لندن (نمائندہ خصوصی، اے ایف پی)برطانیہ میں دن کے اوقات میں ٹیلی وژن اور آن لائن پلیٹ فارمز پر جنک فوڈ کے اشتہارات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جسے حکومت نے بچوں میں موٹاپے سے نمٹنے کیلئے دنیا میں اپنی نوعیت کا اہم اقدام قرار دیا ہے۔
حکومت کے مطابق یہ پابندی ان مصنوعات کے اشتہارات پر لاگو ہوگی جن میں چکنائی، نمک یا چینی کی مقدار زیادہ ہو۔ وزارتِ صحت کے مطابق اس اقدام سے بچوں کی خوراک سے سالانہ تقریباً 7.2 ارب کیلوریز کم ہو سکیں گی، جس سے موٹاپے کے شکار بچوں کی تعداد میں تقریباً 20 ہزار کمی اور صحت کے شعبے میں دو ارب ڈالر کے فوائد متوقع ہیں۔
یہ پابندی رات 9 بجے سے پہلے نشر ہونے والے ٹی وی اشتہارات اور ہر وقت آن لائن اشتہارات پر نافذ ہوگی۔ اس اقدام کے تحت مقامی انتظامیہ کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ اسکولوں کے باہر فاسٹ فوڈ دکانیں قائم ہونے سے روک سکے۔
وزیر صحت ایشلے ڈالٹن نے کہا کہ رات 9 بجے سے پہلے جنک فوڈ کے اشتہارات محدود کرنے اور آن لائن اشتہارات پر پابندی سے غیر صحت مند خوراک کی غیر ضروری تشہیر میں نمایاں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نیشنل ہیلتھ سروس کو صرف علاج تک محدود رکھنے کے بجائے بیماریوں کی روک تھام پر بھی توجہ دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں پرائمری اسکول میں داخل ہونے والے تقریباً 22 فیصد بچے زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں، جبکہ سیکنڈری اسکول کی عمر تک پہنچتے پہنچتے یہ شرح ایک تہائی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ دانتوں کی خرابی کم عمر بچوں میں اسپتال داخلے کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے۔
اوبیسیٹی ہیلتھ الائنس کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین جینر نے اس فیصلے کو بچوں کو غیر صحت مند خوراک اور مشروبات کے اشتہارات سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کی جانب خوش آئند اور طویل عرصے سے منتظر قدم قرار دیا ہے۔
یہ نیا اقدام دسمبر 2024 میں کیے گئے اقدامات کا تسلسل ہے، جن میں ملک شیکس، ریڈی ٹو ڈرنک کافی اور میٹھے دہی والے مشروبات جیسی پیک شدہ اشیا پر شوگر ٹیکس میں توسیع کی گئی تھی۔

