کوئٹہ(نامہ نگار)بلوچستان میں غیرت کے نام پر ہونے والا ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ اس وقت منظرعام پر آیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کو مسلح افراد نے سرعام قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ملک بھر میں شدید غم و غصہ اور مذمت کی لہر دوڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق، 20 سے زائد مسلح افراد نے اس جوڑے کو پہاڑوں میں لے جا کر گولیاں مار کر قتل کیا۔ ویڈیو میں خاتون کو ہاتھ میں قرآن پاک تھامے التجا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس نےسنگینی کو مزید بڑھا دیا۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار سرفراز بگٹی نے ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات اور ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فعل ناقابلِ برداشت ہے اور مجرموں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں بتایا کہ مقتولین کی شناخت ہو چکی ہے اور واقعے کا مقدمہ ریاست کی مدعیت میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اب تک ایک مشتبہ قاتل گرفتار کیا جا چکا ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ “خاتون کے ہاتھ میں قرآن ہے اور قاتل بندوق لئے کھڑا ہے — غیرت کا یہ کون سا معیار ہے؟”
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے واقعے کو “جنس کی بنیاد پر دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “یہ بلوچستان حکومت کیلئے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ مجرموں کو کسی قسم کی رعایت نہ دی جائے۔”
پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ “یہ دو معصوم جانوں کا قتل پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان ہے، قانون سازی اور فیصلہ کن اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔”
جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد نے پوسٹ میں لکھا کہ “کیا پسند کی شادی جرم ہے؟ معصوم جانوں پر ترس نہیں آیا؟”
صحافی حامد میر نے کہا کہ “ایک نام نہاد جرگے نے عدالت بن کر دو انسانوں کی جان لے لی۔ کیا ریاست ان افراد کو سزا دے گی؟”
عاصمہ شیرازی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ “یہ لڑکی بندوق اٹھائے بزدل قاتل سے کہیں زیادہ باہمت ہے۔”
ایک صارف دختر بلوچستان نے لکھا”اپنے ہی گھر کی عزت کو اتنے مردوں میں قتل کر دینا کیا اسے تم عزت و غیرت کہتے ہو؟”
یہ واقعہ صرف ایک جوڑے کے قتل کا معاملہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کیلئے ایک آئینہ ہے — کہ عورت اور مرد کی اپنی مرضی سے شادی آج بھی بعض علاقوں میں “جرم” سمجھی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کیلئےکام کرنے والے حلقوں نے حکومت سے فوری طور پر اس واقعے میں ملوث تمام افراد کی گرفتاری، انصاف کی فراہمی، اور فرسودہ روایات کے خاتمے کیلئےقانون سازی کا مطالبہ کیا ہے۔
بلوچستان حکومت اور پاکستانی عدلیہ پر اب یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس جرم کو ایک مثال بنائیں تاکہ آئندہ کوئی نوجوان جوڑا اپنی پسند کی بنیاد پر اپنی زندگی کا فیصلہ کرتے ہوئے موت کے خوف میں مبتلا نہ ہو۔

