مانچسٹر (نامہ نگار)پاکستان کرکٹ کو ایک اور دھچکا اس وقت لگا جب قومی اے ٹیم “پاکستان شاہینز” کے نوجوان کھلاڑی حیدر علی کو برطانیہ میں زیادتی کے الزام میں گریٹر مانچسٹر پولیس نے گرفتار کر لیا۔
غیر ملکی اسپورٹس ویب سائٹ Telecom Asia Sports کی رپورٹ کے مطابق گرفتاری 3 اگست کو بی کینہم گراؤنڈ (Beckenham Ground) پر اس وقت عمل میں آئی جب پاکستان شاہینز ایم سی ایس اے سی کے خلاف میچ کھیل رہے تھے۔
ذرائع کے مطابق یہ کیس پاکستانی نژاد لڑکی کی جانب سے زیادتی کی شکایت پر درج کیا گیا ہے۔ پولیس نے حیدر علی کو گرفتار کرنے کے بعد ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے واقعے کے بعد حیدر علی کو عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک وہ کسی بھی کرکٹ سرگرمی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ بورڈ نے مزید کہا کہ وہ قانونی تقاضوں کا احترام کرتے ہوئے کھلاڑی کو قانونی معاونت فراہم کرے گا، لیکن الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ضابطہ اخلاق کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
حیدر علی اس سے قبل بھی 2021 میں پی ایس ایل کے دوران کووِڈ-19 پروٹوکول کی خلاف ورزی پر معطل کیے جا چکے ہیں۔ اس بار کا واقعہ پاکستان کرکٹ میں نظم و ضبط اور کھلاڑیوں کے طرزِ عمل پر ایک بار پھر سوالیہ نشان بنا رہا ہے۔

