اوٹاوا(نمائندہ خصوصی) برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے اسرائیل کو خبردار کیا کہ اگر اس نے غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رکھیں اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں برقرار رکھیں تو ان ممالک کی جانب سے “ٹھوس اقدامات” کیے جا سکتے ہیں، جن میں پابندیاں بھی شامل ہیں۔
ان ممالک نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں اور فوجی کارروائیوں کو “غیر متناسب” قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر مکمل اور بلا رکاوٹ امداد کی فراہمی بحال کی جائے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ اسٹیفان سیجورنے نے کہا کہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کیلئےمختلف اقدامات، بشمول پابندیاں، زیر غور ہیں تاکہ انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسرائیل نے حال ہی میں غزہ میں محدود مقدار میں امدادی سامان داخل ہونے کی اجازت دی ہے تاہم اقوام متحدہ اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو ناکافی قرار دیا ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے امداد کی محدود بحالی کو “قحط سے بچنے” کیلئےضروری قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی غزہ پر مکمل کنٹرول برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔
بین الاقوامی برادری، خاص طور پر برطانیہ، فرانس اور کینیڈا، نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی امداد کی فراہمی کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال نہ کرے اور غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کیلئےفوری اقدامات کرے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور بین الاقوامی برادری اسرائیل پر دباؤ بڑھا رہی ہے تاکہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکے اور امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

