بجلی کی قیمت میں کمی اور مہنگی بجلی کا ڈرامہ!

وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے بجلی کی قیمت میں گھریلو صارفین کیلئے سات روپے 41 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کیا ہے، جس سے عام آدمی کو یقینی طور پر ریلیف ملے گا۔ اور بجلی کی قیمت کم ہو کر 40روپے فی یونٹ کے آس پاس رہے گی جبکہ کمرشل یونٹ بھی 60روپے کے آس پاس رہے گا۔ اگرچہ مجھے چند سال پہلے کے وہ دن یاد آتے ہیں جب بجلی کا یونٹ پندرہ سے بیس روپے تک کا تھا۔ اور پھر پچھلے دو تین سال میں یہ 65روپے تک چلا گیا اور عام آدمی کی چیخیں نکل گئیں بلکہ ان کی بھی جو کسی حد تک مہنگی بجلی افورڈکر سکتے تھے۔اب آپ پوچھیں گے کہ اچانک دو تین سالوں میں بجلی کی قیمت 65روپے فی یونٹ تک کیسے پہنچ گئی؟ اس حوالے سے تحریک انصاف الزام پی ڈی ایم اور موجودہ حکومت پر ڈالتی ہے، جبکہ موجودہ حکومت تحریک انصاف کو مورد الزام ٹھہراتی ہے کہ اُس نے اپنے دور میں نئی آنے والی حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھائیں۔ لیکن اصل صورتحال یہ ہے کہ سب نے مل کر عوام کی چیخیں نکلوا ئیں۔اور بہانہ لگایا کہ اگر قیمتیں نہ بڑھاتے تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا اور ہمارے پاس پیپر ، انک وغیرہ امپورٹ کرنے کے بھی پیسے نہ ہوتے۔
خیر ، ہوا کچھ یوں کہ 2020میں سابق وزیر خزانہ شوکت عزیز نے سب سے پہلے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا کہ وہ بجلی پر دی جانے والی سبسڈی ختم کردیں گے،پھر ایسا ہی کیا گیا،،، پھر پی ڈی ایم حکومت آئی اور غلط ملط ڈیلز ، ناقص منصوبہ بندیوں اور اسحاق ڈارو مفتاح اسماعیل کی آپسی چپقلش کی وجہ سے ڈالر بھی کنٹرول سے باہر چلا گیا،،، یعنی ڈالر ڈیڑھ سو روپے سے 340 روپے پر چلا گیا،،،اور پھر نت نئے ٹیکسز لگا دیے گئے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ ڈالر کا مہنگی بجلی یا مہنگائی سے کیا لینا دینا۔ لینا دینا ایسے ہے کہ پاکستان گندم‘ چینی‘ کپاس اور خوردنی تیل وغیرہ باہر سے ڈالروں میں منگواتا ہے۔ اور ہماری بجلی ڈالروں میں درآمد شدہ ایل این جی اور تیل پر بن رہی ہے، تو اس کی قیمت بھی ڈالر سے روپے میں تبدیل ہوتی ہے۔ جب ڈالر سستا ہو گا تو تیل اور ایل این جی بھی سستی ہو گی۔ جب ڈالر 140روپے کا تھا تو بجلی کا ریٹ پندرہ سے بیس روپے فی یونٹ تھا۔ اب ڈالر کا ریٹ 280 روپے ہے تو بجلی کا ریٹ 65روپے فی یونٹ تک چلا گیا۔اور پھر پاکستان ہر سال ایک اندازے کے مطابق 35ارب ڈالرز کی توانائی مصنوعات (تیل/ایل این جی) درآمد کرتا ہے جو بجلی بنانے یا ٹرانسپورٹ میں کام آتی ہے۔ اب بتائیں کہ جب دسمبر 2018ءمیں ڈالر کا ریٹ 140روپے تھا اور اب ڈالر ریٹ 280 روپے ہے تو کیسے ممکن ہے کہ اس کا اثر عام آدمی پر نہ پڑتا؟
اس کے علاوہ جب بجلی پر سبسڈی ختم کر دی گئی تھی اور بجلی کی قیمتوں کو بڑھانا مقصود تھا تو اس حوالے سے ایف بی آر کی ”خدمات“ لی گئیں۔ اور بجلی مہنگی کرنے کے نت نئے بہانے تلاش کیے گئے اور ایسے ایسے ٹیکسز لگائے گئے کہ ایف بی آر نے بجلی پر لگائے جانے والے ٹیکسوں سے 1ہزار ارب روپے سالانہ اکٹھا کرنا شروع کر دیے۔ یعنی اس وقت بھی بجلی کے بلوں میں آٹھ طرح کے ٹیکس عائد ہیں جن میں جی ایس ٹی، انکم ٹیکس، ایڈوانس انکم ٹیکس، ایکسٹرا سیلز ٹیکس،ریٹیلرزسیلز ٹیکس، الیکٹریسٹی ڈیوٹی سمیت ٹی وی فیس وغیرہ شامل ہےں۔یعنی 200 یونٹس استعمال کرنے والوں پر ٹیکس تقریباً 22 فیصد ہے جو زیادہ یونٹس کے استعمال سے 35 سے 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس میں 18 فیصد سیلز ٹیکس‘ 9 فیصد تک انکم ٹیکس اور دیگر فکسڈ چارجز شامل ہیں۔ اور پھر یہی نہیں بلکہ جن صارفین کے بل 700 یونٹ ماہانہ سے زیادہ ہیں اُن پر یونیفارم کوارٹرلی ایڈجسمنٹ، فیول چارجز ایڈجسمنٹ، ایڈیشنل سر چارج اور پھر سرچارج وغیرہ کی مد میں 15سے 20ہزار روپے مزید وصول کیے جاتے ہیں۔ یعنی صارفین کو 50ہزار کے بل کے ساتھ 40ہزار روپے کے قریب مزید ادا کرنا ہوتے ہیں….اور پھر یہی نہیں بلکہ بلوں میں ٹیکسز ہی نہیں بلکہ بجلی چوری اورلائن لائسزکا بوجھ بھی صارفین کوہی برداشت کرنا پڑتا ہے…. مزید بتاتا چلوں کہ آپ نے کپیسٹی چارجز کے بارے میں بھی یقینا سنا ہوگا، حکمران تقریباً 1800 ارب روپے سالانہ کپیسٹی چارجز کی مد میں وصول کر رہی ہے جو پانچ ارب روپے روزانہ بنتے ہیں۔ ان میں سے آدھے آئی پی پیز حکومت کی ملکیت ہیں۔ اس وقت تقریباً 17 روپے فی یونٹ کپیسٹی چارجز وصول کیے جا رہے ہیں،لہٰذا اگر سرکاری آئی پی پیز کو ادائیگیاں بند ہو جائیں تو بجلی 8 روپے مزیدسستی ہو سکتی ہے….
بہرحال یہ حقیقت ہے کہ شاید ہی دنیا میں کہیں ایسا ہوتا ہوکہ ایک بنیادی اور ضروری سہولت کے استعمال پر اتنی زیادہ ڈیوٹیز اور ٹیکسز وصول کیے جاتے ہوں۔اور یہ حصہ صرف مرکز کا ہی نہیں بلکہ صوبوں کا بھی ہوتا ہے، یعنی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کے 1000ارب کے ٹیکسز میں سے 400ارب روپے وفاق کو ملتے ہیں جبکہ 600 ارب روپے کا حصہ صوبوں کو چلا جاتا ہے۔الغرض بجلی کے بلوں میں ٹیکسز ’بھتہ دینے کے نظام‘ کے مترادف ہے جس کے ذریعے حکومت عوام کا استحصال کر رہی ہے۔بجلی کے بلوں کی ادائیگی چونکہ شہریوں نے ہر صورت کرنا ہوتی ہے اس لیے حکومت نے یہ مجبوری دیکھتے ہوئے اِس سے فائدہ اٹھایا ہے۔
قصہ مختصرکہ یوں سمجھیں حکومتی ریونیو کا بڑا ذریعہ یہ بل ہی ہیں۔ لہٰذااب اگر حکومت آپ کے اور میرے گھر میں لگے سولر سسٹم کو پروموٹ کرے گی تو اُسے یہ ٹیکس کیسے وصول ہوں گے؟ اس لیے وہ سولر سسٹم پر نت نئے ٹیکس لگا کر اُسے زیادہ بھاﺅ نہیں دے رہے۔ لیکن ویسے یہ کیسا کمال ہے کہ چند سال پہلے جب حکومت نے خود سولر سسٹم کو پروموٹ کیا ،اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے اسے اپنے گھروں کی چھتوں پر لگوا لیااورحکومت نے اس کی درآمدگی پر بھی اچھا خاصا ٹیکس وصول کیا، جس کے بعد حکمرانوں نے ایک تو اس پر ٹیکس لگا دیا، اور دوسرا عوام سے وصول کیا جانے والا یونٹ سستا کردیا۔ یعنی 10روپے میں خرید کر عوام ہی کو 50سے روپے سے زائد کا دیا جانے لگا۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا تھا کہ جب آپ کو سولر سسٹم سے سستی بجلی مل رہی ہے تو آپ آئی پی پیز کو خیر آباد کہہ دیں؟ لیکن یہ کبھی ایسا نہیں کہیں گے، کیوں کے رپورٹس کے مطابق 70فیصد آئی پی پیز کے مالکان حکمران طبقہ ہی ہے۔ تبھی تو جب بھی آئی پی پیز کے حوالے سے ان پر عوام کا دباﺅ بڑھتا ہے، تو یہ خود ہی عالمی عدالتوں میں کیسز لے جانے کا شوشہ چھوڑ کر عوام کو ڈراتے ہیں کہ ان کے درمیان معاہدوں میں عالمی عدالتیں ثالث ہیں! حالانکہ ریاست اگر ریکوڈک کیسز پر ہونے والا 6ارب ڈالر سے زائد کا جرمانہ معاف کروا سکتے ہیں تو ان آئی پی پیز سے کیسے چھٹکارہ حاصل نہیں کر سکتے؟
چلیں سولر اور آئی پی پیز کو بھی چھوڑ دیں، دیا مر بھاشا ڈیم کا بتائیں کہاں تک پہنچا ہے؟ سنا ہے، ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق صرف 18فیصد تکمیل بھی نہیں ہوئی جب کہ موجودہ عرصے تک اس کی 55فیصد تکمیل ہو جانی چاہیے تھی۔ یعنی یہ پراجیکٹ بھی نیلم جہلم پراجیکٹ کی طرح طوالت کا شکار ہو گیا ، اور ڈیڑھ سو ارب روپے کے پراجیکٹ پر 11سو ارب روپے لاگت آئی تھی۔ جبکہ حالیہ پراجیکٹ پر لاگت دوگنا ہونے کا خدشہ بڑھ چکا ہے۔بلکہ رپورٹس کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم کی لاگت 479 ارب سے بڑھ کر 1400 ارب تک پہنچ چکی ہے، 2018 تک دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیری لاگت کا تخمینہ 479 ارب روپے تھا، 6 سال گزرنے کے باوجود منصوبے کا نظر ثانی شدہ پی سی ون تک نہیں بن سکا۔حالانکہ پراجیکٹ کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4500 میگاواٹ ہے اور یہ ہر سال نیشنل گرڈ کو 18 ارب یونٹ کم لاگت اور ماحول دوست پن بجلی مہیا کرے گا۔ لیکن ہم اُسے نہیں بنائیں گے، کیوں کہ یہ ملکی مفاد میں ہے! بلکہ ہم اسے مزید تاخیر کا شکار کرکے اسے 2ہزار ارب روپے سے بھی اوپر لے جائیں گے اور پھر اچھی خاصی کمیشن کھائیں گے۔ بلکہ ہمارا شمار تو دنیا کے اُن ممالک میں ہوتا ہے جو بلاوجہ کے پراجیکٹس شروع کرنے کے ماہر ہیں،،، نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ حال ہی میں پنجاب حکومت سارے کام چھوڑ کر بھکر اور بہاولنگر میں ائیر پورٹ تعمیر کرنے جا رہی ہے،،،بندہ پوچھے کہ یہاں کے لوگوں کو پینے کے لیے صاف پانی میسر نہیں ہے، اور باتیں ائیرپورٹ بنانے کی کی جارہی ہیں۔ ویسے ابھی تک اسلام آباد ائیرپورٹ کی کرپشن کی فائلیں بند نہیں ہوئیں، کہ اگلے دو ائیر پورٹس بننے لگے ہیں،،، کیا کمیشن کھانے اور کرپشن کرنے کے اور طریقے ختم ہوگئے ہیں؟ اور پھر کیا پی آئی اے کے پاس اتنے طیارے ہیں کہ وہ بھکر اور بہاولنگر سے دیگر شہروں کو پروازیں شروع کر سکیں؟ اور پھر پی آئی اے کے پاس جتنے جہاز ہیں کیا وہ ٹھیک کام کر رہے ہیں؟ کیا اُن میں سے دسیوں جہاز تاخیر کا شکار نہیں ہوتے؟،،، جس کی وجہ تکنیکی خرابیاں بتائی جاتی ہیں۔ اور سب سے اہم کہ کیا یہاں کے عوام کو ”جہاز“ چاہیے؟ یا بنیادی سہولتیں چاہیے؟ کیا پنجاب کے ان پسماندہ ترین علاقوں میں لوگ اتنے صاحب حیثیت ہیں کہ ائیر پورٹ جیسی سہولیات کے لیے وہ مرے جا رہے ہیں؟ ان علاقوں میں سڑکیں، موٹروے بنا دیں تو پھر بھی سمجھ آتا ہے، لیکن بغیر کسی تجربے کے ؟ کوئی بھی پراجیکٹ شروع کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔
بہرکیف بجلی کے بلوں میں کمی خوش آئند ہے مگر عوام کو اضافی ٹیکسوں سے چھٹکارہ دیا جائے، سولر سسٹم سے بننے والی بجلی کو پروموٹ کیا جائے، دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبوں کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، تاکہ 8، 10روپے فی یونٹ میں عوام کو بجلی مہیا ہو سکے۔ یہ صرف گھریلو صارفین کو تسکین ہی نہیں بخشے گا بلکہ ہماری ڈوبتی انڈسٹری کو بھی بوسٹ دے گا۔ کیوں کہ بجلی مہنگی ہونے کی غرض سے لوگ یا تو اپنی صنعتوں کو بنگلہ دیش شفٹ کر چکے ہیں یا چین کا رُخ کر چکے ہیں۔ اس لیے خدارا ملک پر رحم کھائیں اور اپنے تھوڑے سے حصے کے لیے ملک کے بہترین پراجیکٹس پر ہاتھ صاف نہ کریں!

اپنا تبصرہ لکھیں