برٹش کولمبیا (نامہ نگار)کنزرویٹو لیڈر پیئر پوئیلیور نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں قائم لارنس بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔
یہ مطالبہ انہوں نے برٹش کولمبیا کے شہر سَری کے دورے کے موقع پر کیا، جہاں گزشتہ ماہ رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس (RCMP) نے جنوبی ایشیائی کاروباری برادری کو نشانہ بنانے والی بھتہ خوری کی تحقیقات کے دوران دو افراد کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق کچھ کیسز کے تار بشنوئی گروہ سے ملے ہیں، جس کا سربراہ لارنس بشنوئی بھارت کی ایک جیل میں قید ہے۔
پوئیلیور نے کہا کہ اگر اس گروہ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے تو پولیس اور پراسیکیوٹرز کو اس بین الاقوامی بھتہ خور گروہ سے مؤثر طریقے سے نمٹنے میں مدد ملے گی، جو نہ صرف سَری بلکہ کیلگری اور برامپٹن (اونٹاریو) جیسے شہروں میں بھی سرگرم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کنزرویٹو پارٹی پارلیمنٹ کے خزاں کے اجلاس میں سخت قوانین متعارف کرائے گی، جن کے تحت بھتہ خوری کے جرم پر لازمی سزا بڑھا کر پہلی بار کے جرم پر بھی چار سال قید رکھی جائے گی۔
ان کے بقول”ہمارا منصوبہ ’پکڑو اور چھوڑو‘ ضمانت ختم کرتا ہے، بار بار جرم کرنے والوں کیلئے لازمی قید کی سزا لاتا ہے اور بشنوئی دہشت گردوں پر پابندی عائد کرتا ہے، تاکہ یہ نیٹ ورک خود بخود مجرمانہ قرار پائے۔”
واضح رہے کہ جون میں برٹش کولمبیا کے پریمیئر ڈیوڈ ایبی اور گزشتہ ماہ البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ بھی وفاقی حکومت سے یہ مطالبہ کر چکے ہیں۔

