لندن (خبر ایجنسیاں) برطانیہ میں وزیراعظم کیئراسٹارمر کے ممکنہ استعفے کے حوالے سے قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں، خاص طور پر اُن کے سینئر مشیر کے استعفے اور ایپسٹین فائلز سے منسلک تنازع کے بعد۔
برطانوی وزیراعظم کے قریبی مشیر مورگن مک سوینی کے استعفے نے سیاسی دباؤ میں اضافہ کردیا ہے۔ مک سوینی نے اپنے عہدے سے اس لیے دستبرداری اختیار کی کہ انہوں نے سابق وزیر اعظم پیٹر مینڈلسن کو امریکہ میں سفیر مقرر کرنے کی سفارش کی تھی، جبکہ مینڈلسن کا نام ایپسٹین فائلز میں سامنے آنے والے تنازع سے جڑا ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایپسٹین فائلز سے متعلق تازہ دستاویزات سے ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن میں پیٹر مینڈلسن اور امریکی مجرم جیفری ایپسٹین کے مابین مبینہ روابط دکھائے گئے ہیں، جس پر تنقید میں شدت آئی ہے۔ اس معاملے نے اسٹارمر کی قیادت پر سوالات اٹھائے ہیں اور کچھ لیبر پارٹی رہنما بھی استعفے کا مطالبہ کرنے لگے ہیں۔
اگرچہ وزیراعظم اسٹارمر نے اپنی پوزیشن کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور وہ خبروں میں کہا ہے کہ وہ عوامی خدمت جاری رکھیں گے، لیکن سیاسی بحران کے بیچ اُن کی مدتِ وزارت مشکلات سے دوچار نظر آتی ہے۔واضح رہے کہ پیٹر مینڈلسن خود بھی گذشتہ ہفتے لیبر پارٹی اور ہاؤس آف لارڈز سے مستعفی ہوچکے ہیں، جب ایپسٹین فائلز کے تازہ انکشافات نے تنازع کو مزید بڑھا دیا تھا۔

