برلن عدالت کا اہم فیصلہ: مہاجرین کو سرحد پر روکنا غیر قانونی قرار

برلن(نامہ نگار) جرمنی کی ایک اعلیٰ عدالت نے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے حکومت کی جانب سے مہاجرین کو ملکی سرحد پر روکنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ اس فیصلے کو یورپ بھر میں مہاجرین کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جرمنی کے آئین اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر فرد کو پناہ کی درخواست دینے کا حق حاصل ہے، اور کسی بھی شخص کو محض سرحد پر موجود ہونے کی بنیاد پر ملک میں داخلے سے روکنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ مہاجرین کو بغیر قانونی کارروائی کے سرحد سے واپس بھیجنا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ جرمنی کے انسانی حقوق کے وعدوں کے بھی خلاف ہے جن کی پاسداری عالمی سطح پر ضروری ہے۔

یہ مقدمہ ان افراد کی جانب سے دائر کیا گیا تھا جنہیں جرمنی-پولینڈ سرحد پر داخلے کی اجازت نہ دی گئی تھی اور انہیں پناہ کی درخواست دیے بغیر ہی واپس کر دیا گیا تھا۔

فیصلے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں نے عدالت کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ مہاجرین کے انسانی وقار، قانونی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی برتری کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد یورپی یونین کے دیگر ممالک پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنی سرحدی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں اور مہاجرین سے متعلق قوانین کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق بنائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں