لندن(نمائندہ خصوصی)مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے بڑے صاحبزادے حسن نواز کو برطانیہ میں ٹیکس ڈیفالٹر قرار دیتے ہوئے ان پر 52 لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

حکومت برطانیہ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ایون فیلڈ ہاؤس پارک لین کے رہائشی پراپرٹی ڈیلر حسن نواز نے 5 اپریل 2015 سے 6 اپریل 2016 تک تقریباً 94 لاکھ پاؤنڈ کا ٹیکس ادا نہیں کیا۔برطانوی ٹیکس اتھارٹی نے حسن نواز پر 52 لاکھ پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کر دیا ہے اور تمام تفصیلات سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردی گئی ہیں۔

یاد رہےکہ حسن نواز نے گزشتہ سال نومبر میں ٹیکس چوری سے بچنے کیلئےخود کو دیوالیہ ڈکلئیر کر دیا تھا۔ حسن نواز شریف کو برطانوی حکومت کے ٹیکس ریونیو ڈپارٹمنٹ کے ٹیکس کیس میں دیوالیہ قرار دیا گیا تھا۔

لندن ہائیکورٹ کے مطابق حسن نواز کو 2023 کے کیس نمبر 694 میں دیوالیہ قراردیا گیا ہے، حسن نواز سے متعلق کیس 25 اگست 2023 کو فائل کیا گیا تھا۔تاہم برطانوی قوانین کے تحت ٹیکس چوری کی مد میں جرمانے کو دیوالیہ ہونے پر بھی معاف نہیں کیا جاتا ہے اور اسے سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے۔
حسن نواز کے قریبی قانونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ریونیو کسٹم ڈپارٹمنٹ کے آج شائع شدہ “اعدادوشمار” پرانی کہانی ہے.حسن نواز نے خود کو کورٹ میں دیوالیہ ڈکلئیر کیا تھا اب کیس کے صرف اعدادوشمار سامنے آئے ہیں. قانونی ذرائع کاکہنا ہے کہ پرانی کہانی کو ایک مرتبہ پھر دھرایا گیا ہے.معاملہ 10مہینے پرانا ہے جب حسن نواز نے تمام ٹیکس جمع کردئیے تھے.
تقریبا چھ برس بعد ایچ ایم آر سی نے اس وقت کے ٹیکسز پر انکوائری شروع کی جو قانونی طور پر کرنی ہی نہیں چاہیے تھی.مخصوص وقت گزر جانے کے بعد حسن نواز نے یہ موقف اپنایا تھا کہ اب محکمہ ٹیکس کے ٹیکس طلبی کا مطالبہ درست نہیں.حسن نواز کے قانونی ذرائع کے مطابق کورٹ میں دیوالیہ پن شو کرکے ایک اصولی موقف اپنایا تھا.
حسن نواز کا دیوالیہ پن 29 اپریل 2025 میں ختم ہونا ہے.

