لوگ کہتے ہیں کہ سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے والے غریبوں کے بجٹ کے بارے میں کیا جانتے ہوں گے؟ مگرہمارے غریب پرور وفاقی وزیر خزانہ بالکل بھی ایسے نہیں ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ چلئے بس آپ اپنا خیال اپنے تک ہی رکھیے ہمیں نہ بتائیے کیونکہ وہ کہتے ہیں ناں کہ کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جب کوئی وزیر خزانہ ملک کا بے تاج بادشاہ ہو اور اسے حمایت بھی حاصل ہو تو وہ لکشمی دیوی کو اپنے قابو میں کرنے کا گُر تو جانتا ہوگا لیکن غریب عوام کو مہنگائی کے جن کے پنجوں سے چھڑانے کا گُر کتنا جانتا ہوگا اِس بات کا پتا نہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان کے سب مالدار اپنی دولت کو ملک سے باہر بھیج کر پاکستان کو غریب کرنے کا باعث بنے ہیں مگرہمارے وفاقی وزیر خزانہ ایسے مالداروں کا پکا بندوبست کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ بجٹ ہندسوں کا گورکھ دھندہ ہے۔ اس کے عملی فائدے گفتگو کی حد تک ہی ہوتے ہیں مگر ہمارے وفاقی وزیر خزانہ بالکل بھی ایسے نہیں ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں دس فیصد اور سرکاری پنشنروں کی پنشن میں سات فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ سینیٹ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین، قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں میں ڈھائی لاکھ سے ایک دم بڑھا کر اکیس لاکھ سے زائد تک کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ یقینا یہ غریب پروری کی ایک شاندار مثال ہے۔ اس بات پر اعتراض کرنے والوں کو ہمارے غریب پرور پڑھے لکھے وفاقی وزیر خزانہ نے جواب دیا کہ 2016ء سے لے کر اب تک مہنگائی اور افراط زر میں اضافہ ہوا جبکہ سینیٹ چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین، قومی اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کی تنخواہوں میں اب تک اضافہ نہیں ہوا تھا۔ اگر اضافہ ہوا ہوتا تو بات یہیں تک پہنچتی۔ ہمارے غریب پرور پڑھے لکھے وفاقی وزیر خزانہ سے پوچھنا چاہئے کہ کیا باقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنروں کی پنشن میں بھی مہنگائی اور افراط زر کی مناسبت کے مطابق اسی رفتار سے اضافہ کیا گیا ہے؟ آپ کا کیا خیال ہے؟ سرکاری ملازم کے انتقال کے بعد متوفی کی پنشن اس کے شریک حیات کو تاحیات ملتی تھی لیکن اب غریب پروری کی شاندار مثال قائم کرتے ہوئے متوفی کے شریک حیات کو صرف دس سال تک متوفی کی پنشن ادا کی جائے گی یعنی یہ تصور کرلیا گیا ہے کہ دس سال کے بعد متوفی کے شریک حیات کی آمدنی میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا اور وہ پنشن جیسی بھیک کو خود ہی مسترد کردے گی یا کردے گا یا متوفی کے شریک حیات دس سال بعد بیماری، کسمپرسی یا غربت کے ہاتھوں خودبخود مرجائیں گے یا خودکشی کرلیں گے، اس طرح ریاستی خزانے پر بوجھ ختم ہو جائے گا۔ متوفی کے شریک حیات کی پنشن کیلئے دس سال کا عرصہ مخصوص کردینا بے رحمی اور ظالمانہ پن کی انتہا ہوسکتی ہے لیکن یہ کسی معمولی فلاحی ریاست کا بھی کام نہیں ہوسکتا۔ پاکستان میں بہت کم ایسے اقدامات ہیں جو صحیح معنوں میں فلاحی ریاست کے زمرے میں آتے ہیں، ان میں سے ایک سرکاری ملازم کی وفات کے بعد متوفی کی پنشن کا اس کے شریک حیات کو تاحیات ملنا تھا اور اب یہ بجٹ 2025ء میں ہمارے غریب پرور پڑھے لکھے وفاقی وزیر خزانہ نے ختم کردیا ہے۔ خدارابیوائوں سے اِس قسم کی بددعائیں تو نہ لیں۔ آپ کا کیا خیال ہے؟ بجٹ میں سرمایہ داروں کو سرمایہ کاری کیلئےمتوجہ کرنے والی پالیسیوں کو دیکھ کر ایک پرانی کہانی یاد آتی ہے۔ ایک مرتبہ ایک بستی میں بندروں کی تعداد بہت بڑھ گئی۔ مقامی لوگ بندروں سے بہت تنگ آگئے تھے۔ انہیں بندروں سے جان چھڑانے کا کوئی طریقہ نظر نہیں آتا تھا۔ ایک دن اچانک ایک سرمایہ دار بستی میں آیا۔ اس نے اعلان کیا کہ وہ فی بندر سو روپے کا خریدے گا۔ مقامی لوگ بہت حیران ہوئے اور خوش بھی۔ حیران اس لئے کہ بندر جیسے فضول اور بدتمیز جانور اس سرمایہ دار کو کیا فائدہ پہنچا سکتے ہیں؟ خوش اس لیے کہ نہ صرف بندروں سے ان کی جان چھوٹ رہی تھی بلکہ پیسے بھی مل رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے مقامی لوگوں نے سب بندر پکڑے اور سرمایہ دار کو فروخت کر دیئے۔ سرمایہ دار نے بڑی ایمانداری سے ہربندر کے عوض سوروپے ادا کئے۔ پوری بستی میں اب کوئی بندر باقی نہیں بچا تھا۔ سرمایہ دار نے اعلان کیا کہ اب جو بھی بندر لائے گا اسے دگنی قیمت ادا کروں گا۔ لوگ اردگرد پھیل گئے اور بچے کچھے چند بندر بھی پکڑ لائے۔ سرمایہ دار نے انہیں فی بندر دوسو روپے دے دیئے۔ اس سرمایہ دار نے پھر اعلان کیا کہ اب جو بندر لائے گا اسے پانچ سو روپے فی بندر دوں گا۔ بستی کے لوگ بندروں کی تلاش میں مارے مارے پھرنے لگے مگر پورے علاقے میں اب کوئی بندر نہیں بچا تھا۔ جب لوگ سرمایہ دار کے پاس مایوس لوٹے تو اس نے لوگوں کو روشن مستقبل کا انتظار کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک ہفتے کیلئے بستی سے باہر جارہا ہوں تم بندروں کی تلاش جاری رکھو۔ جب واپس آئوں گا تو دوہزار روپے کا فی بندر خریدوں گا۔ مقامی لوگوں نے دن رات بندروں کی تلاش شروع کردی مگر کامیابی نہ ہوئی۔ اسی دوران ان میں سے ایک باشندے نے کہیں سے ایک بندر حاصل کرلیا۔ لوگوں کے پوچھنے پر اس نے یہ راز بتایا کہ سرمایہ دار نے ہم سے جو بندر خریدے تھے وہ ایک پنجرے میں بند ہیں۔ اس کے چوکیدار نے مجھے ان بندروں میں سے ایک بندر ایک ہزار روپے لے کر دے دیا ہے۔ اب میں یہی بندر دوہزار روپے کا سرمایہ دار کو بیچ دوں گا۔ اس طرح مجھے ایک ہزار روپے کا نقد منافع ہوگا۔ لوگوں نے جونہی جدید معیشت کی یہ تھیوری سنی تو چوکیدار کی طرف دوڑ لگا دی اور اس کی منتیں کرنے لگے۔ چوکیدار نے سردمہری والے کاروباری لہجے میں کہا کہ میں تمہاری خوشحالی کے لیے یہ بے ایمانی کرلیتا ہوں، جائو پیسے لے کر آئو۔ غریب لوگوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اکٹھی کی اور چوکیدار کے پاس پہنچ گئے۔ چوکیدار نے ہرایک سے ایک ایک ہزار روپے لیے اور ہرایک کو ایک ایک بندر کی رسی پکڑا دی۔ بندروں کا پنجرہ بالکل خالی ہو گیا۔ بستی والے بندروں کو لے کر اپنے اپنے گھر آگئے اور ان کی خوشی خوشی خدمت کرنے لگے کہ چند دنوں بعد وہ ہر بندر کے عوض ایک ہزار روپے منافع کمائیں گے۔ ایک ہفتے بعد جب لوگ اپنے اپنے بندروں کو لے کر سرمایہ دار کے دفتر پہنچے تو وہاں نہ سرمایہ دار تھا، نہ چوکیدار اور نہ ہی بندروں کا پنجرہ تھا۔ اِس طرح اُس چالاک سرمایہ دار نے لوگوں سے دوسو روپے کے عوض ایک بندر خریدا اور وہی بندر ایک ہزار روپے کے عوض انہی لوگوں کو بیچ دیا۔ یعنی آٹھ سو روپے فی بندر مفت میں منافع کما لیا۔ کہانی ختم ہوئی لیکن آپ اب یہ بتایئے کہ بجٹ میں سرمایہ کاری کی پالیسیوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ چلئے بس آپ اپنا خیال اپنے تک ہی رکھیے ہمیں نہ بتائیے کیونکہ وہ کہتے ہیں ناں کہ کچھ بھی نہ کہا اور کہہ بھی گئے۔

