام کو نہ صرف سچ سے دور رکھا جا رہا ہے بلکہ ان کو پہنچنے والی نئی تکلیف اور پریشانی کا حل تو دور کی بات اس حوالے سے کچھ بتایا ہی نہیں جا رہا، قارئین! آپ میں اور سب شہری شدید گرمی کے دوران غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے بے حد پریشان ہیں، اس پر طرہ یہ کہ محکمہ کی طرف سے کوئی وضاحت نہیں، اگر بجلی کی پیداوار اور کھپت کے درمیان توازن نہیں رہا تو بھی یہ عوام کا حق ہے کہ ان کو اس کی وجوہات کا علم ہو، معلوم ہونا چاہیے کہ بجلی کی پیداوار کہاں کہاں اور کتنی کتنی ہے، استعمال کتنا اور فرق کتنا ہے، لیکن یہاں تو حالات یہ ہیں کہ اچانک بجلی بند ہوتی ہے تو دو سے ڈھائی گھنٹے تک بند رہتی ہے اور ایسا 24گھنٹوں میں دوبار ہوتا ہے۔ یوں لاہور میں چار سے پانچ گھنٹے کی جبری غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ بڑے شہروں سے فاصلوں والے دیہاتی علاقوں میں یہ دورانیہ بارہ گھنٹے کا ہو چکا ہے، محکموں کی طرف سے کوئی وضاحت نہیں، الٹا سب ڈویژنوں والے فون سننا بند کر دیتے ہیں اور اگر کوئی صارف سب ڈویژن آفس جا کر دریافت کرے تو اس کی بات نہیں سنی جاتی۔ مناسب سلوک نہیں ہوتا اور یہ کہہ کر جان چھڑائی جاتی ہے کہ لائن پر کام ہو رہا ہے۔ کیا یہ بھی کوئی مشکل کام ہے کہ بجلی مہیا کرنے کے ذمہ دار ادارے مکمل وضاحت سے عوام کو آگاہ رکھیں اور یقین جانیں بھارت تو نقصان اٹھا کر مانا ہے ہمارے پاکستانی مظلوم عوام ان کے ”جھوٹ“ پر بھی یقین کرلیں گے یہ بتائیں تو سہی کہ کیا ہوا اور اس کی وجہ کیا ہے اور اس کی بہتری کے کیا امکانات ہیں، میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ صورت حال برسراقتدار سیاسی اتحاد کے حق میں نہیں، عوام پریشان ہوں گے تو بددل بھی ہوں گے اور اس کا بدلہ وہ وقت آنے پر ضرور لیں گے اور نقصان سراسر برسراقتدار جماعتوں کو پہنچے گا۔
یہ تو ایک شعبہ کی بات کی ہے، لوگ اس کی وجہ سے گورننس پر سوال اٹھا رہے ہیں، یوں بھی ان کو چین کہاں ہے؟ لاہور میں پی ایس ایل کا میلہ چل رہا ہے، اس میلے نے شدید گرمی میں ٹریفک کا برا حال کر رکھا ہے، دن میں کم از کم بھی چار بار ٹیموں کی آمد و رفت کے موقع پر ٹریفک روک دی جاتی ہے اور مال روڈ سے سٹیڈیم کے پورے راستے کے اطراف گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں، اس کے بعد یہ جام کم از کم دو تین گھنٹے تک چلتا ہے۔ ٹیموں کی یہ آمد و رفت پی ایس ایل کی وجہ سے ہے تو اس دوران کئی بار وی وی آئی پی پروٹوکول کے لئے بھی یہی حال کیا جاتا ہے۔ حالانکہ حاکمان بالا کے مطابق پروٹوکول کے حوالے سے کم تر وقت کے لئے عوام کو پریشان کرنا چاہیے، لیکن یہ لوگ غالباً جاہل اور گمراہ ہیں کہ ان پریشانیوں کے عادی نہیں ہوتے اگر ان میں احتجاج کی سکت نہیں اور دل کا بخار سوشل میڈیا ہی کے ذریعے نکالتے ہیں تو پھر ہم جیسے قلم کے مزدوروں کو بتا بتا کر کیوں پریشان کرتے ہیں، بات کرنا ہے تو اپنے اپنے حلقے کے ایم پی اے اور ایم این اے حضرات سے کریں، کیا ان حضرات کا کام صرف معاوضے بڑھوانا ہے اور قارئین! آپ نے نوٹس کیا کہ یوں تو سیاستدان، سیاسی جماعتیں اور رہنما ایک دوسرے سے برسرپیکار نظر آتے ہیں، لیکن جب معاوضے بڑھانے کی باری آئے تو سب کو منظور اور مخالفوں کے منہ پر بھی تالے لگ جاتے ہیں۔
اب نئے سال کابجٹ آ رہا ہے، بازار میں مہنگائی نے عوام کا بُرا حال کر رکھا ہے، وہ خوفزدہ ہیں کہ بجٹ نئے مسائل لے کر آئے گا، ان کی آمدنی تو نہیں بڑھے گی، اخراجات میں اضافہ ہوگا، جو حکومت ان پر اتنی مہربان ہے کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم کے نرخوں میں بڑی کمی کا فائدہ بھی خود لے لیااسے صارفین تک منتقل نہیں کیا،باقی رہا مہنگائی کی شرح صفر ہونے کا معاملہ تو عوام چاہتے ہیں کہ وزراء خود ایک عام آدمی کے روپ میں اشیاء خوردنی اور ضرورت خرید کر تجربہ کرلیں، اس شدید گرمی میں اگر فارمی انڈے 330روپے درجن سے مہنگے ہوں اور برائلر مرغی کا گوشت 650روپے فی کلو ہو تو لوگ کیا کریں کہ بکرے کا گوشت تو صرف منافع خور تاجر اور اوپر کی کمائی والے سرکاری ملازم ہی کھاتے ہیں۔

