بسنت اور کرکٹ! سوال؟

آج دو مختلف خبریں نظروں سے گذریں،ان کا تعلق کھیل ہی سے ہے۔ پنجاب حکومت نے باقاعدہ قانون سازی کر کے اگلے ماہ لاہور میں سہ روزہ بسنت منانے کا فیصلہ کیا اور اب اس کی تیاریاں ”جشن بہاراں“ سے منسلک کر دی گئی ہیں اس حوالے سے بڑی رنگارنگ تقریبات کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے۔لاہور کے شاہی قلعہ میں جشن بہاراں کی بڑی تقریب بھی ہو گی، حکومت نے جانی اور مالی تحفظ کے لئے قانون میں بڑی پابندیاں عائد کیں۔خصوصی طور پر ڈور کے والے سے باریکی سے ہدایت کی ہے کہ یہ نائیلون یا لوہے کی تار نہ ہو اور نہ ہی ایسا مانجھا لگایا جائے جو قاتل ڈور بن جائے۔اس کے علاوہ پتنگ کا سائز بھی متعین کر دیا گیا ہے اور اس کاروبار سے متعلق حضرات کے لئے رجسٹریشن لازم قرار دی گئی ہے یہ سلسلہ جاری ہے کہ بسنت6-7-8- فروری کو صرف لاہور میں ہو گی کسی اور شہر میں نہیں، قانون کی منشاء کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور پتنگ بازی کے لئے مقامات بھی متعین کر سکتے ہیں قانون میں سزا بھی رکھی گئی جو پانچ سال تک بھی ہو سکتی ہے۔

میں اِس سلسلے میں پہلے بھی عرض کر چکا کہ معترض جو چاہے کہتے ہیں، یہ تہوار کسی مذہب سے موسوم نہیں بلکہ بہار کے موسم کے طور پر ہی منایا جاتا تھا، میں خود بھی اسی لاہور شہر کے اپنے آبائی محلے میں بڑے شوق سے پتنگ بازی کرتا تھا، ڈور سے انگلیاں ضرور زخمی ہو جاتی تھیں لیکن قتل کوئی نہیں ہوتا تھا، البتہ کبھی کبھار پتنگ لوٹنے کے چکر میں سڑک پر بھاگتے ہوئے کوئی حادثے کا شکار ہوتا یا پھر چھت سے نچلی چھت پر چھلانگ لگانے سے زخمی ہوتا تھا تاہم یہ موت کا رقص نہیں تھا اور نہ ہی ڈور ایجاد ہوئی تھیں۔ یہ سب تو نائٹ بسنت شروع ہونے کے ساتھ شروع ہوا،پہلے موٹی ڈور کا سلسلہ بنا، پھر نائیلون کے دھاگے پر مانجھا لگانا شروع کر دیا گیا، ساتھ ہی ساتھ بچوں نے دھاتی باریک تار کا استعمال شروع کر دیا، دھاتی تار سے بجلی فیل ہونے لگی اور نائیلون والی ڈور سے گلے کٹنے لگے۔اس کا سبب بننے والوں نے چیخ و پکار کے بغیر بھی توجہ نہ دی اور یہ سلسلہ روکا نہ جا سکا، حتیٰ کہ موٹر سائیکل سوار حضرات نے راڈ بھی لگانا شروع کئے تھے یہ سب غربت کا کیا دھرا تھا کہ ڈور پتنگ مہنگی ہوتی چلی گئی تھی اور ہمارے دور میں ہمارے بڑے چھوٹے بچوں کے لئے چھوٹی پتنگوں اور عام ڈور کا اہتمام کرتے اور میں خود بھی جوان ہونے تک اسی ڈور اور گڈی سے شوق پورا کرتا رہا۔

جب اموات اور آلات بجلی کا نقصان بڑھتا چلا گیا تو احتجاج شروع ہوا جو پتنگ بازی پر مکمل پابندی پر منتج ہوا اور بہار کا یہ میلہ غربت کے پسینے اور گلے کٹنے کے بہاؤ میں بہہ گیا، اب قدرے اطمینان تھا اگرچہ جب بہار قریب آتی تو پتنگ بازی ہوتی۔ ڈر سے ہی سہی، پولیس بھی اپنی کوشش کرتی تاہم اِکا دُکا واردات ہوتی چلی آئی ہے۔اب حکومت ِ پنجاب کے بہت محتاط انداز سے یہ تہوار سخت سزاؤں والی پابندیوں کے ساتھ منانے کا فیصلہ اور اہتمام کیا ہے، دیکھیں قدرت کیا رنگ دکھاتی ہے۔حکومت کی طرف سے جشن ِ بہاراں کا اہتمام تو ہر سال کیا جاتا ہے جو امسال زیادہ بہتر طریقے سے ہو گا تاہم بسنت کے حوالے سے بعض سوال جنم لیتے ہیں اور ان کا شافی جواب لازم ہے،قانون کے مطابق ڈور کی جو نوعیت طے کی گئی اور پتنگ کا جو سائز مقرر کیا گیا وہ ہمارے والے دور کے درمیانہ درجہ والا ہے، اس سے بڑے کھلاڑی صرف شوق پورا کر سکتے ہیں، پابندی کا احترام ہو تو نوجوان لڑکے ہی پتنگ بازی کریں گے لیکن ان کے لئے پابندی ہے یوں یہ ابہام ہے جسے واضح کرنا ضروری ہے۔ حکومت اور قانون کی منشاء کے مطابق شہریوں کو اپنے تحفظ کے لئے خود بھی اہتمام کرنے کو کہا گیا وہ یہ کہ موٹر سائیکل والے راڈ لگوا لیں،اس ہدایت کی روشنی میں یہ غور نہیں کیا گیا کہ لاہور میں موٹر سائیکلوں اور اب سکوٹیوں کی تعداد کتنی ہے اور پھر راڈ کتنے میں لگے گا، مطلب یہ کہ بسنت منانے والوں کی خاطر موٹر سائیکلوں کے لئے راڈ کہاں سے میسر ہوں گے اور کب لگیں گے۔ لوگ ہیلمٹ خریدنے سے گریز کر کے جرمانہ کرا لیتے ہیں یہ خرچ کیوں برداشت کریں؟ اس کے علاوہ صرف تین روز وہ بھی صرف لاہور کو، دوسرے شہروں میں اس شوق والوں کی گرفتاریاں ہوں گی۔ آپ شوق سے اس ”شوق“ کو پورا ہونے دیں تاہم کچھ امور زیر نظر آئے ہیں ان پر غور کر لیں۔

اب ذرا مقبول ترین عالمی کھیل کی بات ہو جائے۔اتفاقاً حال میں پاکستان کرکٹ ٹیم خوش نصیب ثابت ہو رہی ہے خصوصی طور پر انڈر19 نے کمال کر دکھایا اور کم وبیش آدھی درجن سے زیادہ اچھے کھلاڑی سامنے آئے اور آ رہے ہیں، اب اس نوجوان ٹیم کے سامنے ورلڈکپ کا معرکہ ہے ہماری دُعائیں ان کے ساتھ ہیں۔دوسری طرف ہماری سینئر ٹی20 ٹیم کو بھی کامیابی مل رہی ہے اور دعویٰ ہے کہ ورلڈکپ سے پہلے ٹیم بھرپور تیاریوں کے ساتھ مزین ہو گی۔اس ٹیم کی سلیکشن کے حوالے سے بہت ہی متنازعہ امور سامنے آتے رہے اور اب بھی تحفظات ہیں تاہم ایک طرف اعتراض اور دوسری طرف ٹیم آگے بڑھ رہی ہے۔ شاداب خان فٹ ہو کر ٹیم میں ازخود سلیکشن کے تحت واپس آ گئے اور پہلی سیڑھی پر قدم رکھ دیا اس لئے معترض حضرات غور کرتے رہیں قوم بہرحال اچھی توقعات رکھتی اور قومی کرکٹ ٹیم کے لئے دُعا گو رہتی ہے۔

اسی کرکٹ میں لیگز کا سلسلہ ہے جو آسٹریلیا سے شروع ہوا اور پھیلتا پھیلتا برصغیر میں آیا، بھارت نے آئی پی ایل شروع کی، پاکستان نے سپر لیگ کا آغاز کیا۔ اس کے اب تک دس سیشن ہو گئے اور اب 11واں شروع ہونے والا، تیاریاں جاری ہیں۔ پی ایس ایل اب چھ کی بجائے آٹھ ٹیموں پر مشتمل ہو چکی کہ جمعرات کو نیلامی میں برطانوی سرمایہ کاروں نے 175 کروڑ اور امریکی سرمایہ داروں نے دوسری ٹیم 185 کروڑ میں خرید لی۔ برطانیہ والوں نے حیدر آباد اور امریکہ والوں نے سیالکوٹ نام بھی رکھ لیا اسے بہت بڑی کامیابی قرار دیا گیا کہ پی ایس ایل مینجمنٹ بھی مزید مالدار ہو گی۔ ہم بھی مبارک میں شامل، تاہم ایک سوال یہ ہے کہ سالانہ اتنی بھاری فیس پر خریداری اور پھر ٹیموں کے بھاری بھر اخراجات کے ساتھ مالکان کو کیا فائدہ اور منافع ہو گا اس کی تشریح عوامی مفاد میں ہونا چاہئے۔