کوئٹہ(نامہ نگار)بلوچستان نیشنل پارٹی(بی این پی) مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل آج احتجاج کے اگلے مرحلے کا اعلان کریں گے. رائٹس ایکٹوسٹس کی حالیہ گرفتاریوں کیخلاف ان کا احتجاج کو چھ روز ہوگئے ہیں۔گزشتہ روز حکومتی وفد اور سردار اختر مینگل کے درمیان مذاکرات کاکوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔

سردار اختر مینگل نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں اور دھرنے پر پولیس کریک ڈاؤن کے خلاف وڈھ سے کوئٹہ تک ’لانگ مارچ‘ کا اعلان کیا تھا۔
دھرنا اس وقت لک پاس پر جاری ہے. ظہور احمد بلیدی، بخت محمد کاکڑ اور سردار نور احمد بنگلزئی پر مشتمل صوبائی حکومت کا وفد بی این پی-مینگل کے سربراہ سے مذاکرات کیلئےپہنچا تھا لیکن انہیں دھرنا ختم کرنے پر راضی نہ کر سکا تھا۔

آج سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اختر مینگل کا کہنا تھا کہ وہ آج شام 5 بجے نئے احتجاجی سلسلے کا اعلان کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے جائز مطالبات پر مذاکرات کیلئے حکومتی وفد آیا تھا، ان کے پاس آزادانہ بات کرنے کا اختیار نہیں تھا،انہوں نے مزید کہا کہ وہ ’پیغام رساں‘ اور ان کے پاس کوئی پاور نہیں تھی، جو ’ان لوگوں کے پاس ہے جو اس صوبے کو حقیقی معنوں میں کنٹرول کرتے ہیں‘۔
اگر انہیں یقین ہے کہ وہ ان مذاکرات سے ہماری توجہ ہٹا سکتے ہیں، تو یہ بات واضح ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر غلط اندازہ لگایا ہے۔ایک عیلحدہ پوسٹ میں سردار اختر مینگل نے لکھا کہ پورے بلوچستان میں انٹرنیٹ کا ’بلیک آؤٹ‘ ہو چکا ہے۔

کل سے بلوچستان میں تمام سیلولر نیٹ ورکس اور وائی فائی بند کر دیے گئے، اس بلیک آؤٹ کا واحد مقصد مظلوموں کی آواز کو خاموش کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سینئر اراکین دھرنے میں شامل ہونے جا رہے تھے، لیکن ان کو دھرنے میں پہنچنے سے روک دیا گیا۔
خندقیں کھودی گئی ہیں مزید کنٹینر رکھے گئے اور فورسز کے اضافی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں. حکومت اپنے داغ دھونے کیلئے جو بھی کوشش کرتی ہے وہ اسے مزید داغدار کر دیتی ہے۔
26 مارچ کو بی این پی-مینگل نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے 250 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا، جبکہ مارچ کے شرکا مستونگ کے قریب پہنچے تھے تو ایک خودکش حملہ آور نے خود کو اڑا لیا تھا، تاہم سردار اختر مینگل اور دیگر محفوظ رہے تھے۔

