برامپٹن(نمائندہ خصوصی)کینیڈا کے شہر برامپٹن سے رکنِ پارلیمنٹ سونیا سدھو نے سال 2025 کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ برس برامپٹن اور پورے کینیڈا میں عوامی سہولیات، صحت، انفراسٹرکچر، معیشت اور سماجی بہبود کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی۔
ایم پی سونیا سدھو کے مطابق وفاقی حکومت نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے کیلئے متوسط طبقے پر ٹیکس میں کمی کی، جس سے 22 ملین کینیڈین شہریوں کو مالی ریلیف ملا، جبکہ کینیڈین ڈینٹل کیئر پروگرام کے دائرہ کار کو وسعت دے کر 90 لاکھ افراد کو سہولت فراہم کی گئی۔ نیشنل اسکول فوڈ پروگرام کو مستقل بنیادوں پر نافذ کیا گیا جس سے ملک بھر میں چار لاکھ بچوں کو غذائیت سے بھرپور کھانا میسر آیا۔
انہوں نے بتایا کہ ہیلتھ انفراسٹرکچر فنڈ کے تحت ملک بھر میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی، جس میں برامپٹن میں ٹورنٹو میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے نئے میڈیکل اسکول کیلئے 25 ملین ڈالر شامل ہیں، جس کا مقصد ڈاکٹروں کی کمی پر قابو پانا اور صحت کی سہولیات بہتر بنانا ہے۔ برامپٹن میں ٹرانزٹ اور کمیونٹی انفراسٹرکچر کی بہتری کیلئے179 ملین ڈالر کی فنڈنگ بھی فراہم کی گئی۔
ایم پی سونیا سدھو نے کہا کہ ہاؤسنگ کے شعبے میں 13 ارب ڈالر کے پروگرام “بلڈ کینیڈا ہومز” کے ذریعے گھروں کی تعمیر کی رفتار دوگنی کی جا رہی ہے، جبکہ 70 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی گئی جو کینیڈا کی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری قرار دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے انفراسٹرکچر کیلئے 900 ملین ڈالر، بائے کینیڈین پالیسی کے تحت 100 ملین ڈالر، اسٹریٹیجک ریسپانس فنڈ کیلئے5 ارب ڈالر اور ریجنل ٹیرف ریسپانس انیشی ایٹو کیلئے ایک ارب ڈالر مختص کیے گئے تاکہ کاروباری طبقے کو عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے۔
سونیا سدھو کے مطابق تجارتی مواقع بڑھانے کیلئےٹریڈ ڈائیورسفیکیشن کوریڈورز فنڈ کے تحت سات سال میں 5 ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات ایک مضبوط، محفوظ اور خوشحال کینیڈا کی بنیاد ہیں۔
سونیا سدھو نے نئے سال 2026 کے آغاز پر برامپٹن کے عوام کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ بھی کمیونٹی، کاروباری شخصیات اور مقامی قیادت کے ساتھ مل کر ترقی کے سفر کو آگے بڑھاتی رہیں گی۔

