رات بارہ بجتے ہی لاہور شہر میں پتنگ بازی پر عائد پابندی کا اگلے تین روز کیلئے خاتمہ ہوجائیگا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا رات گئے اندرونِ لاہور اور لبرٹی چوک کا دورہ
وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے 519 بسیں، 60 ہزار رکشے، میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین بسنت کے
دوران مفت سروس فراہم کریں گی، شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موٹر سائیکل سڑک پر لانے
سے اجتناب کریں،سیفٹی راڈ کے بغیر موٹر سائیکل سڑک پر لانے کی اجازت نہیں ہوگی:مریم اورنگزیب
پنجاب کے روایتی فیسٹیول بسنت کے آغاز میں چند ہی گھنٹے باقی رہ گئے ہیں۔ منچلوں اور ضلعی انتظامیہ نے بسنت کیلئے اپنی اپنی تیاری مکمل کرلی۔ رات بارہ بجتے ہی لاہور شہر میں پتنگ بازی پر عائد پابندی کا اگلے تین روز کیلئے خاتمہ ہوجاۓ گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے رات گئے اندرونِ لاہور اور لبرٹی چوک کا اچانک دورہ کیا اور بسنت فیسٹیول کے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔دورے کے دوران موچی گیٹ، لبرٹی چوک اور دیگر گنجان آباد علاقوں میں سکیورٹی، ٹریفک، سیفٹی اور انتظامی اقدامات کا موقع پر معائنہ کیا گیا۔ سینئر صوبائی وزیر نے مارکیٹس میں کیو آر کوڈڈ پتنگوں، ان کے مقررہ سائز اور بغیر چرخی کی ڈور کی فروخت کا جائزہ لیا اور بسنت کو محفوظ بنانے کے لیے ایس او پیز پر عملدرآمد کی جانچ کی۔
اندرونِ لاہور کے دورے کے دوران بچوں اور خواتین نے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے ساتھ سیلفیاں بنائیں، جبکہ شہریوں نے روایتی چادر پیش کی اور“مریم نواز زندہ باد”کے نعروں سے بھرپور استقبال کیا۔ مریم اورنگزیب نے اندرونِ لاہور کی مشہور روایتی خطائی بھی کھائی۔ 25 سال بعد بسنت فیسٹیول کی بحالی پر شہریوں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔سینئر صوبائی وزیر نے دکانداروں اور شہریوں سے براہِ راست گفتگو کی، جنہوں نے حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے منظم اور محفوظ بسنت انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ مریم اورنگزیب نے واضح کیا کہ جو ڈور اور پتنگیں ممنوع ہیں ان کے استعمال پر سخت کارروائی کی جائے گی، جبکہ سیفٹی راڈ کے بغیر موٹر سائیکل سڑک پر لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف اور ان کی ٹیم نے منظم اور محفوظ بسنت فیسٹیول کے لیے گزشتہ چار ماہ سے ملٹی سیکٹورل سطح پر بھرپور محنت کی ہے۔ 25 سال بعد بسنت، 35 سال بعد ہارس اینڈ کیٹل شو اور 19 سال بعد میلہ چراغاں کی واپسی پر محمد نواز شریف، محمد شہباز شریف، مریم نواز شریف اور اہلِ پاکستان کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ بسنت کی بحالی محمد نواز شریف کی دیرینہ خواہش پر ممکن ہوئی تاکہ عوام ایک بار پھر اس روایتی تہوار سے لطف اندوز ہو سکیں۔دورے کے دوران محکمہ ہوم، پولیس، ٹریفک پولیس، ٹرانسپورٹ اور ریسکیو 1122 کو موقع پر فوری ہدایات جاری کی گئیں۔ بسنت کے دوران ٹریفک روٹس اور متبادل راستوں کی مؤثر منصوبہ بندی، تمام سیکٹورل انتظامات اور دیے گئے ٹاسک کا بھی موقع پر جائزہ لیا گیا۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ بسنت سے لاہوریوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے ہیں اور یہ تہوار لاہور کی پہچان ہے۔ بسنت کو محفوظ اور منظم بنانے کے لیے پوری حکومتی مشینری متحرک ہے اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف خود ایک ایک انتظام کی نگرانی کر رہی ہیں۔ دورانِ بسنت کسی بھی افسوسناک واقعے سے بچنے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ بسنت کے موقع پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے 519 بسیں، 60 ہزار رکشے، میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین بسنت کے دوران مفت سروس فراہم کریں گی۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور موٹر سائیکل سڑک پر لانے سے حتی الامکان اجتناب کریں۔ سیفٹی راڈ کے بغیر موٹر سائیکل سڑک پر لانے کی اجازت نہیں ہوگی، لہٰذا شہری حفاظتی راڈ لازمی نصب کروائیں یا موٹر سائیکل گھر پر رکھیں۔سینئر صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ بسنت کے موقع پر شہری اپنی چھتوں کو محفوظ بنائیں، حفاظتی انتظامات مکمل کریں اور والدین اپنے بچوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔ لاہوری ثابت کریں کہ وہ خوشی منانا بھی جانتے ہیں اور ذمہ داری کے ساتھ منانا بھی جانتے ہیں۔

