پتنگ و گڈا کے سائز کی حد مقرر، صرف 9 تار کی سوتی ڈور کی اجازت
دھاتی تار اور چرخی کے استعمال پر سخت پابندی عائد
بسنت کی ثقافتی پہچان اور انسانی جان کا تحفظ ناگزیر، سیف بسنت 2026 کیلئے
فول پروف انتظامات میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی:ڈی سی لاہور
ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز کی قیادت میں ضلعی انتظامیہ لاہور نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق ثقافتی تہوار بسنت کی محفوظ بحالی اور عوامی تفریح کو یقینی بنانے کیلئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے “سیف بسنت 2026” کے لیے فول پروف انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔
ڈی سی لاہور کی زیر صدارت منعقدہ جائزہ اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، تمام اسسٹنٹ کمشنرز، سول ڈیفنس اور محکمہ تعلیم سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی، جس میں اے ڈی سی جنرل نے جامع حفاظتی پلان پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ضلعی انتظامیہ لاہور نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے پتنگ بازی کی مانیٹرنگ کے لیے ڈرون کیمروں، کنٹرول رومز اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا ہے، جبکہ بسنت پورٹل کے ذریعے اب تک 1900 سے زائد اسٹیک ہولڈرز کی رجسٹریشن مکمل کی جا چکی ہے۔
ڈی سی لاہور کی ہدایت کے مطابق پتنگ بازی کی اجازت صرف 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو ہوگی، جبکہ پتنگوں اور سامان کی تجارت صرف رجسٹرڈ ڈیلرز کے ذریعے 8 فروری تک ممکن ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ لاہور نے واضح کیا ہے کہ پتنگ کا سائز 35×30 انچ اور گڈا 40×34 انچ سے زائد نہیں ہونا چاہیے، جبکہ صرف 9 تار کی سوتی ڈور اور پِنا کے استعمال کی اجازت ہوگی اور چرخی، دھاتی تار یا نائلون ڈور پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
ڈی سی لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز نے تمام اداروں کو سیفٹی ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بسنت لاہور کا ثقافتی ورثہ ہے اور انسانی جانوں کا تحفظ ضلعی انتظامیہ لاہور کی اولین ترجیح ہے، اس سلسلے میں شہریوں کو موٹرسائیکل پر سیفٹی وائر لگانے کی ہدایت کی گئی ہے اور کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔

