بلوچستان ایک بار پھر سرخ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ریاستی بیانات کے مطابق حالیہ دہشت گردانہ کارروائیوں کے بعد 177 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا، مگر یہ اعداد و شمار اپنے اندر کئی سوالات سموئے ہوئے ہیں۔ اگر اتنی بڑی تعداد میں دہشت گرد مارے گئے تو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ وہ آئے کتنے تھے، کہاں سے آئے تھے اور کس منظم نظام کے تحت ایک ہی دن میں بارہ مختلف مقامات اور مختلف شہروں میں حملے ممکن بنائے گئے۔ یہ محض ایک سیکیورٹی واقعہ نہیں بلکہ ریاستی نظم، انٹیلی جنس صلاحیت اور قومی حکمتِ عملی کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ بلوچستان میں حالات ماضی کی نسبت بہتر ہو رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق اس خوش فہمی کی نفی کرتے ہیں۔ ایک ہی دن میں منظم انداز سے کیے گئے حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دہشت گرد نیٹ ورک نہ صرف فعال ہیں بلکہ ان کی منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور لاجسٹک سپورٹ بھی مضبوط ہے۔ یہ سوال انتہائی سنجیدہ ہے کہ کیا اس نوعیت کے مربوط حملے ماضی میں کبھی بلوچستان میں دیکھے گئے؟ جواب نفی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس صورتِ حال کو معمول کا واقعہ سمجھنا خود فریبی کے مترادف ہوگا۔ہم اس معاملے کی سنگینی کو جان چکے ہیں،اب ایک وسیع اور موثر حکمت عملی درکار ہے جو اس سے نمٹ سکے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی بھارتی سرپرستی میں ہو رہی ہے اور دہشت گردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔
اگر یہ مؤقف درست ہے تو پھر یہ مسئلہ صرف بلوچستان یا خیبر پختونخوا تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ براہِ راست قومی سلامتی اور سرحدی پالیسی سے جڑ جاتا ہے۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ آج بھی ہمیں واضح طور پر معلوم نہیں کہ بلوچستان اور کے پی کے کے کن علاقوں میں کون کون سے منظم دہشت گرد گروہ موجود ہیں، جو ایک فون کال یا ایک پیغام پر بیک وقت بارہ شہروں میں حملے کر سکتے ہیں۔ کیا کسی بھی ریاست کے لیے اس سے بڑا سانحہ ہو سکتا ہے؟ یہ ماننا پڑے گا کہ دہشت گرد گھوڑوں پر پیغام رساں استعمال نہیں کرتے۔ وہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل ذرائع، سوشل میڈیا اور خفیہ مواصلاتی نظام استعمال کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے سنجیدگی سے ان کے سوشل میڈیا نیٹ ورکس، کال ڈیٹا، اور ڈیجیٹل کمیونیکیشن کو ٹریس کرنے کی کوشش کی؟ اگر نہیں، تو پھر ہر بار ’’دشوار گزار پہاڑوں‘‘ اور ’’غاروں‘‘ کا جواز پیش کرنا خود اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ سچ یہ ہے کہ اگر کسی کو ڈھونڈنا ہو تو وہ غاروں میں بھی مل جاتا ہے اور اگر نہ ڈھونڈنا ہو تو وہ کھلے عام گھومتا رہتا ہے۔پاکستان کے عوام اب دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی چاہتے ہیں تاہم ریاست کے پاس کسی بھی مسئلے کے حل کیلئےہمیشہ ایک نہیں بلکہ سو راستے ہوتے ہیں۔ طاقت ان میں سے صرف ایک راستہ ہے اور وہ بھی آخری۔ طاقت کا اصل استعمال دکھانے کے لیے نہیں بلکہ ڈرانے کے لیے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم نے طاقت کو ہی واحد حل سمجھ لیا ہے، جبکہ اصل ضرورت ان وجوہات کو سمجھنے کی ہے جو اس مسلسل بدامنی کو جنم دے رہی ہیں۔ جب تک مرض کی تشخیص درست نہ ہو، علاج مؤثر نہیں ہو سکتا۔ حالیہ حملوں میں ایک نجی بینک کو نشانہ بنایا جانا محض اتفاق نہیں۔
یہ ایک سوچے سمجھے بیانیے کا حصہ ہے، جس کا مقصد ریاستی نظام، معیشت اور عوام کے اعتماد کو کمزور کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان کی حکومت اور متعلقہ ادارے عوام کی ذہن سازی کر رہے ہیں؟ کیا لوگوں کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ یہ جنگ ان کی اپنی بقا کی جنگ ہے؟ اگر ایسا نہیں ہو رہا تو پھر ہر عسکری کامیابی عارضی ثابت ہوگی، کیونکہ زمانہ بدل چکا ہے اور جنگیں اب صرف بندوق سے نہیں بلکہ بیانیے سے بھی لڑی جاتی ہیں۔ ایسے میں محض طاقت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے بجائے سنجیدہ اور وسیع تر ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ریاست بلیک میل ہو یا اپنی رٹ سے دستبردار ہو جائے۔ ڈائیلاگ اعلیٰ ظرفی کا تقاضا کرتا ہے، کمزوری کا نہیں۔ ماضی میں ہم نے ’’عام معافی‘‘ کے نام پر کئی عناصر کو چھوڑا، جو بعد میں دوبارہ ریاست کے لیے دردِ سر بنے۔
اس غلطی کو دہرانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ مختلف کالعدم تنظیمیں نظریاتی اور عملی طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ ان کے روابط، فنڈنگ کے ذرائع اور سرپرست اکثر ایک ہی ہوتے ہیں۔ ایسے میں مسئلے کو ٹکڑوں میں بانٹ کر دیکھنا دانش مندی نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک جامع قومی مکالمہ شروع کیا جائے۔ اسی تناظر میں ایک آل پاکستان کانفرنس کی اشد ضرورت ہے، جس میں تمام سیاسی جماعتوں، پارلیمانی قوتوں، قبائلی عمائدین، دانشوروں اور حتیٰ کہ اْن گروہوں کے نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے جن پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پابندیاں مسائل کا حل نہیں ہوتیں، بلکہ مکالمہ ہی وہ راستہ ہے جس سے بند گلیاں کھلتی ہیں۔یورپ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی نے یورپ کو خون میں نہلا دیا، مگر بعد میں وہی دشمن ممالک مذاکرات، مفاہمت اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر اکٹھے ہو گئے۔
آج دو درجن سے زائد ممالک ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہیں۔ اگر وہ ایسا کر سکتے ہیں تو ایک ہی ملک کے باسی آپس میں کیوں نہیں بیٹھ سکتے؟ ایک استاد کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جس استاد کی ہم دل سے عزت کرتے ہیں، اس کی سختی بھی قبول کر لیتے ہیں اور اس کی باتوں کا اثر بھی لیتے ہیں۔ اس کے برعکس جو ہیڈ ماسٹر پی ٹی ماسٹرز کے ذریعے کلاس میں نظم قائم کرنا چاہے، وہ نہ بہتر نتائج دے سکتا ہے اور نہ ہی بہتر انسان تیار کر سکتا ہے۔ بلوچستان کے مسئلے کا حل بھی اسی اصول میں پوشیدہ ہے۔ بلوچستان کو دہشت گردی کے شکنجے سے نکالنے کے لیے آپریشن ضرور کریں لیکن ساتھ ہی یکجہتی، اعتماد سازی اور وسیع پیمانے پر قومی ڈائیلاگ ناگزیر ہے۔ جب تک بلوچستان کو دل سے گلے نہیں لگایا جائے گا، اس کے زخموں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی جائے گی اور اسے قومی دھارے میں باعزت شراکت دار نہیں بنایا جائے گا، تب تک امن ایک خواب ہی رہے گا۔شہدا کے درجات کی بلندی کے لئے دعا ہے۔ یہ وقت نعروں کا نہیں، قومی بصیرت کا ہے۔

