برطانیہ نے پاکستانی ایئرلائنز پر عائد پانچ سالہ پابندیاں ختم کر دیں

لندن( نمائندہ خصوصی)برطانیہ نے پاکستان کی ایوی ایشن صنعت میں بہتری کے بعد پاکستانی ایئرلائنز پر عائد پانچ سالہ پابندیاں ختم کر دی ہیں۔ اب پی آئی اے سمیت تمام پاکستانی ایئرلائنز برطانیہ میں دوبارہ پروازیں چلانے کی درخواست دے سکتی ہیں۔

برطانیہ کی ایوی ایشن سیفٹی ایگزیکٹو کمیٹی نے 16 جولائی 2025 کو پاکستان اور اس کی تمام ایئرلائنز کو ایئر سیفٹی لسٹ (Air Safety List) سے خارج کر دیا، جس کے نتیجے میں ان پر عائد پانچ سالہ سفری پابندیاں ختم ہو گئیں۔

برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان میں ہوابازی کے شعبے میں اصلاحات اور سیفٹی اقدامات کے مثبت نتائج دیکھنے کے بعد کیا گیا۔ اب پاکستانی ایئرلائنز انفرادی طور پر برطانیہ میں پروازوں کی اجازت کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) حکام نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی ایئرلائن جلد ہی لندن، مانچسٹر اور برمنگھم کیلئے اپنی پروازیں بحال کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے برطانوی فیصلے کو پاکستان کی ہوابازی صنعت پر عالمی اعتماد کی بحالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت فضائی روابط کی بحالی، تجارتی مواقع میں وسعت، اور سمندر پار پاکستانیوں کے لیے آسانی کا باعث بنے گی۔

یاد رہے کہ 2020 میں پی آئی اے کے پائلٹ لائسنس اسکینڈل اور چند ہوابازی حادثات کے بعد یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ نے پاکستانی ایئرلائنز پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے یورپی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق اصلاحات کیں، جن کی تصدیق عالمی ایوی ایشن اداروں نے بھی کی۔

اپنا تبصرہ لکھیں