آپ یقین مانیں اسے ہماری جیت سمجھیں یا کچھ او ر لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہمیں ایک عرصے بعد جنریشن Zکو ”نیچا “دکھانے کا موقع ملا،،، یعنی ”بسنت “ واحد ”ہنر“ تھا جس سے ہماری نئی جنریشن واقف نہیں تھی، مگر ہم اس میں اپنے آپ کو ماہر بسنت سمجھ رہے تھے،،، خیر لاہور میں بسنت کا تہوار گزرا ، ایسے لگا جیسے جنگ کے ماحول میں خوشیاں لوٹ آئی ہوں،،، لاہور میں گہماگہمی دیکھ کر برسوں کی یادیں تازہ ہوگئیں،،، بلکہ ملک بھر سے کم و بیش بسنت کے تین دنوں میں 9لاکھ گاڑیوں کی لاہور میں آمد ہوئی جس سے آپ عوام کی خوشی کا اندازہ لگا سکتے ہیں،،، بلکہ میں تو یوں کہوں گا کہ لاہوریوں کو سلام کہ بیس برس بعد انہوں نے ہمیں پتنگوں والا آسمان دکھایا،ورنہ تو یہاں آسمان پر قہر کے یا قتل و غارت و دھماکوں کے بادل ہی دیکھے ہیں، ،، بقول شاعر
وہ مرد نہیں جو ڈر جائے ماحول کے خونی منظر سے
اس حال میں جینا لازم ہے جس حال میں جینا مشکل ہے
بہرحال مجھے یہ بات کہنے میں کوئی عار نہیں کہ موجودہ بسنت کوئی میلہ نہیں تھا۔بلکہ عشروں بعد یہ زندگی کو ٹریک پر ڈالنے کی ایک مشق تھی۔ایک دوسرے کے کندھوں پر چڑھ کرلوگوں نے اربوں روپے کی پتنگیں نہیں خریدیں، خوشیاں خریدی ہیں۔آخری بار جوش وخروش کے ساتھ یوں قطار میں لگ کر لمحے خریدتے ہوئے کسی نے کسی کو دیکھا ہو تو بتائے۔یہ وہی شہر ہے جہاں اس طرح کے ہجوم افواہوں پر نکلتے تھے۔ایک آواز پر ہجوم یوحنا آباد اور جوزف کالونی کو راکھ کا ڈھیر بنا دیتے تھے۔استاد، سیاست دان اور وکیل کے سینے میں گولی اتارنے والے کو کندھوں پر اٹھالیا جاتا تھا۔لوگ دائرے بناکر شہری کو سنگسار کرتے تھے،نعرے لگاتے تھے اور تسلی سے اس کی ویڈیو بناتے تھے۔تھانوں اور کچہریوں کا گھیراﺅ کرتے تھے۔یہی انٹرٹینمنٹ تھی،یہی جشن تھا اور یہی مصروفیت تھی،،، لیکن پھر بھی شکر ہے ہم نے بھی مرنے سے پہلے، ایک بار پھر بسنت دیکھ لی، یہ ایک Initiativeتھا، جسے جتنا بھی سراہا جائے کم ہے،،، حالانکہ جیسے میں نے کہا کہ ہم اس تہوار کو بخوشی منایا کرتے تھے،،، لیکن اس بار اسلام آباد بم دھماکے میں شہید ہونے والوں کی وجہ سے دل کرچی کرچی ہوگیا اور پھر بسنت منانے کو دل ہی نہیں کیا ،،، لیکن میں پھر کہوں گا کہ اس قسم کے میلے ٹھیلے یہاں کی روایات رہی ہیں،،، اور ان روایات کو برقرار رہنا چاہیے،،، اس میں عوام کو مہنگی ڈوریں اور پتنگیں ملنے کی شکایات تھیں،، چند ایک ہلاکتیں بھی ہوئیں،،، مگر اس کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے، اور ویسے بھی اسے کامیاب بنانے کا 90فیصد کریڈٹ موٹر سائیکل پر لگائی گئی سیفٹی راڈز کو جاتا ہے، ،، سمجھ سے باہر ہے کہ کیا یہ تار امریکا سے منگوائی گئی ہے؟ یا جاپان میڈ ہے،،،میرے خیال میں اس ڈیڑھ سو روپے کی تار کی وجہ سے گزشتہ 20سال سے بسنت نہیں منائی جا سکی؟ مطلب! ہمیں کوئی عقلمند قوم کہہ سکتا ہے؟ ویسے اس میں ایک اور بھی پہلو تھا کہ حکومت کا منصوبہ بسنت نہیں بلکہ 8فروری کے احتجاج کو روکنا اور لوگوں کی توجہ کو تبدیل کرنا تھا،،، لیکن پھر بھی عوام نے اس میں دلچسپی دکھائی اور ایک وقت کے لیے ایسا لگا جیسے ہمارے عوام کھیلوں اور انٹرٹینمنٹ کے پیاسے ہیں۔
اور پھر ہمارے کئی دوست اس میں مذہب کو بھی لے آئے ،،، لیکن اُنہیں شاید یہ علم نہیں کہ بسنت ہمارا ثقافتی تہوار ہے، اگر کسی ہندو نے مذہب کی آڑ میں پتنگ کا استعمال کیا ہے تو اس میں پتنگ کا قصور کہاں سے آگیا، ،،تاریخ بتاتی ہے کہ پتنگ یا گڈی ہزار سال سے زائد پرانی ہے، یہ ہر تہذیب کا حصہ رہی ہے، گڈی محض تین سو سال پرانی نہیں ہے،،، اگر ہندﺅوں نے گڈی اُڑائی ہے تو پھر گڈی حرام کیسے ہوگئی؟اگر ہندو گھوڑے کی ناچنے کی تربیت کردیتے تو ہم شاید گھوڑے پر سواری کو حرام قرار دے دیتے،، اگر وہ تلوار کے ساتھ کوئی کھیل کھیلتے تو ہم شاید تلوار کو بھی حرام قرار دے دیتے۔ لہٰذاکھیلوں اور جسمانی سرگرمیوں کو الگ اور مذہب کو الگ رہنے دیں،،، چلیں مان لیا کہ گڈی ہندﺅوں کا کھیل ہے تو کرکٹ کہاں سے آیا ہے؟ جیسے ہم نصف صدی تک کافروں کا کھیل کہہ کر اسے دیکھنا بھی گناہ سمجھتے رہے۔ پھر ہاکی کو دیکھ لیں یہ کہاں سے آئی، بیڈمنٹن، اسکوائش، سنوکر یہ سب کھیلیں بھی تو کافروں کی ایجاد ہے، ان میں سے مسلمانوں کاکونسا کھیل ہے؟ مسلمانوں کا کھیل تو محض اونٹ ریس وغیرہ یا شکار کرنا رہ جاتا ہے،،، اور یہ ویسے ہی بہت مہنگے کھیل ہیں۔ بہرحال مذہب کا ان کھیلوں کے ساتھ تعلق جوڑنا دقیانوسی کے سوا کچھ نہیں ہے،،،
لہٰذابسنت جیسے تہواروں کو زندہ رہنا چاہیے،،، اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے لوکل کھیلوں کو ترقی دینی چاہیے،، جن میں سب سے اہم کھیل کبڈی ہے ،یا ماضی قریب میں دیسی کشتی ہوا کرتی تھی،،، یا اس کے علاوہ گلی ڈنڈہ، رسہ کشی، پٹھو گرم وغیرہ شامل تھے،، حالانکہ یہ کھیل پاکستانی پنجاب سے ختم ہو گئے ہیں، مگر انڈیا کے پنجاب میں آج بھی ان کھیلوں کو زندہ رکھا گیا ہے، وہاں آج بھی گلی ڈنڈے کے ٹورنامنٹس ہوتے ہیں،،، کبڈی کی لیگز ہوتی ہیں، جبکہ دیگر کھیلوں میں بھی بھارت ہم سے آگے ہے۔۔۔ ہم نے اپنی ساری کھیلیں آہستہ آہستہ تباہ کردی ہیں،، آپ کیرم بورڈ کو دیکھ لیں، یہ گیم ہر چائے کی دوکان کی زینت ہوا کرتا تھا،،، جس کے بڑے بڑے ٹورنامنٹس بھی ہوا کرتے تھے،،، لیکن آج یہ ساری گیمیں ختم کر دی گئی ہیں،،، بچوں کے کھیلوں میں ”اسٹاپو“ ہوا کرتا تھا،،، لیکن بچوں نے تمام جسمانی سرگرمیاں ہی چھوڑ دی ہوئی ہیں،،، وہ محض آن لائن گیمز یا موبائل گیمز پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔آپ بیساکھی کے میلے کو دیکھ لیں، یہ خالصتاََ دیہاتی میلہ ہے، یعنی جب کسان اپریل میں گندم کی فصل کاٹتے تھے تو اُس وقت وہ اچھی فصل کی خوشی میں میلے کا اہتمام کیا کرتے تھے،،، لیکن میرے ہمنواﺅں نے اسے بھی مذہب کے ساتھ جوڑ کر ختم کردیا،،، میں پھر یہی کہوں گا کہ خدارا کلچرل فیسٹیولز کو مذہب کے ساتھ جوڑنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے،،، ان چیزوں کا براہ راست تعلق لوکل ثقافت سے ہوتا ہے،،، اگر ہندو ہولی کا تہوار مناتے ہیں تو یہی تہوار تھائی لینڈ میں ”واٹر فیسٹیول“ کے طور پر بھی منایا جاتا ہے،،، اس پر نہ تو ہندﺅوں کو اعتراض ہے اور نہ ہی تھائی لینڈ والوں کو،،،
بہرحال بسنت ایک بہترین تہوار ہے،،، لیکن میری سمجھ سے باہر ہے کہ اس پر گزشتہ دو دہائیوں سے پابندی کیوں رہی؟ ابھی بھی تو موٹر سائیکل پر سیفٹی راڈز لگا کر بسنت منائی گئی ہے،،، یہی کام اگر پہلے کر لیا جاتا تو اس میں کیا حرج تھا؟ مجھے یاد ہے کہ جب میں خبریں میں بطور چیف رپورٹر کام کر رہا تھا تو اُس وقت ضیاءشاہد مرحوم نے اسی قسم کے راڈز کا سکیچ بنا کر شائد کیا تھا،،، تاکہ بسنت جیسا فیسٹیول نہ رُکے اور شہریوں کی جانوں کی ضمانت بھی مل جائے۔ اس میں تو کوئی دوسری رائے نہیں کہ سرکار نے بسنت میںبھی پیسہ کمانے کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے ہیں،،، انہوں نے ایک بار پھر من پسند افراد کو ڈوریں اور گڈے بنانے کے ٹھیکے دیے، جس کی وجہ سے عوام نے مہنگی ترین بسنت منائی، اور یہ بھی عوام کا بڑا پن ہے کہ اُنہوں نے اسے جاری رکھا،،، اور دوسرے ملکوں و شہروں سے بھی لوگ آئے اور اسے پرلطف بنایا،،، مشرف دور میں تو بسنت منانے کے لیے باہر سے لوگ آیا کرتے تھے، اگر یہ بسنت دو تین سال میں ہم نے کامیابی سے منعقد کروادی تو یقین مانیں ہم ٹورازم کی بند انڈسٹری کو کھولنے اور اسے منافع بخش بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
بلکہ پورے ملک میں ہمارے جو میلے ٹھیلے لگتے ہیں، اُنہیں پروموٹ کیا جانا چاہیے، جن میں میلہ چراغاں، عرس داتا گنج بخش ؒ ، شندور پولو فیسٹیول ، کیلاش فیسٹیول، لال شہباز قلندرعرس، مال مویشی میلا، سبی میلہ، بابو سر فیسٹیول، نوروز فیسٹیول، لوک میلہ وغیرہ شامل ہیں۔۔۔ ان میلوں کو اگر صحیح انداز میں Facilitateکردیں تو میرے خیال سالانہ اربوں روپے ہم اس انڈسٹری سے کما سکتے ہیں۔ آپ بلوچستان میں سینکڑوں جگہوں کو پروموٹ کر سکتے ہیں، وہاں ایسے ایسے نظارے ہیں کہ آپ حیران رہ جائیں، مگر سب سے پہلے وہاں پر ہمیں امن قائم کرنا ہوگا،،، اس لیے ایسے تہواروں سے منہ پھیرنے کے بجائے ہمیں ان کا رکھوالا بن چاہیے اور اسے پروموٹ کرنا چاہیے تاکہ ہمارا مثبت چہرہ بھی عوام کے سامنے آئے!
بہرکیف یہ خالصتاََ ہمارا لوکل تہوار تھا، جسے حکومت نے منایا اور عوام نے اس پر خوشی کا اظہار کیا،،، اسے اگلے کئی سالوں تک جاری رہنا چاہیے اور اسے سیاسی کارڈ کے طور پر ہر گزاستعمال نہیں کیا جانا چاہیے،،، ویسے بھی سیاست میں وہی کارڈ استعمال ہونا چاہیے جس کا تعلق تعمیر، ترقی، خوشی اور زندگی کے ساتھ ہو۔اگلی بار کسی اور جماعت کی حکومت آئے تو اسے چاہیے کہ وہ بسنت میں پچھلی حکومت کو مات دینے کی کوشش کرے۔ مات دینے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ بسنت پر ہی پابندی لگا دی جائے۔طریقہ یہ ہے کہ بسنت کو پورے ملک میں پھیلا دیا جائے۔مزیدایسے تہواروں کو زندہ کر دیا جائے جو زندگی موت کی جنگ میں نظر انداز ہوگئے ہیں۔
بہت زمانے پہلے جب نظریاتی سرحدیں بچھائی گئیں تو ہمیں چھوٹی چھوٹی کچھ باتیں پڑھائی گئیں۔جیسے ہمیں پڑھایا گیا کہ انسانیت، تہذیب، ثقافت، زبان اور تاریخ ایک ہونے سے کچھ نہیں ہوتا، رواداری کیلئے عقیدے کا ایک ہونا ضروری ہے۔ہمارے آج کے بڑے المیوں کے پیچھے یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔بسنت چھوٹی سی ایک خوشی ہوگی، مگر یہ خوشیاں ہمیں مستقل بنیادوں پر واپس ملنی چاہئیں۔یہ معمولی خوشیاں نہیں ہیں۔یہی خوشیاں ایک دن ہمارے مزاج کو سنواریں گی۔نفرت کو جب سرکار نے اسپانسر کیا تو اداسی بال کھول کر ہمارے گھر کی دیواروں پر لیٹ گئی تھی۔اب سرکار ہی محبت کو اسپانسر کرے گی تو خوشی کو ہمارے گھر کا پتہ ملے گا،،، ورنہ ہم ان الجھنوں کی اتھاہ گہرائیوں میں دفن ہو جائینگے،،، اور ہماری ثقافت بھی ہمارے ساتھ مدفن ہو جائے گی!

