برامپٹن: سونیا سدھو کی چوتھی سالانہ عالمی یومِ ذیابیطس پرپرچم کشائی تقریب میں شرکت

برامپٹن، اونٹاریو (نمائندہ خصوصی) برامپٹن ساؤتھ کی ممبر پارلیمنٹ سونیا سدھو نے برامپٹن سٹی ہال میں چوتھی سالانہ عالمی یومِ ذیابیطس پر پرچم کشائی کی تقریب کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب ذیابیطس کے شعور کو بیدار کرنے اور اس بیماری سے متاثرہ لاکھوں کینیڈین شہریوں کیلئے حمایت کے اظہار کیلئے منائی گئی۔

افتتاحی خطاب میں سونیا سدھو نے ذیابیطس کے ابتدائی معائنے اور اسکریننگ کی اہمیت پر زور دیا اور ڈائناکیر کا شکریہ ادا کیا جس نے تقریب میں مفت ذیابیطس ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کی۔ انہوں نے کہا، “ہم یہاں پرچم کشائی کے ساتھ ساتھ ان افراد اور خاندانوں کیلئے شعور بیدار کرنے اور حمایت کے اظہار کیلئے جمع ہوئے ہیں جو ہماری کمیونٹی اور پورے کینیڈا میں ذیابیطس سے متاثر ہیں۔”

تقریب میں مختلف حکومتی سطحوں کے نمائندوں نے شرکت کی، جن میں میئر پیٹرک براؤن، کونسلر نوَجیت کور برار، ممبر پارلیمنٹ منیندر سدھو، ایم پی روبی سہوتا، اور ایم پی شفقت علی شامل تھے۔ اس کے علاوہ قومی تنظیموں جیسے کہ ڈائبیٹس کینیڈا، جے ڈی آر ایف، بریک تھرو ٹی ون ڈی، ولیمز اوسلر ہیلتھ، اور ڈائناکیر کے نمائندوں اور کمیونٹی رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ کمیونٹی رہنماؤں اور مریضوں نے اپنے تجربات اور معلومات بھی شیئر کیں۔

ایم پی سونیا سدھو نے ذیابیطس کی دیکھ بھال اور اس کی روک تھام کے حوالے سے اہم پیش رفتوں پر روشنی ڈالی اور اپنے نجی ممبر بل سی-237 کا حوالہ دیا جس کے ذریعے کینیڈا میں ذیابیطس کیلئے ایک قومی فریم ورک قائم کیا گیا۔ انہوں نے کہا، “ہماری حکومت کی حالیہ فارما کیئر قانون سازی ایک بہت بڑی پیش رفت ہے، جو کہ ذیابیطس سے متاثرہ تین اور ایک لاکھ سے زیادہ کینیڈین شہریوں کو ان ادویات اور وسائل تک رسائی فراہم کرتی ہے جن کی انہیں ضرورت ہے۔”

تقریب کا ایک اہم حصہ ڈائناکیر کی طرف سے فراہم کردہ موبائل ٹیسٹنگ کلینک تھا، جس میں شرکاء کو مفت ذیابیطس ٹیسٹ کروانے کا موقع فراہم کیا گیا۔ یہ اقدام اسکریننگ اور ابتدائی معائنے کو فروغ دینے کی ایک وسیع کوشش کا حصہ ہے، جو کہ قومی فریم ورک کے اہم اجزاء ہیں۔ موبائل کلینک میں تربیت یافتہ طبی ماہرین نے ٹیسٹ کیے اور ذیابیطس کی دیکھ بھال اور اس سے بچاؤ کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کیں۔
جیسے جیسے کینیڈا ذیابیطس کی تحقیق اور جدت میں آگے بڑھ رہا ہے، سدھو نے مستقبل کیلئے اُمید کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “کینیڈا انسولین کا جائے پیدائش ہے، اور موجودہ پیش رفت کے ساتھ، مجھے یقین ہے کہ ہم ٹائپ 1 ذیابیطس کا علاج دریافت کرنے کے راستے پر ہیں۔”

تقریب کا اختتام کینیڈین شہریوں سے ذیابیطس کی تحقیق اور اس کی وکالت میں جاری کوششوں کی حمایت کی اپیل کے ساتھ ہوا۔ سدھو نے کہا، “آئیے ہم اپنے ڈاکٹروں، محققین اور وکلاء کی حمایت جاری رکھیں۔ مل کر ہم ذیابیطس کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔”

اپنا تبصرہ لکھیں