بندے کا پتر یا صرف ڈونلڈ ٹرمپ

گزشتہ پچاس برس سے کچھ زیادہ عرصے میں امریکہ میں جتنی بھی حکومتیں آئیں، ان کے سربراہ مسلمان ممالک اور ان کی حکومتوں کے خلاف سازشوں میں مصروف نظر آئے، وہ زبان سے شعلے اُگلتے اور ہاتھ میں دیا سلائی لیے جلتی ہوئی تیلی ہر اس ملک میں پھینکتے جس کے وسائل پر قبضہ کرنے کے آرزومند ہوتے۔ انہوں نے دنیا بھر میں آگ لگائے رکھی۔ آج یہ آگ امریکہ کے اپنے دامن تک آن پہنچی ہے، امریکہ جل رہا ہے، کہیں آگ کا الاﺅ ہے جو نظر آتا ہے کہیں نظر نہ آنے والی آگ ہے، بالکل ویسی آگ جو روئی کے گودام میں لگتی ہے اور خاموشی سے اندر ہی اندر بڑھتی چلی جاتی ہے پھر اس درجہ بڑھ جاتی ہے کہ اس پر قابو پانا ممکن نہیں رہتا۔ سب کچھ جل کر بھسم ہو جاتا ہے۔
لاس اینجلس کی آتشزدگی ابھی کل کی بات ہے، سب کچھ جل کر راکھ ہو گیا۔ یہ آگ کسی انسانی بے احتیاطی سے لگی یا ایک خاص نسل کے پرندے نے جلتی ہوئی درخت کی شاخوں کو پورے لاس اینجلس میں پھیلا دیا، دونوں کہانیاں سنانے والے آج بھی اپنی کہانی کو درست مانتے ہیں اور اس پرندے کو قصوروار نہیں سمجھتے کیونکہ وائلڈ لائف ماہرین اور پرندوں کے ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ یہ پرندہ تخریب کار نہیں بلکہ رضاکار ہے۔ وہ دیکھتا ہے درخت کی کوئی ٹہنی کہیں جل رہی ہے تو گلشن کو بچانے کے لیے اس جلتی ہوئی ٹہنی کو اپنی چونچ سے اٹھا کر کہیں دور پھینک آتا ہے اور سمجھتا ہے اس نے آگ کو پھیلنے سے روک لیا، آج کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رویہ بھی اس پرندے جیسا ہے۔ انہوں نے اپنے تئیں سوچا وہ امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو اٹھا کر امریکہ سے باہر پھینک دیں گے تو امریکہ کو درپیش مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی مگر معاملہ اس کے الٹ ہو گیا۔ انہوں نے ڈھنگ کے کام کے لیے بے ڈھنگا طریقہ اختیار کیا، پکڑ دھکڑ شروع کر دی، انداز ہتک آمیز تھا، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو نصف شب کے قریب ان کی رہائش گاہوں پر چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا اور سب کے ہاتھ پشت پر یوں باندھے گئے جیسے خطرناک مجرموں کے ساتھ کمر کے ساتھ باندھ دیئے جاتے ہیں۔ امریکہ کی ہر ریاست کے ہر شہر میں ہزاروں افراد ایسے ہیں جن کے امیگریشن کے حوالے سے مقدمات یا اپیلیں عدالتوں میں ہیں، انہیں فیصلوں کا انتظار ہے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ وہ کسی عدالت کو نہیں مانتا۔ کیلیفورنیا کی ریاست اس سلسلے میں مختلف موقف رکھتی ہے وہ غیر قانونی پر اپنے یہاں آئے دنیا بھر کے لوگوں کو اپنے کام کرنے اور قانونی حیثیت اختیار کرنے کے لیے ہر قسم کا تعاون کرتی ہے۔ اس اعتبار سے ہر دلعزیز حکومت اور ریاست کا درجہ رکھتی ہے۔ کیلیفورنیا کے صدر نے ٹرمپ کے فیصلوں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا، سٹے آرڈر حاصل کیا اور غیر قانونی امیگرنٹس کی مدد کے لیے لاکھوں ڈالر کا فنڈ قائم کیا اور اپنے یہاں کام کرنے والی این جی اوز کو بھی معقول فنڈز دیئے کہ ان لوگوں کی قانونی مدد کریں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ سب ایک آنکھ نہ بھایا اس نے لاس اینجلس میں اپنے گارڈ بھجوا رہے اور گرفتاریاں شروع ہو گئیں جس پر وہاں کے گورنر نے احتجاج کیا اور درست کہا کہ مقامی حکومت کی مرضی کے خلاف اس سے پوچھے بغیر وہاں کوئی ایکشن نہیں کیا جا سکتا۔ پس مقامی افراد اور امیگرینٹس بھڑک اٹھے، ہنگامہ آرائی نے فسادات کی شکل اختیار کر لی، دکانیں، بنک، عمارتیں لوٹ لی گئیں۔ بڑے بڑے برینڈز کے سٹور میں پڑی ہر چیز وہ دس ڈالر کی تھی یا ہزار ڈالر کی، کوئی شئے محفوظ نہ رہی جس کے ہاتھ جو کچھ لگا وہ اٹھا لے گیا، لاٹھی چارج ہوا، واٹر کینن استعمال کیا گیا لیکن مظاہرین بپھرے ہوئے تھے کسی کے قابو نہ آئے۔ انہوں نے گاڑیوں اور عمارتوں کے ساتھ ساتھ پٹرول پمپوں کو نذر آتش کرنا شروع کر دیا، جلتی پر تیل کا کام ٹرمپ کے ایک بیان نے کیا جب اس نے کہا کہ وہ وہاں کے گورنر کو گرفتار کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔ اس بیان کے بعد ان کا شدید ترین ردعمل آیا۔ مظاہرین اور رضاکاروں کے درمیان جھڑپیں جنگ میں بدل گئیں، رضاکار پسپا ہونے لگے تو ٹرمپ نے ایک ہزار میرین کا دستہ بھجوا دیا جس میں سات سو افراد مظاہرین کو کچلنے کے لیے سڑکوں پر آ گئے جبکہ تین سو میرین سٹینڈ بائی رہے، ٹھیک چند گھنٹوں میں یہ میرینز بھی پسپا ہونے لگے۔ مظاہرین کی تعداد اندازے سے زیادہ بڑھ گئی جنہوں نے میرینز کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا، لاس اینجلس اور کیلیفورنیا سے پھیلنے والی آگ اب امریکہ کی دیگر ریاستوں کے مختلف شہروں کی طرف بڑھ رہی ہے۔
لاس اینجلس میں اب صرف احتجاج نہیں بلکہ امریکہ سے آزادی کی بات ہو رہی ہے، لوگوں کے ہاتھوں میں میکسیکو کے پرچم ہیں۔ یہ ریاست کبھی میکسیکو کا حصہ ہوا کرتی تھی۔ مظاہرین اور ان امیگرنٹس کا مطالبہ ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ نہیں رہ سکتے، انہیں آزاد کیا جائے۔ امریکہ جو کھیل دنیا کے مختلف ملکوں کے ساتھ کھیلتا رہا وہ اب اس کے اپنے یہاں شروع ہو چکا ہے۔ نوبت کرفیو کے نفاذ تک آ گئی ہے۔ بعض علاقوں میں کرفیو کے ساتھ ساتھ ایمرجنسی بھی نافذ کر دی گئی ہے۔ مزید چار ہزار کمانڈوز کو حکم دیا گیا ہے کہ مظاہرین کو کچل دیا جائے، سپیشل فورسز شہروں میں پہنچ کر پوزیشنز سنبھال چکی ہیں، احتجاج کی لہر نیویارک، شکاگو، آسٹن اور واشنگٹن کے ساتھ ساتھ مضافاتی شہروں تک پہنچ چکی ہے۔ سان فرانسسکو میں حالات کشیدہ تر ہیں۔ ٹرمپ گورنر گیون کو ناپسند کرتے ہیں کیونکہ وہ قانون آئین اور آئینی اختیارات کی بات کرتے ہیں جو شخص ٹرمپ کی ہاں میں ہاں نہ ملائے وہ راندہ¿ درگاہ کر دیا جاتا ہے۔ خواہ اس نے ٹرمپ کیلئے اربوں ڈالر کیوں نہ خرچ کیے ہوں۔ یہ امریکیوں کی طوطا چشمی کی سب سے بڑی مثال ہے۔ ایلون مسک ایک انفرادی مثال ہے جبکہ عراق، ایران، لیبیا، شام، سوڈان، کویت اور غزہ فلسطین کے ساتھ کشمیر اور پاکستان کے معاملات ایسی طوطا چشم پالیسی کا شکار رہے ہیں۔
ٹرمپ نے ہائی سکول کی تعلیم ختم کی تو ان کی والدہ نے ان کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا وہ ڈونلڈ کی عادتوں اور حرکتوں کے علاوہ ہر معاملے میں اس کے غیر سنجیدہ اور ہٹ دھرمی کے رویے سے بہت پریشان رہتی ہیں اور سوچتی ہیں اگر ڈونلڈ کو زندگی میں کوئی اہم منصب یا ذمہ داری مل گئی تو وہ اس کا کیا حشر کرے گا۔ ماں نے پوت کے پاﺅں پالنے میں ہی دیکھ لیے تھے۔ پاکستان میں ہر مسئلے کا علاج ماں کی دعا قرار پاتی ہے۔ امریکی اس پر یقین نہیں رکھتے ورنہ والدہ ڈونلڈ اس کے بندے کا پتر بننے کیلئے دعا کرتیں یا پھر اس کا باپ اس کی بروقت چھتر پریڈ کرتا تو جب بھی وہ بندے کا پتر بن جاتا صرف ڈونلڈ ٹرمپ نہ رہتا۔ ٹرمپ ڈوب رہا ہے وہ اچھے بھلے کام یا نظام کو بگاڑ کر پھر اسے ٹھیک کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ فلسطین، یوکرین، پاکستان کی جنگ اس کی پالیسیوں کی بہترین مثال ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں