بجٹ آ گیا، عوام سراسیمہ، حکومتی تسلی، بزرگ پنشنروں کی کون سنے گا

ماہ جون شروع ہو چکا، ہفتہ 7جون کو اسلامیان پاکستان سنت ابراہیمی ؑکے اتباع میں حلال جانوروں کو قربان کریں گے اور یہ سالانہ عمل ثواب کیلئے سرانجام دیں گے۔ جانوروں کی قربانی کے حوالے سے بہت کچھ کہا اور لکھا جا رہا ہے۔ آج نماز جمعہ کے خطبات بھی اسی موضوع پر تھے اور علماء کرام قربانی کے آداب اور ثواب کا ذکر کررہے تھے۔ حیرت انگیز طور پر کسی بھی واعظ نے سنت ابراہیمی ؑ کے حوالے سے معاشی تشریح نہ کی اور نہ ہی بتایا کہ یہ سنت ابراہیمی ؑ فرض یا واجب ہے، البتہ واعظین کرام کے فرامین سے قربانی فرض ہی کے درجہ پر فائز ہے اور نمازی یہ سوچ سوچ کر فکر مند تھے کہ جو ثواب مسجد کے منبر سے بتایا جا رہا ہے ان کو اس سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ بہرحال یہ آج کا موضوع نہیں، دعا ہے کہ سخت گرمی کے اس موسم میں یہ سنت بھی پورے دینی احکام کے مطابق ادا ہو جائے، اللہ تعالیٰ جانور بیچنے، خریدنے اور قربانی کرنے والوں کو ہدائت فرمائیں کہ فرمان الٰہی ہی کے مطابق صفائی نصف ایمان ہے اور ہم سب ابھی سے گلی محلوں، بازاروں، سڑکوں اور خوبصورت پارکوں کو خراب کرنے میں مصروف ہیں۔

یہ ذکر تو اس لئے آ گیا کہ عید قربان آ پڑی ہے، ورنہ ذکر مقصود ہے پاکستانی عوام کی مجموعی قربانی کا، یہ مہینہ ہر سال آتا اور عوام سے قربانی لیکر گزر جاتا ہے، اس مرتبہ ذرا سنت والی قربانی بھی آ گئی ہے۔ 10جون وفاقی بجٹ کیلئے مقرر کی گئی ہے۔ صوبے اپنا اپنا بجٹ اس کے بعد پیش کریں گے کہ وہ سب این ایف سی ایوارڈ کے تحت حصے میں آنے والی رقوم کے منتظر ہوتے ہیں کہ صوبائی بجٹ کا زیادہ تر انحصار این ایف سی والے حصے پر ہی ہوتا ہے۔ اب تو بات وفاقی بجٹ ہی کے حوالے سے ہوگی۔ وفاقی حکومت ”سرتوڑ“ کوشش کررہی ہے کہ کسی طرح تنخواہ دار طبقے کو مزید بوجھ سے بجا لیا جائے کہ سالہا سال سے یہ طبقہ ہی قربانی کا بکرا بنتا آیا ہے اور پچھلے دو تین سال سے تو ان کو سال کے سال جو آدھا، پون لقمہ تنخواہوں میں اضافے کی صورت میں دیا جاتا تھا، اس سے بھی محروم چلے آ رہے تھے۔ سنا ہے کہ وزیرخزانہ جو بہت بڑا منصب چھوڑ کر عوامی خدمت کے لئے پرائی قومیت چھوڑ کر تشریف لائے ہیں، وہ بڑی تگ و دو کررہے ہیں کہ تنخواہ داروں کو کچھ رعائت مل جائے لیکن کم بخت ساہوکار مانے تو تب ہے نا، ابھی تک کی اطلاع کے مطابق تو آئی ایم ایف سے سلسلہ جنبانی جاری ہے اور کوئی حتمی خوش خبری نہیں ملی، البتہ ہماری وزارت خزانہ اس ساہوکارکی بات مان کر سینئر شہریوں کا اعزاز پانے والے شہریوں سے ان کے بڑھاپے کا سہارا پنشن کی رعائت بھی چھین چکی اور اب تک کئی ایسے فیصلے کرلئے گئے ہیں کہ اب پنشن کی مراعات کہیں کم ہو جائیں گی کہ خزانے پر پنشنوں کی ادائیگی سے بہت بوجھ پڑتا ہے۔ اس لئے وزیرخزانہ کی بات چیت بھی طفل تسلی نظر آتی اور محسوس ہوتی ہے۔ حکومت تو عوام کی مراعات ہی کم نہیں کر چکی بلکہ اس کے زیر سایہ وہ ادارے جو عوامی جمع پونجی پر خود عیش کرتے ہیں وہ بزرگ شہریوں کو ان کی اپنی جمع کرائی گئی رقوم سے بھی ادائیگی نہیں کرتے۔

حیرت کی بات نہیں، سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دورِ حکومت میں کئی اچھے برے کام اور فیصلے کئے ہوں گے تاہم حالیہ پاک بھارت جھڑپ نے ثابت کیا کہ ایٹمی پروگرام شروع کر کے انہوں نے دفاع کو مضبوطی کی طرف گامزن کر دیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں محنت کشوں کی بھی کسی حد تک پذیرائی ہوئی اور انہوں نے بعض رفاعی ریاستوں کی طرز پر شہریوں،مزدوروں، محنت کشوں کے بڑھاپے کے تحفظ کے لئے باقاعدہ منصوبہ سازی کی اور ایک ایسا محکمہ بنایا،جس کے ذمہ صنعتوں،اداروں اور بڑی فیکٹریوں کو رجسٹرڈ کرنا تھا چنانچہ یہ اصول طے پایا کہ 25سے زیادہ ملازمین والے اداروں کی رجسٹریشن ہو گی، ان ملازمین کا ریکارڈ بنے گا۔ ہر ماہ ان ملازمین کی تنخواہ سے مخصوص شرح کے مطابق پیسے کٹیں گے اور پھر طے شدہ شرح کے مطابق آجر اور وفاقی حکومت اپنا حصہ دے گی۔ یوں یہ مجموعی رقم امانت کے طور پر جمع ہو گی اور اس کے انتظام کے لئے جو ادارہ بنایا گیا،اس کا نام اولڈ ایج ایمپلائرز بینی فٹ انسٹیٹیویٹ رکھا گیا۔ یہ اداہ امانت دار اور اس امر کا ذمہ دار ہے کہ جب کسی رجسٹرڈ ادارے کا رجسٹرڈ ملازم ریٹائر ہو جائے تو اسے بڑھاپے کی پنشن مقررہ شرح سے ادا کی جائے تاکہ روزگار ختم ہونے کے بعد بوڑھے کا کچھ گزارہ ہو، یہ ادارہ بنا تو اس کے قواعد بھی بنے۔1974ء کے مطابق پنشن ایک ہزار تھی جبکہ اس ادارے کے پاس مسلسل جمع ہونے والی رقم بڑھتے بڑھتے اربوں روپے تک پہنچ گئی ہر آنے والی حکمت نے اس سمندر سے اپنا حصہ لیا اور ادارے میں افسروں کی تعداد بڑھتی گئی جن کے مشاہرے لاکھوں اور مراعات بے تحاشہ ہو گئیں اور پھر بڑی رقوم نے لالچ پیدا کیا اور غبن شروع کر دیا گیا، اب تک کم از کم بارہ سے 15ارب روپے کے غبن کے کیس موجود ہیں اور ایک چیئرمین ضمانت پر گمنامی اختیار کئے ہوئے ہیں، جبکہ ملازمین کی حالت یہ ہے کہ ان کی اپنی تنخواہ کی کٹوتی سے جمع رقوم میں سے بار بار کے مطالبات کے بعد ایک ہزار سے تین اور پھر تین سے پانچ، سات اور اب دس ہزار روپے ماہانہ پنشن مل رہی تھی، حالانکہ چار سال پہلے فیصلہ ہوا جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری ہو گیا تھا کہ پنشن کی حد سرکاری طور پر مزدور کی مقررہ کردہ کم از کم ماہانہ مزدوری / تنخواہ کے مطابق ہوگی اور جواب 37ہزار روپے ماہانہ ہے، لیکن ان بدقسمت سینئر شہریوں کی حالت یہ ہے کہ شدید مطالبات کے بعد2024ء میں ای او بی آئی کے بورڈ آف ٹرسٹی کا اجلاس ہوا۔ اس میں پنشن میں 15فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا جو صرف پندرہ سو روپے مہینہ بنتی ہے اور یہ کل ساڑھے گیارہ ہزار ہو گئی،بورڈ کے فیصلے کے بعد جو نوٹیفکیشن جاری ہوا،اس کے مطابق15فیصد اضافے کا اطلاق یکم مئی2024ء سے قرار پایا، بوڑھوں کو حوصلہ ہوا کہ بقایا جات مل جائیں گے لیکن واہ! ری قسمت موجودہ چیئرمین نے یہ فیصلہ ازخود کالعدم قرار دے دیا اور اطلاق یکم مئی2025ء سے قرار دیا، یہ اب تک نہیں ملا، اب جون میں ملنے والی پنشن ساڑھے گیارہ ہزار ہو گی۔

سینئر شہری حیران ہیں کہ ان کی آمدنی اور آجروں کے حصوں میں سے لاکھوں روپے تنخواہ اور بے شمار مراعات پانے اور مبینہ غبن کے مرتکب حضرات ان شہریوں کو ان کی امانت بھی نہیں لوٹاتے اور خود عیش کر رہے ہیں۔اب ان بزرگوں نے وفاقی محتسب سے درخواست کا فیصلہ کیا کہ وہ نہ صرف انکا حق دلائیں بلکہ ادارے کا فرانزک آڈٹ بھی کرا دیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں