برطانیہ نے ایران کے خلاف اپنے فوجی اڈے امریکا کو دینے سے انکار کر دیا

لندن (دی ٹیلی گراف) برطانیہ نے ایران کیخلاف ممکنہ امریکی حملے کیلئے اپنے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔اخبار کے مطابق برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے امریکا کی درخواست مسترد کی، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی انتظامیہ ایران پر فضائی کارروائی کے لیے برطانیہ کے رائل ایئر فورس کے بیسز استعمال کرے۔ برطانوی حکومت نے قانونی اور سفارتی خدشات کے سبب اجازت دینے سے انکار کیا۔

برطانوی حکومتی وکلاء نے خبردار کیا کہ اگر امریکا برطانوی ایئر بیسز سے ایران پر حملہ کرتا ہے تو برطانیہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق کسی غیر قانونی کارروائی میں شریک ہونے والا بھی ذمہ دار ہوگا۔

برطانوی اٹارنی جنرل لارڈ ہرمر نے پہلے بھی مشورہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف کسی پیشگی حملے میں برطانیہ کا کردار غیر قانونی ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ صرف اپنے اثاثوں یا اتحادیوں کے دفاع میں حصہ لے۔

اخبار کے مطابق امریکا ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی تیاری کر رہا ہے، جو 2003 کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سب سے بڑی تعیناتی ہے۔ امریکی حکام نے ڈیاگو گارشیا کے فوجی اڈے کا بھی ذکر کیا، جو برطانیہ کے زیر انتظام ہے، لیکن اس کے استعمال کے لیے امریکا کو صرف اطلاع دینا ہوتی ہے، اجازت لینا نہیں۔

سر کیئر اسٹارمر کی حکومت نے حال ہی میں ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت برطانیہ چاگوس جزائر کی خودمختاری ماریشس کو منتقل کرے گا اور امریکا کو 99 سال کے لیے بیس لیز پر دے گا۔برطانوی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ برطانیہ کسی بھی پیشگی حملے میں شامل نہیں ہوگا اور خطے میں اضافی لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے ہیں تاکہ ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی سے برطانوی اور اتحادی اثاثوں کا دفاع کیا جا سکے۔