برطانیہ: عام انتخابات میں ووٹنگ کی عمر 16 سال کرنے کا فیصلہ

لندن(نامہ نگار)برطانوی حکومت نے عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی کم از کم عمر 18 سے گھٹا کر 16 سال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس اقدام کو “جمہوریت کی مضبوطی” قرار دیا اور کہا کہ “اگر نوجوان کام کر سکتے ہیں اور ٹیکس ادا کرتے ہیں، تو انہیں ووٹ دینے کا بھی حق ہونا چاہیے۔”

یہ فیصلہ لیبر پارٹی کے ان وعدوں کا حصہ ہے جو انہوں نے اقتدار سنبھالنے سے قبل کیے تھے۔ حکومت جلد پارلیمنٹ میں قانون سازی کرے گی، جہاں لیبر کو اکثریت حاصل ہے، اس لیے اس تبدیلی کے منظور ہونے کا امکان روشن ہے۔

ناقدین نے اس اقدام کو متنازع قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئی ووٹر بیس لیبر پارٹی کو فائدہ دے گی، کیونکہ نوجوان اکثر بائیں بازو کی سیاست کے حامی ہوتے ہیں۔حکومت اس تبدیلی کو اسکاٹ لینڈ اور ویلز کی علاقائی اسمبلیوں کی طرز پر جمہوریت کی ہم آہنگی کا عمل قرار دیتی ہے، جہاں پہلے ہی 16 سال کے نوجوانوں کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے۔

انسٹی ٹیوٹ فار پبلک پالیسی ریسرچ کے مطابق ووٹنگ کی عمر کم کرنے اور خودکار ووٹر رجسٹریشن سے تقریباً 95 لاکھ نئے ووٹرز شامل ہو سکتے ہیں۔خیال رہے کہ دنیا کے چند ہی ممالک — جیسے آسٹریا، برازیل، اور ارجنٹائن — میں ووٹنگ کی عمر 16 سال ہے۔

اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی نے فیصلے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اگر 16 سال کے نوجوان شراب، لاٹری ٹکٹ، یا شادی کے قانونی فیصلے نہیں کر سکتے، تو ووٹ کا حق دینا تضاد ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں