برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواستوں میں پاکستانی شہری سرفہرست آگئے

لندن(نمائندہ خصوصی) برطانوی وزارت داخلہ (ہوم آفس) کی تازہ رپورٹ کے مطابق مارچ 2025 میں ختم ہونے والے سال کے دوران برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دینے والے افراد میں پاکستانی شہریوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ اس عرصے میں کل 109343افراد نے برطانیہ میں پناہ حاصل کرنے کی درخواست دی، جن میں 11048پاکستانی شہری شامل ہیں۔

رپورٹ میں گزشتہ سال 2023-24 میں پاکستانی شہری اس فہرست میں تیسرے نمبر پر تھے، جب 7003 پاکستانیوں نے پناہ کی درخواست دی تھی جبکہ اس سال واضح اضافے کے ساتھ پاکستان پہلے نمبر پر آ گیا ہے۔

پاکستان کے بعد افغان شہریوں کی تعداد 8069رہی، جو دوسرے نمبر پر رہے، جب کہ شام سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔برطانوی حکومت کے مطابق 33 فیصد پناہ گزینوں نے چھوٹی کشتیوں کے ذریعے انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ میں داخل ہو کر پناہ کی درخواست دی۔

ہوم آفس کے اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2025 تک 109546افراد ایسے ہیں جن کی پناہ کی درخواستوں پر ابتدائی فیصلے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔واپسی کے اقدامات کے حوالے سے بھی رپورٹ میں پیشرفت بتائی گئی ہے۔ اکتوبر تا دسمبر 2024 میں 2365افراد کو ملک بدر کیا گیا جبکہ جنوری تا مارچ 2025 میں یہ تعداد 2312رہی۔

برطانیہ کی ہوم سیکرٹری یوویٹ کوپر نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا”ہم غیر قانونی پناہ گزینوں اور مجرمانہ پس منظر رکھنے والے غیر ملکیوں کی واپسی کیلئےسخت کارروائی کر رہے ہیں۔ قوانین کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ غیر قانونی مقیم افراد کو واپس بھیجا جا سکے۔”

رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد حکومت عدالتی نظام اور مقامی وسائل پر دباؤ ڈال رہی ہے، جس کے باعث حکومت نے پناہ کی پالیسیوں میں مزید سختی لانے کا عندیہ دیا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں